Saturday, June 1, 2019

تبدیلی کے منتظر لوگ ایکسپریس اردو

جیفرسن کہتا ہے غاصبوں اور آمروں کے خلاف بغاوت خدا کی اتباع ہے۔19 ویں صدی کے وسط تک تقریباً پوری دنیا میں اختیارات بادشاہوں وآمروں سے عوام تک منتقل ہوچکے تھے جب کہ پوری دنیاکے برعکس 20 ویں صدی میں بھی پاکستان کے عوام اختیارات سے محروم ہیں اوراپنے اختیارات حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں جب کہ اختیارات کے اصل مالک عوام ہی ہوتے ہیں۔

آزادی کے71 سال گذر جانے کے بعد بھی آج ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے ہم نے سفرکاآغاز کیا تھا، سفر کے آغازکے وقت لوگوں نے خوشحالی، ترقی اور بااختیار ہونے کے خواب دیکھے تھے اور اس خواب کو سچ ثابت کرنے کے لیے انھوں نے طویل جدوجہدکی، ان گنت جانی ومالی قربانیاں دیں لیکن 71 سال بیت جانے کے بعد بھی ملک کے اصل مالک غریب ، مفلس ، بدحال ، لاچار اور بے اختیار ہی رہے۔ خوشحال، بااختیار ہونے کے خواب پورا ہونے کے بجائے ڈرائونے خواب بن کر رہ گئے۔

18 ویں صدی میں انگلینڈ میں رونما ہونے والا صنعتی انقلاب یقینا اہم تھا لیکن یہ رینگتا ہوا آگے بڑھا اوربہت سے لوگوں کو اس کی آمد تک کچھ پتہ نہ چلااورکچھ ہی لوگوں نے اس کی اہمیت کو محسو س کیاجب کہ اس کے برعکس انقلاب فرانس اچانک پھٹ پڑا اور یورپ حیران رہ گیا ۔ یورپ اس وقت بادشاہوں اور شہنشا ہوں کے چنگل میں تھا قدیم رومن سلطنت فعال نہیں رہی تھی لیکن یہ کاغذوں میں موجود تھی اور اس کا بھوت پورے یورپ پر سایہ فگن تھا بادشاہوں ، شہنشاہوں ، درباروں اور محلوں کی دنیا کے برعکس عام لوگوں کی سطح سے یہ حیرت انگیز اور خوفناک طوفان اٹھا جس نے مراعات یافتہ طبقہ ، امرا، اور بادشاہ کو پٹک کر رکھ دیا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ یورپ کے بادشاہ اور مراعات یافتہ طبقہ اس عوامی انقلاب کے سامنے خو ف سے کانپنے لگا اور اسی عوام سے خوفزدہ ہوگیا جس کو ذرہ برابر اہمیت نہ دی جاتی تھی اسی عوام کو انھوں نے ایک طویل عرصہ نظرانداز کر رکھا تھا اور انھیں بری طرح سے دبا کے رکھا ہوا تھا۔ انقلاب فرانس آتش فشاں کی طرح پھٹا ۔ انقلاب اور آتش فشاں کسی وجہ یا طویل عمل کے بغیر اچانک نہیں پھٹا کرتے ہم اچانک دھماکے کو دیکھتے ہیں اور حیران و پریشان ہوجاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ پلک جھپکنے میں نہیں ہوا کرتا ہے۔

زمین کی بالائی سطح کے نیچے بہت سے قوتیں ایک عرصہ تک ایک دوسرے کے خلاف کام کرتی ہیں لاوہ پکتارہتا ہے پھر زمین کی پرت اسے مزید دبانے میں ناکام ہو جاتی ہے اور پگھلتا ہوا لاوہ پہاڑکا دھانہ پھاڑکر باہر بہہ نکلتا ہے، بالکل اسی طرح جو قوتیں انقلاب میں پھٹ کر باہر آنکلتی ہیں وہ دراصل معاشرے کی زمین کے نیچے عرصے تک لاوہ کی طرح پکتی رہتی ہیں اگر پانی کو گرم کریں تو بالآخر وہ ابل پڑتا ہے لیکن یہ ابلنے کے نقطے تک اسی وقت پہنچتا ہے، جب اسے گرم سے گرم کرتے جائیں ۔ نظریات اور اقتصادی حالات انقلاب برپا کرتے ہیں لیکن اقتدار میں بیٹھے احمق لوگ ہر اس بات سے آنکھیں بند رکھتے ہیں جوان کے لیے موزوں نہیں ہوتی اور سمجھتے رہتے ہیں کہ انقلاب احتجاج کرنے والے لوگ لاتے ہیں اور ان کو دبانے سے انقلاب دب جاتا ہے۔

احتجاج کرنے والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو موجودہ حالات سے مطمئن نہیں ہوتے اور تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کے لیے کام کرتے رہتے ہیں وہ بذات خو د انقلابی نہیں ہوتے لیکن ہر انقلابی دورکو ایسے عناصر کی معاونت میسر رہتی ہے جو عدم اطمینان اور ہیجان کی پیداوار ہوتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں لوگ محض کسی احتجاج کے اشارے پر بڑا قدم اٹھانے کے لیے متحر ک نہیں ہوجاتے۔

لوگ تو اپنے تحفظ کو سب چیزوں پر مقدم رکھتے ہیں ان کے پاس جوکچھ ہوتا ہے ، اسے بھی گنوانے کاخطرہ نہیں لیتے لیکن جب اقتصادی حالات، بے اختیاری،ان کے نمائندوں کا بے اختیار ہونا، ان کے ووٹ کوکوئی اہمیت اور ان کی رائے کوکوئی حیثیت نہ دینا ، مہنگائی ، بے روزگاری جیسے حالات ہوں اور لوگوں کے روزمر ہ کے مسائل بڑھتے جائیں اور زندگی ناقابل برداشت بوجھ بن جائے تو پھرکمزور سے کمزور آدمی بھی خطرے سے کھیل جانے پر تیارہوجاتا ہے پھر وہ احتجا ج کرنے والوں کی آواز بھی سن لیتا ہے کیونکہ اسے محسوس ہوتاہے کہ یہ ہی اس کی مصیبتوں ، دکھوں اور مشکلات کے خاتمے کا راستہ دکھا رہا ہے۔

پاکستان آج انقلاب کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، انقلاب عوام کے ذہنوں اور دلوں میں دستک دے رہا ہے ملک کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ خوشحال اور بااختیار ہونا چاہتے ہیں۔آج جب کہ پوری دنیا میں مختلف ممالک اپنے آپ کو مزید معاشی اور سیاسی طورپر مستحکم کرنے کی کو ششوں میں لگے ہوئے ہیں جب کہ ہم اختیارات کے عدم توازن کے ایسے گورکھ دھندے میں پڑے ہوئے ہیں کہ جس سے نکلنا بغیرکشیدگی کے ممکن نظر نہیں آرہا۔

پاکستان کے عوام ایسا ملک چاہے ہیں جہاں دہشت گردی نہ ہو، جہاں کوئی مذہبی جنونیت نہ ہو۔ جہاں مہنگائی اور بیروزگاری نہ ہو۔ جہاں تعلیم عام ہو۔ لوگو ں کو مفت صحت ، پینے کا صاف پانی میسر ہو جہاں لوڈ شیڈنگ نہ ہو ، جہاں معاشرے میں عدم برداشت نہ ہو ارسطو کہتا ہے کہ جس نے ریاست کی بنیاد رکھی ہے وہ محسنوں میں سب سے بڑا تھا ریاست کا مقصد اچھی زندگی ہے ریاست کنبوں اورگائوں کا ایسا اجتماع ہے جس میں زندگی خود کفیل ہو جس کے معنی پر مسرت اور باعزت زندگی ہے ۔

ایک سیاسی معاشرے کا وجود محض اجتماع کے لیے نہیں بلکہ بہترین اعمال کے لیے تشکیل پاتا ہے وہ کہتا ہے سیاست انسان تخلیق نہیں کرتی بلکہ جیسے ہیں ان ہی سے کام لیتی ہے حکومت کا کام عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے ۔اس طرح سیاست اخلاقیات میں تبدیل ہوجاتی ہے مملکت کا وجود انسانوں کے لیے ہے انسانوں کاوجود مملکت کے لیے نہیں ہے انسان تو بس ایک ہی مقصد کے لیے پیدا ہوتا ہے اور وہ ہے خوش ہونا۔

اس وقت ناانصافی ، غربت و افلاس ، عدم مساوات ، ظلم وستم و عدم برداشت کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ وحشت زدہ تصویر پاکستان ہے جسے دیکھ کر دنیا کے انسان دہشت زدہ ہوجاتے ہیں ۔جتنی بر بادی اور زیادتی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ ہوئی ہے اس کی مثال ملنا ناممکن ہے ۔ پاکستان کے لوگوں کو پتھر سمجھنے والوں یاد رکھو، وہ بھی گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں ، ان کے سینوں میں بھی دل دھڑکتا ہے وہ بھی خواب دیکھتے ہیں ، وہ بھی سوچتے ہیں ، ان کو اتنا ذلیل وخوار نہ کرو کہ تمہار ی زندگیوں کے لالے پڑجائیں کیونکہ جب لاوہ پھٹا ہے تو سامنے آنے والی ہر چیزکو تہس نہس کردیتا ہے۔ یاد رکھو لاوہ پھٹنے کو ہے دیکھتے ہیں کون بچتا ہے اورکون لاوے کی زد میں آکر جل جاتا ہے۔

The post تبدیلی کے منتظر لوگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2IdDkbE
via IFTTT

ایڈز اور ہم ایکسپریس اردو

رات کے دو بج رہے تھے، سحری کا وقت قریب تھا۔ میں گاڑی میں اکیلا تھا،اشارے پر گاڑی روکی تو کسی نے شیشہ کھٹکھٹایا ، سنسان رات میں اشارے پر رات کے اس پہر یہ کون تھا جو بھیک مانگ رہا تھا۔ ایسا تو کبھی اسلام آباد، راولپنڈی کی سڑکوں پر نہیں ہوا اور یہ پھر ملتان تھا۔

یہ ایک خواجہ سراء تھا، خوب میک ایپ اور حسین لڑکی کا روپ، جیسے کوئی حور ہو۔ میں ایک دم بوکھلا گیا، ڈر کے مارے شیشہ نیچے نہ کیا، تو وہ اور زور سے شیشہ بجانے لگا، مجھے اس سے خوف آرہا تھا۔ ہمت کر کے شیشہ نیچے کیا تو کہنے لگا، بابو کچھ دے دو،عید قریب ہے۔ میں نے پیسے نکالے تو کہنے لگا،تھوڑے اور دے دو، مجھے ایڈز ہے ،اس کی تو میں دوائی لے لوں گی۔

میں دیر تک اس کی آنکھوں کی وحشت پڑھتا رہا، بٹوے میں جتنے پیسے تھے،اس کے ہاتھ پر رکھے اور آگے نکل گیا۔ ایک خواجہ سراء نے رات کے اس پہر مجھے ایک نئی سوچ دی تھی۔ میں ایڈز پر تحقیق میں یونائیٹڈ نیشن کی ایک تنظیم کے ساتھ تحقیق میں مصروف تھا،اور میرے لیے یہ سب حیران کن تھا کہ وہ بیماری جس میں مبتلا 1 لاکھ 45 ہزار پاکستانی،اس سے واقف ہی نہیں،اس خواجہ سراء کو اپنی اس بیماری کا علم بھی تھا،اور وہ اس کا کھلے عام اظہار بھی کررہا تھا اور علاج بھی کرارہا تھا۔مجھ جیسے محقق کے لیے اس میں حیرانی سے زیادہ خوشی کی بات تھی اور اس کا اندازہ مجھے تفصیلات جان کرہوا۔

دنیا میں اس وقت ایڈز کے مریضوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور ان میں 94 لاکھ مریض ایسے ہیں جن کو اپنی بیماری کے بارے میں کوئی جان کاری نہیں ہے۔پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد میں ایڈز کا مرض ہونے کا خدشہ ہے،جن میں سے صرف بیس فیصد کو اپنی بیماری کا علم ہے، صرف 16 فیصد اپنا ٹیسٹ کراتے ہیں جب کہ علاج کے لیے صرف 9 فیصد لوگ حامی بھرتے ہیں اور انھی کو علاج تک رسائی ہے۔یہ خواجہ سراء ان 9 فیصد میں تھا۔ 2010ء سے اب تک ایڈز کے کیسز میں 45 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں ایڈز کا وائرس وبائی شکل اختیار کر چکا ہے۔ستمبر 2017میں چنیوٹ پنجاب میں ایڈز کے 57 کیسز سامنے آئے ، جن میں 17 جان کی بازی ہار گئے اور جب اسکریننگ کیمپ لگا کر وہاں ایڈز کا پتہ چلایا گیا تو آنے والا افراد میں ستر افراد میں ایڈز کے مرض کے وائرس ایچ آئی وی کی تصدیق ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد محکمہ صحت ایکشن میں آیا تو نیشنل ہیلتھ سروسز کی جانب سے سروے کرایا گیا جس کے مطابق پنجاب میں اس وقت ایڈز کے 75 ہزار مریض موجود ہیں،جن میں 26 فیصد کا تعلق وزیر اعلی پنجاب کے آبائی علاقے ڈیرہ غازی خان سے ہے۔

سندھ میں اس وقت ایڈز کے ساٹھ ہزار مریض موجود ہیں، جب کہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ایسے کیسز کی تعداد پندرہ ہزار ہے۔ پاکستان میں پندرہ سال سے زائد عمر کے ایک لاکھ 45 ہزار ایڈز کے مریضوں میں 99 ہزار مرد اور 43 ہزار خواتین ہیں۔ پاکستان میں 21 فیصد منشیات کے عادی افراد میں ایڈز کا وائرس موجود ہے۔اس وقت پنجاب میں ڈیرہ غازی خان اور سندھ میں لاڑکانہ میں یہ مرض بدترین صورتحال اختیار کر چکا ہے اور یہاں ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کی جانب سے صومالیہ طرز کی ایمرجنسی نافذ ہے۔

صرف ڈیرہ غازی خان میں سات ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں ۔ یہاں کا قصبہ کوٹ مبارک پورے پاکستان میں ایڈز کی وباء کا سب سے زیادہ متاثر علاقہ ہے۔ اس کے علاوہ قصبہ سخی سرور، شاہ صدر دین اور جام پور میں بھی ایڈز کے کیسز کی تعداد حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ لاڑکانہ میں حال ہی میں ڈاکٹر مظفر نامی ایک ڈاکٹر کو رتو ڈیر و کے علاقے میںگرفتار کیا گیا۔ یہ بچوں کے ڈاکٹر تھے،ان کی وہاں اچھی خاصی پریکٹس تھی۔ان پر الزام یہ تھاکہ انھوں نے وہاں 45 بچوں کو استعمال شدہ سرنج استعمال کرکے اپنے جسم کا ایڈز کا وائرس منتقل کردیا۔

تحقیقات پر معلوم ہواکہ وہاں کی لوکل انتظامیہ لاڑکانہ میں ایڈز کی وباء پھوٹنے کی ذمے داری کسی پر ڈالنے چاہتی تھی اور یوں ڈاکٹر مظفر کو قربانی کا بکرا بنایا گیا،جب کہ وہ خود فرائض کی ادائیگی میں ایڈز کا شکار ہوئے تھے اور ان کو اس بات کا علم بھی اسکریننگ کے دوران ہی ہوا تھا۔ ملک میں سیاسی ماحول گرم ہوا تو سب سے زیادہ تنقید پاکستان پیپلز پارٹی پر کی جانے لگی کہ سندھ میں صحت کی سہولیات کا یہ حال ہے کہ لاڑکانہ میں بچے ایڈز سے مررہے ہیں اور اس پر توجہ نہیں دی جارہی، جب کہ سیاسی سے زیادہ پریشان کن صورتحال تھی۔ کیونکہ ایڈز کے وائرس کا سندھ ، پنجاب کے نواحی علاقوں اور اب بڑے شہروں میں پھیلنا خطرناک آفت کا پیش خیمہ ہے۔

صومالیہ میں ایڈز کے پھیلائو کی وجہ سے پوری دنیا میں وہاں کے باشندوں کو ویزے کے حصول میں جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،وہ ایک الگ کہانی سہی ، مگر ہمارے ہرے پاسپورٹ پر جب دہشت گردی کے ساتھ ایڈز کا داغ بھی لگ گیا تو ہم دنیا سے مکمل طور پر کٹ جائیں گے۔ سفارتی کے ساتھ ایڈز کا وائرس وبائی شکل اختیار کرتا پھیلتا چلا گیا تو یہ ہیپاٹائیٹس بی اور سی کی طرح پوری کی پوری بستیاں برباد کردے گا ، ہنستے بستے گھر اجاڑ دے گا اور اس طرف کسی قسم کی کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے ہاں شرمناک حد تک ایڈزکے پھیلائو کی سب سے بڑی وجہ وہی ہے، جو افریقہ کے جنگلوں میں وائرس کے 1980 میں دریافت کے وقت پائی گئی تھی۔ یہ وائرس افریقہ میں بندروں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔

The post ایڈز اور ہم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2Wg6EZ6
via IFTTT

رحیم بخش، آزاد کچھ یادیں کچھ باتیں ایکسپریس اردو

23 مئی کو مجھے اطلاع ملی کہ ہمارے کامریڈ محنت کشوں کے استاد ، دانشور، صحافی ترقی پسند تحریک پاکستان اور خصوصاً لیاری کے عوام، محنت کشوں، طالب علموں، نوجوانوں کو انقلابی درس دینے والے رحیم بخش آزاد اپنے لاکھوں دوستوں کا دکھ بانٹنے والے بابائے لیاری ہمارا ساتھ چھوڑ گئے۔

یہ اطلاع بھی مجھے انقلابی دانشور اور معروف صحافی کالم نگار جو امریکا میں رہتے ہیں اور وہیں سے پاکستان کی کہانیاں خصوصی طور پر سندھ کی داستان اخبار میں کالم کے ذریعے ہم تک پہنچ جاتی ہیں شکریہ حسن مجتبیٰ شکریہ مگر یہاں پاکستان اور خاص کر کراچی سے شایع ہونے والے کسی بھی اخبار میں رحیم بخش آزاد کے انتقال کی خبر نہیں چھپی اور نہ ہی کسی ٹی وی چینل نے خبر نشر کی۔

مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوگیا ہے۔ میں جو ہر روزکراچی سٹی اسٹیشن، بولٹن مارکیٹ، آرٹس کونسل، پریس کلب، صدر آتا جاتا رہتا ہوں کئی اخبارات کا مطالعہ بھی کرتا ہوں لیکن بدقسمتی سے 12 روز سے گھر پر ہوں کیونکہ باتھ روم میں گر جانے کی وجہ سے سر اورکمر میں شدید چوٹ لگ گئی تھی ڈاکٹروں کو چیک کرایا تو انھوں نے گھر پر 15 روز کے لیے بیڈ ریسٹ کرنے کا مشورہ دیا۔

سو اب تک گھر پر ہوں کسی دوست نے فون یا میسج کرکے بھی نہیں بتایا گو کہ 21 یا 22 مئی کو رحیم بخش چلے گئے تھے۔پھر بھی مجھے تسلی نہ ہوئی میں نے فوری طور پر کامریڈ خالق زردان کو فون کیا اس نے کہا کہ ہاں گزشتہ روز ہمیں رحیم بخش آزاد چھوڑ گئے اور آج ان کا سوم ہے۔ پھر میں نے نادر شاہ عادل سے پوچھا اور ان سے اظہار تعزیت کیا۔ خالق زردان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر خبر چل رہی ہے۔ میں چونکہ 74 سال کی عمر میں سوشل میڈیا نہیں دیکھ پاتا گوکہ میرے بیٹے اس کا استعمال کرتے ہیں۔

خیر رحیم بخش آزاد سے میری دوستی 30 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ میں ریلوے کی ٹریڈ یونین میں کام کرتا رہا ہوں اور اب بھی کر رہا ہوں۔ میں نے اور رحیم بخش آزاد نے رمپا پلازہ سے نکلنے والے جریدے ’’ جفاکش‘‘ میں کام کیا اور جس دن فائرنگ کا واقعہ ہوا اس روز ہم ساتھ ہی تھے مگر دفتر نہ جاسکے ۔ سول اسپتال کراچی چلے گئے جہاں مرحومین کی لاشیں لائی جا رہی تھیں اور ماہنامہ ’’ بدلتی دنیا‘‘ میں بھی ساتھ کام کیا۔ یہ دونوں میگزین اب بند ہیں۔ پھر لیل و نہار بند ہوا۔ ارشاد راؤ کا الفتح بند ہوا۔ اب کوئی میگزین ایسا نہیں کہ جسے پڑھا جاسکے۔

لیکن پھر فکشن ہاؤس کے ظہور احمد معروف تاریخ دان (عوامی) کے ڈاکٹر مبارک علی کی جانب سے سہ ماہی تاریخ شایع ہوا۔اس کے علاوہ انجمن ترقی پسند کے روح رواں اور ان کے ساتھی ارتقا بھی شایع کرتے ہیں۔ لیفٹ کے دوست امداد قاضی سرخ پرچم شایع کرتے ہیں، اسی طرح ڈاکٹر لال خان ’’ طبقاتی جدوجہد‘‘ شایع کرتے ہیں ۔ عوامی ورکرز پارٹی کے زیر اہتمام عابد حسن منٹو کی ادارت میں عوامی جمہوریت شایع ہوتے ہیں اب کتابیں تو بہت ہیں قیمت بہت زیادہ ہے۔ لکھنے والوں میں لکھنے والے بھی موجود ہیں۔ ڈاکٹر توصیف احمد خان، ظہیر اختر بیدری، جاوید چوہدری، نادر شاہ عادل، حامد میر، ڈاکٹر منظور احمد، سہیل احمد وڑائچ اور خاص کر حسن مجتبیٰ خوب لکھتے ہیں۔

خیر یہ تو لکھنے پڑھنے کی بات تھی اب رحیم بخش آزاد کی بات کرتے ہیں وہ ایک عظیم انسان تھے نہ وہ قوم پرست تھے، نہ بلوچ، نہ سندھی، نہ پٹھان، نہ پنجابی اور نہ ہی اردو کے لسانی تعصب کا شکار تھے انھوں نے ساری زندگی پاکستان کے محنت کشوں کے حقوق کی بات کی اور جدوجہد کی۔ کل ہی ان کے بیٹے آصف آزاد سے بات کی ، اظہار تعزیت کیا۔ انھوں نے ان کے لیاری اور شیر شاہ کے خدابخش بلوچ، علی ناصر، رحیم اسلام آباد، PPP کے رہنما خدا بخش لاسی اور بے شمار شاگردوں اور دوستوں کے بارے میں بتایا جن میں، میں بھی شامل تھا اور ابھی کل ہی خبر ملی ہے کامریڈ محمد احمد ہمدانی بھی 23-05-2019 کو حیدرآباد میں چل بسے۔ آخرکیا بنے گا؟

دائم آباد رہے گی دنیا

ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا

رحیم بخش آزاد میں کئی ایک خوبیاں تھیں وہ صحافت کے ساتھ ساتھ سیاست اور ٹریڈ یونین بھی کرتے تھے۔سماجی کاموں کا انھوں نے ٹھیکہ لیا ہوا تھا۔ اکثر ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ بڑے ہشاش بشاش تھے۔ لطیفے سنانے کے بھی ماسٹر تھے۔ کھانے پینے کے بھی ماسٹر تھے بھرا بھرا جسم، قدکاٹھ بھی ٹھیک ٹھاک، لکھنے پڑھنے کے ماسٹر مگر ساری عمر لیاری میں ہی گزار دی۔ میں ان کے سوم اور جنازے میں نہ جا سکا سدا افسوس رہے گا۔ سوچا ان کے بارے میں کچھ لکھ دوں کسی اخبار میں چھپ جائے اور اہل پاکستان کے محنت کشوں، کارکنوں اور انقلابی دانشوروں کو معلوم ہوجائے کہ رحیم بخش آزاد ہم میں نہیں رہے۔ وہ ایک سایہ دار درخت تھا لیاری کی زمین سے اکھڑ گیا، لیاری میں پھر نئے پودے جنم لیں گے، لیاری اب ترقی پسندوں انقلابی دانشورں سے خالی ہوتا جا رہا ہے ۔

اب لیاری کے نوجوانوں، شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کو پھر سے بھرپور جوش و خروش سے آگے بڑھنا ہوگا۔شبیر ارمان بلوچ صحافی کراچی کا المیہ اور لیاری کا دکھ لکھتے ہیں، لیاری میں بڑا آرٹ ہے، بڑا ٹیلنٹ ہے، کھلاڑی ہیں، باکسر ہیں، فٹ بالر ہیں، فنکار ہیں، ہنس مکھ ہیں۔ لیاری زندہ ہے، لیاری زندہ رہے گا۔ لیاری کے نادر شاہ عادل ہیں۔ ن۔م دانش امریکا میں خیر سے ہیں۔ لالہ لال بخش رند چلے گئے۔ دانشور شاد یوسف نسکندی دنیا سے سدھار گئے، صدیق بلوچ چلے گئے۔ اب لطیف بلوچ ہیں، ارمان بلوچ ہیں، ن۔م دانش زندہ ہیں لکھتے رہیں ہم پڑھتے رہیں گے۔ کراچی کے عوام آپ سے بہت پیار کرتے ہیں کرتے رہیں گے۔ ایک مرتبہ پھر حسن مجتبیٰ زندہ باد، خدا حافظ رحیم بخش آزاد۔۔۔خدا حافظ! آپ کی بھرپور زندگی کو سرخ سلام۔

The post رحیم بخش، آزاد کچھ یادیں کچھ باتیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2WosBW0
via IFTTT

فرسودہ ٹیکس نظام، خطرہ ایکسپریس اردو

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے وزیراعظم عمران خان کو خط میں لکھا کہ موجودہ ٹیکس نظام کو ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے، یہ نظام آنیوالی نسلوں کے لیے پائیدار نہیں ، ٹیکس وصولی کا نظام جی ڈی پی کے 10 فیصد سے بھی کم ٹیکس اکٹھا کر رہا ہے جب کہ اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ذریعے ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہے اور کہا کہ کاروباری افراد کی بڑی تعداد ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کو تیار نہیں ،22 کروڑ آبادی میں سے20 لاکھ ٹیکس دہندگان ، بجلی کے کمرشل کنکشن رکھنے والے31 لاکھ تاجروں میں سے90 فیصد ٹیکس سسٹم سے باہر ہیں، 85 فیصد سے زائد ٹیکس ملک کی300 کمپنیاں دیتی ہیں، ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ٹیکس شدہ دولت جمع ہو چکی، ایک فیصد لوگ پوری ریاست کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ملکی ٹیکس نظام کی گھمبیرتا کوئی آج کی کہانی نہیں، اس استحصالی ، فرسودہ، ازکار رفتہ اور بوسیدہ ٹیکس نظام کے گرد اشرافیائی اور فیوڈل نظام کا سنہرا جال بچھا ہوا ہے جس نے 71 برس سے ملک میں غرت و امارت ، طلب و رسد، طبقاتی کشمکش، اور دولت کے ارتکاز و افزائش اور ماضی کے بائیس خاندانوں کی دلچسپ پاور پالیٹکس کی داستان سے سیاست و اقتدار کا جبروت قائم و دائم رکھا اور ملک کے لاکھوں محنت کش صرف نان جویں کو ترستے رہے۔

ماہرین اقتصادیات نے اس معمہ کو حل کرنے میں اپنی عمریں بتا دیں کہ اس ملک میں کب مساوات ، انصاف، اجتماعی اور سماجی انصاف کا اصول نافذ ہو گا اور ملکی معیشت ایک سموتھ سیلنگ کے ساتھ ریاستی اور حکومتی اہداف کو فلاحی مملکت کے معیار تک لا سکے گی۔ حقیقت میں ٹیکس نظام کی فرسودگی اور سسٹم میں مضمر خطرات کی نشاندہی چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ایک غیر معمولی صورحال کے چشم کشا تناظر میں کی ہے جس کا بنیادی نقطہ 22 کروڑ انسانوں کے معیار ٹیکس دہندگی سے مشروط دکھایا گیا ہے۔

ایک ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کا استدلال ہے کہ 22 کروڑ آبادی میں صرف 20 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں، ان کے تھیسیس پر سب سے اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ کیا اتنی بڑی شرح آبادی میں جناب شبر زیدی نے تمام افرادی طاقت کو بنیادی طور پر لازماً ٹیکس دہندہ شمار کیا ہے، کیا اس ملک کا ہر بچہ، بچی ، غیر ملازم ، بیمار، بیروزگار، معذور وغیرہ ٹیکس نیٹ میں لائے جانے کا سزاوار ہے، ظاہر ہے پوری آبادی کو جو بائس کروڑ کی ہے وہ پوری ٹیکس نیٹ میں کس طرح شمار کی جا سکتی ہے، اس کا اولین اوسط نکالا جانا چاہیے۔

ہزاروں لاکھوں افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں وہ کس طرح ٹیکس نیٹ میں سمیٹے جائیں ،بیروزگاری کی شرح ، پتھارے دار ، چھابڑی والے ، اور چھوٹے دکاندار ، اجرتی مزدور اپنے مخصوص اعداد و شمار اور ملکی معاشی سرگرمیوں سے لاتعلق ہیں ، ان کے زوزگار اور ٹیکس ڈیڈکشن کی قابل ٹیکس آمدنی کی کیلکولیشن کیسے ترتیب دی جا سکتی ہیں، پھر سال ہا سال ایک معیشت ظاہری ٹیکس کے نیٹ میں آ رہی ہے ، اس سے ہر قسم کے ٹیکس کی وصولی ہوتی ہیں مگر اربوں کی غیر قانونی انڈر گرائونڈ معیشت کا کیا ہو گا جو اَن ڈاکومنٹڈ ہے۔

اسمگلنگ کے گندے خون سے پرورش پاتی ہے، ان گنت ٹچ ایبلز اور قانون سے بالاتر بار اثر سیاسی شخصیات ،کاروباری ، زرعی ملکیت ،لاکھوں ایکڑ اراضی والے ، زمیں دار ، وڈیرے ، فارم ہائوسز کے مالک ہیں جو زرعی انکم ٹیکس کے شکنجہ سے صاف بچ کر نکل جاتے ہیں، ہمارا ٹیکس سسٹم اس ملازمت پیشہ محنت کش کو نچوڑتا ہے جو پابندی سے ہر ماہ اپنی ماہوار آمدن سے ٹیکس کی کٹوتی کراتا ہے، دورجنوں پروفیشنلز ہیں ٹیکس دیتے ہیں مگر لاتعداد چہرے ایسی ہیں جو کبھی ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے اور آج بھی شبر زیدی ان ہی کا نام لیتے ہیں کہ 31 لاکھ تاجروں میں سے 90 لاکھ ٹیکس سے باہر ہیں جب کہ 85 فیصد سے زائد ٹیکس ملک کی 300 کمپنیاں دیتی ہیں۔

بلاشبہ یہ اوسط اور دولت کی ریل پیل یہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کی بے پناہ وسعتیں ملکی ٹیکس نیٹ کی بڑھوتری کا جواز مہیا کرتی ہیں، لیکن صائب رائے یہی ہو سکتی ہیں کہ جو پہلے سے ٹیکس دینے والا متوسط طبقہ ہے اسے مزید ٹیکس کے بوجد تلے دبانے سے بہتر ہے کہ ایف بی آر ٹیکس دینے سے گریزاں اور پہلو تہی کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے ، جو قانون سے بالاتر سیاست دان، ارب پتی بزنس ٹائیکون ہیں ، کاروباری لوگ ہیں جو ٹیکس نیٹ میں لائے جانے کے مستحق ہیں جن کے ناموں کی فہرستیں تیار ہیں ان کو بلا تاخیر ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔

زراعت پر ٹیکس کا اطلاق عموماً ایک دو ایکڑ راضی یا محدود کاشتکاری اور جان وتن کا رشتہ قائم کرتے ہیں ان سے کتنا ٹیکس مل سکتا ہے، حکومت ملکی خزانہ کو زرعی ٹیکس سے بھرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے اشرافیائی اور فیوڈلز ، نو دولتیوں پر سے ٹیکس استسثنیٰ کی پر فریب چادریں ہٹائیں، جو پارلیمنٹ میں قوم کے غم خوار بنے ہوئے ہیں ان سے ٹیکس لیں، حیرت کی بات ہیں کہ گزشتہ 9 مہینے اس شور وغوغا، الزامات ، بیان بازی، عدالتی کارروائیوں، گرفتاریوں، غیر ممالک سے کروڑوں اربوں کی لوٹی گئی دولت کے چرچے میں گزر گئے، میڈیا ٹرائل کی گھن گرج میں کچھ بھی نہ نکلا، اب یہ خبر ہے کہ حکومت کی نئی مالی ایمنسٹی اسکیم کا دم خم بھی محض چند کروڑوں سے آگے کی بات نہیں، لوگ اپنا پیسہ ملک میں لانے کے لیے تیار نہیں۔ ادھر حکومت کو وفاقی محاصل اور ریونیو کی مد میں ٹیکس نظام کی شفافیت کا بڑا بحران اور دریا عبور کرنا ہے ۔

صوبائی ٹیکسز کے حصول اور ریکوری بھی کچھ کم مایوس کن نہیں، مثلا آب کاری سے جتنا ٹیکس ملنا چاہیے اور ایکسائز محکموں کو سڑکوں پر چلنے والی لاکھوں وہیکلز اور ملکی و غیرملکی گاڑیوں کے نمبر پلیٹس اور ٹیکسز کی وصولی کا گراف مطلوبہ آمدن اور وصول شدہ ٹیکس اور جرمانوں کا حجم مزید بڑھنا شرط ہے، ہزاروں گاڑیاں ، کوچز، منی بسیں روٹ پرمٹ کے بغیر سڑکوں پر دوڑتی ہیں ، بس قانون نافذ کرنے والے اہلکار مک مکا کر کے ملکی خزانے کو خسارے سے دوچار کرتے ہیں۔ لاکھوں کارخانے، فیکٹریاں، گٹکا مافیا اور اوپن کاروبار کرنے والوں کی من مانیاں ٹیکس نطام کا مذاق اڑاتی ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے وزیراعظم عمران خان کو ملکی معیشت کو درپیش خطرے سے تحریری طور پر آگاہ کرتے ہوئے 2 صفحات پر مشتمل خط لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ٹیکس شدہ دولت جمع ہو چکی ہے، کاروباری لوگوں اور اداروں کی بڑی تعداد ٹیکسیشن سسٹم میں شامل ہونے سے گریزاں ہے، ملک میں صنعتی کنکشن رکھنے والوں کی تعداد 3 لاکھ 41 ہزار ہے، ان میں سے صرف 40 ہزار افراد سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں، رجسٹرڈ ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف 50 فیصد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتی ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیاکہ بجلی کے کمرشل کنکشن رکھنے والے 31 لاکھ تاجروں میں سے 90 فیصد ٹیکس سسٹم سے باہر ہیں، 85 فیصد سے زائد ٹیکس ملک کی 300 کمپنیاں ادا کرتی ہیں، 75 فیصد سے زائد ٹیکس مینوفیکچرنگ سیکٹر سے اکٹھا کیا جا رہا ہے جب کہ ملک کا مینوفیکچرنگ سیکٹر اور صنعتی شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

حقیقت تلخ اور ملکی معاشی صورتحال ٹیکس نظام کے باب میں ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ شبر زیدی نے ٹیکس نظام سے لاحق خطرات کی نشاندہی کی ہے، وہ ایک بڑی چٹان کوسرکانے کا معرکہ سر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر انھیں راستے میں بننے والے رکاوٹوں کو دور کرنا بھی ہے، معیشت کو ملکی عفریتوں اور مافیائوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ایک چومکھی لڑائی لڑنا ناگزیر ہے ۔ یہ غیرمعمولی جنگ ہے اس میں شبر زیدی کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ ریاستی مشینری اور حکومتی اقتصادی ٹیم مل کر میدان میں اتریں۔

 

The post فرسودہ ٹیکس نظام، خطرہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2QFeW6u
via IFTTT

شام وعراق میں سویلینز کی ہلاکتوں کا اعتراف ایکسپریس اردو

امریکا کی قیادت میں کارروائیاں کرنے والی اتحادی فوج کی طرف سے اعتراف کیا گیا ہے کہ شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ گروپ (آئی ایس) کے عسکریت پسندوں کے خلاف فضائی جنگ کی کارروائیوں میں 2014 سے اب تک 1300 سے زائد سویلین مارے جا چکے ہیں لیکن غیر جانبدار گروپوں نے کہا ہے کہ امریکا نے جن ہلاکتوں کو تسلیم کیا ہے اصل میں سویلینز کی ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان جائزہ گروپوں کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگست 2014 سے اپریل 2019تک امریکی طیاروں نے 34 ہزار 502 ہوائی حملے کیے جس کے دوران 13 سو سویلین ہلاک ہوئے۔

جائزہ گروپوں کا کہنا ہے کہ 13 سو کے علاوہ مزید ایک سو گیارہ لوگ بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ زبانی طور پر اتحادی امریکی فورسز یہ دعویٰ بھی کرتی رہیں کہ وہ سویلین کی ہلاکتیں روکنے کے لیے جو کچھ ان کے بس میں ہے وہ کریں گے مگر جب بمبار طیارے فضا میں سے نیچے شہریوں پر حملہ کرتے ہیں تو وہ اوپر سے ہلاکتوں کی تعداد نہیں گن سکتے بلکہ ان کو وہی اعداد وشمار بیان کرنا پڑتے ہیں جو ان کے افسران انھیں بتاتے ہیں۔

ان اعداد و شمار کی تصدیق کے لیے کسی علیحدہ ایجنسی کی ضرورت ہے لیکن امریکا کے مدمقابل کھڑے ہونے کی کس میں جرأت ہو سکتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بیگناہ سویلین ہلاکتوں کے بارے میں امریکی اعتراف کا خیرمقدم کیا ہے مگر ساتھ ہی کہا ہے کہ سویلین ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔

ایمنسٹی کی لندن میں موجود گروپ کی لیڈر ڈونائیلا روویرا نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں امریکا کی فضائی کارروائیوں سے اصل میں ہلاکتوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔ مس دونائیلا کا مزید کہا ہے کہ امریکی بمباریوں سے ہونے والی ہلاکتوں اور دیگر نقصانات کا صحیح اندازہ لگانے کی ضرورت ہے جو یقینی طور پر ان سے کئی گنا زیادہ ہے جتنا امریکا کی طرف سے اعتراف کیا گیا ہے۔

مس دونائیلا نے مزید کہا کہ امریکی فوج کو تمام ہلاکتوں کی وجوہات بھی بیان کرنی چاہئیں۔ انھوں نے کہا آخر کیا وجہ ہے کہ ہر بار امریکی بمبار طیاروں کا نشانہ خطا ہو جاتا ہے اور وہ عسکریت پسندوں کی بجائے عام شہریوں کا قتل عام شروع کر دیتے ہیں۔ ایمنسٹی کی طرف سے گزشتہ ماہ جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اس میں سویلینز کی تعداد 1600 سے زائد بیان کی گئی ہے۔ یہ ہلاکتیں شام کے شہر رقعہ (Raqa) میں گزشتہ چار ماہ میں ہوئی ہیں اور اصل میں ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار 9 سو سے زیادہ ہے جس کو امریکی ذرائع تسلیم نہیں کر رہے۔ حقوق انسانی کے لیے شام کے گروپ کا کہنا ہے کہ صرف شام میں 3 ہزار 8 سو سے زائد شہری ہلاکت کا شکار ہوئے۔

The post شام وعراق میں سویلینز کی ہلاکتوں کا اعتراف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2JTDmsC
via IFTTT