Saturday, August 1, 2020

عظیم گوریلا جنگجو نیستور ماخنو کی 86ویں برسی ایکسپریس اردو

آج ہم اس بھولے بسرے عظیم انقلابی گوریلا جنگجو’’ نیستور ماخنو‘‘ کو یاد کرتے ہیں ، جس نے چار سال کے مختصر عرصہ میں اپنی کم تعداد میں بلا تنخواہ رضاکارانہ طور پر قائم کی گئی کسان فوج (بلیک آرمی) کو اس دور کی سپر پاورز ’’ آسٹرو۔ہنگری فوج ‘‘ ،’’ سوویت یونین کی ناقابل شکست ریڈ آرمی ‘‘ ، زار روس کی حمایت میں سرگرم ’’ وائیٹ آرمی ‘‘ اور یوکرین کی انتہائی طاقتور ’’ فیڈرل آرمی ‘‘ سے لڑایا اور ان کو بری طرح سے شکست دی۔ نیستور ماخنو 7نومبر 1888 میں یوکرین میں پیدا ہوئے۔ جب وہ دس روز کے تھے تو ان کے والد محترم انتقال کرگئے۔

وہ غریب کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ شدید غربت کی وجہ سے اسے سات سال کی عمر میں باورچی کے ساتھ کھانا پکانے کی نوکری کرنی پڑی۔ 11 سال کی عمر میں بیل گاڑی چلانے کا کام کیا۔ غربت اور مالی مشکلات کی وجہ سے وہ 20 سال کی عمر میں اسکول چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ جس کے بعد وہ ایک خوشحال کسان کی زمین پر اجرتی ملازم بن گئے۔ اسی دوران وہ ایک انارکسٹ گروپ میں شامل ہوگئے۔

پھر فنڈنگ کے لیے ڈاکہ ڈالنے گئے تو ایک پولیس افسر مارا گیا اور یوں نیستور ماخنو 1910 میں گرفتار ہوگئے۔ عدالت نے اسے سزائے موت کا حکم سنایا۔ بعد ازاں نو عمری کی وجہ سے حکومت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا اور اسے ماسکو جیل منتقل کیا گیا۔ 5 فروری 1914میں زار روس کے خلاف روس میں برپا ہونے والے ’’ فروری انقلاب ‘‘ کے بعد قیدیوں کو عام معافی دی گئی تو نیستور ماخنو بھی جیل سے رہا کردیے گئے۔ جیل میں ان کی ملاقاتیں دیگر سرگرم اور معروف انارکسٹ کامریڈوں سے ہوئیں جو جیل میں بند تھے۔ انھوں نے انارکسٹ کامریڈوں سے بہت کچھ سیکھا۔

1917میں انقلاب روس کے بعد کامریڈ نیستور ماخنو نے یوکرین میں انڈیپینڈنٹ انارکسٹ ٹیری ٹوری یعنی ’’ یوکرین کا خود مختار انارکسٹ خطہ ‘‘ تشکیل دیا اور کامریڈ ماخنو اس خود مختار کسان آرمی جسے بلیک آرمی بھی کہا جاتا تھا اس کے کمانڈر بن گئے۔ 1918 میں آسٹرو۔ہنگری کی فوج کے حملے کو پسپا کیا۔ پھر پروشین فوج (جس میں جرمن فوج بھی شامل تھی ) کو شکست دیکر ان کے حملے کو بھی ناکام بنا دیا۔

کامریڈ نیستور ماخنو کے بھائی جو ان کے زبردست حامی تھے وہ پروشین فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے جنھیں ڈیتھ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے گولی مار دی گئی۔ 1919 میں جب سوویت یونین کی ریڈ آرمی نے یوکرین پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھائی کی تو اسے بھی منہ کی کھانی پڑی۔

انقلاب کے بعد ابھی روس مکمل آزاد نہیں ہوا تھا۔ 1919میں ہی زار شاہی کی سفید فوج نے ماسکو کے قریب جنرل ڈینکن کی سرکردگی میں دو شہروں پر قبضہ کرلیا تھا اور ماسکو کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی۔ اس موقع پر لینن نے کامریڈ نیستور ماخنو سے اپیل کی کہ سفید فوج (وائیٹ آرمی ) سے لڑنے میں آپ ہمارا ساتھ دیں۔ جس پر کامریڈ نیستور ماخنو نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب بھی جنگ ختم ہوئی اور آپ طاقتور ہوگئے تو آپ ہم پر ہی حملہ کریں گے۔

بحر حال نیستور ماخنو نے لینن کا ساتھ دیا اور جنرل ڈینکن کی سفید فوج کو ماسکو کے قریب شکست دے دی۔ جس پر بالشویکوں نے اسے ’’ماسکو کا محافظ ‘‘ کا خطاب دیا۔ ٹراٹسکی جو کہ ریڈ آرمی کے سربراہ تھے انھوں نے کامریڈ نیستور ماخنو کو کسان فوج کو ریڈ آرمی میں شمولیت کے بدلے جنرل کے عہدے کی پیشکش کی مگر اسے انھوں نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ ہم انارکسٹ عہدوں کے خلاف ہیں۔

1919کے اواخر میں ٹراٹسکی کے حکم پر ریڈ آرمی نے جنوبی یوکرین کے انارکسٹ خطے کے دارالحکومت ’’ ہولائی پول ‘‘ پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ کردیا مگر نیستور ماخنو کی زیر سرپرستی کسان آرمی نے ریڈ آرمی کی استونیا ڈویژن کے 20 ہزار فوجیوں کو نرغے میں لیکر ان سے اسلحہ چھین کر انھیں گرفتار کرلیا۔ اس واقع کے بعد لیوئن ٹراٹسکی نے کامریڈ ماخنو سے ایک تحریری معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کی رو سے ماخنو نے ریڈ آرمی کے گرفتار 20 ہزار جوانوں کو رہا کرنا تھا اور اس کے بدلے میں سوویت یونین میں قید تمام انارکسٹوں کو رہائی ملنی تھی۔ ماخنو نے معاہدے کے مطابق ریڈ آرمی کے گرفتار تمام جوانوں کو رہا کردیا مگر بالشویکوں نے معاہدے پر عمل نہیں اور جیلوں میں بند انارکسٹوں کو رہا نہیں کیا۔

1920 میں جنرل رینگلز کی قیادت میں سفید آرمی جنوبی یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے پہنچی تو ماخنو کی زیر قیادت کسان آرمی (بلیک آرمی) نے سفید آرمی پر اچانک دھاوا بول دیا اور ان کے چار ہزار فوجی گرفتار کرلیے ، اسلحہ کا ڈپو لوٹ لیا اور سپلائی لائن کاٹ دی۔ ان کے باقی فوجی زخمی ہوئے یا راہ فرار اختیار کرلی۔ جنوبی یوکرین میں جاگیرداری تھی تو کامریڈ نیستور ماخنو نے جاگیرداری ختم کرکے زمینیں کسانوں میں بانٹ دی تھیں۔ یوکرین میں سفید فوج کو شکست دیکر واپس آنے والی کسان آرمی کو روسی فوج کے کمانڈنٹ نے دعوت دی کہ جنرل رینگلز اور ان کی سفید آرمی کو مکمل طور پر صفایا کرنے کی خوشی میں ایک جشن کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں آپ کو اور آپ کے دیگر ساتھی کمانڈرز کو شرکت کرنی ہے۔

نیستر ماخنو نے یہ دعوت قبول کرلی اور اپنی کسان فوج کو ہلائی پول روانہ کرکے خود جشن فتح میں شرکت کرنے کے لیے چلے گئے۔ یہ جشن فتح دراصل ایک سازش تھی جس میں اہم کردار بذات خود لینن کا تھا۔ ماخنو اور ان کے ساتھی انارکسٹ کمانڈرز جیسے ہی تقریب میں پہنچے تو ریڈ آرمی نے انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ نیستر ماخنو جو کہ ایک گوریلا جنگجو تھے وہ کسی طرح وہاں سے فرار ہوکر اپنے دارالحکومت ہولائی پول زخمی حالت میں پہنچے جب کہ ان کے بقیہ ساتھی کمانڈرز مارے گئے۔ اب ریڈ آرمی کے لیے کامریڈ ماخنو کو شکست سے دوچار کرنا آسان ہوگیا۔

ہوا یہ کہ لینن نے یوکرین میں موجود ریڈ آرمی کے سربراہ کرسچن راکوفسکی کو براہ راست دو خفیہ خطوط لکھے۔ ایک خط میں حکم دیا گیا تھا کہ نیستور ماخنو کے سر کی قیمت مقرر کی جائے اور اسے قتل کیا جائے۔ دوسرے خط میں کہا گیا تھا کہ ماخنو کے تمام انارکسٹ ساتھیوں کو گرفتار کیا جائے ، انھیں جلاوطن کیا جائے یا جیلوں ڈالا جائے۔ ان خطوط میں دیے گئے احکامات پر عمل کرنے کے لیے ریڈ آرمی نے جنوری1921 میں ہولائی پول پر حملہ کردیا۔ زخمی ماخنو نے زبردست مقابلہ کیا مگر وہ اپنے کمانڈر ساتھیوں کی غیر موجودگی میں زیادہ دنوں تک مقابلہ نہ کرسکا اور شدید زخمی ہوگیا۔

زخمی حالت میں اپنے 77 ساتھیوں کے ساتھ رومانیہ فرار ہوگیا۔ مگر رومانیہ پر سوویت یونین کا اثر تھا لہٰذا کامریڈ ماخنو کو گرفتار کیا گیا۔تاہم وہ وہاں سے فرار ہوکر پولینڈ چلے گئے ، جہاں پر اسے دو بار گرفتار کیا گیا۔ پہلی بار گرفتار ہوا تو مقدمہ چلا اور اسے بے قصور قرار دیکر رہا کردیا گیا۔ دوسری بار گرفتار ہوا تو کامریڈ الیگزینڈربرک مین کی مداخلت پر رہائی ملی۔ اس کے بعد وہ وہاں سے برلن پہنچا اور بعد ازاں لندن پہنچا۔ مگر یہاں بھی اس کے لیے پریشانیاں تھیں ، جس کی وجہ سے وہ فرانس چلے گئے اور اپنی بقیہ زندگی پیرس میں گزاری۔ پیرس میں انھوں نے بڑھئی (کارپینٹر ) کا کام کیا۔ بعد میں کاریں بنانے والی ’’ رینالٹ ‘‘ کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ کامریڈ ماخنو نے فلموں اور تھیٹر میں بھی کام کیا۔ فرانس میں ان پر جو فلم بنائی گئی اس میں انھوں نے اپنا کردار خود ادا کیا۔ دنیا کے سب سے بڑے گوریلا لیڈر نیستور ماخنو دمہ (T.B)کے مرض میں مبتلا ہوا اور 25 جولائی 1934کو 45سال کی عمر میں پیرس میں انتقال کرگئے۔

The post عظیم گوریلا جنگجو نیستور ماخنو کی 86ویں برسی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gvzTwM
via IFTTT

تعلیم کی کمی اور معاشرے کا زوال (پہلا حصہ) ایکسپریس اردو

میں نے الحمد للہ شعبہ درس وتدریس میں ایک طویل عرصہ گزارا۔ او لیول،کیمبرج اورکالج کے طلبا کو بڑی محنت اور خلوص کے ساتھ پڑھایا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی تربیت کرنے کی کوشش کی افکار عالیہ سے روشناس کرانے اور ان میں مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد جاری رکھی۔

30 منٹ نصابی کتب اور دس منٹ تک اخلاقیات کے حوالے سے لیکچر دیا اور اس کے مثبت نتائج دیکھ کر اطمینان حاصل ہوا کہ ہماری محنت رائیگاں ہونے سے بچ گئی۔ طلبا بھی انھی اساتذہ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اپنے پیشے سے مخلص ہوں، اس کے ساتھ اس بات کا بھی خوب تجربہ ہوا کہ استاد نہ صرف یہ کہ اپنی ذمے داریوں سے چشم پوشی کر رہا ہے بلکہ طلبا کو برائیوں خصوصاً سیاست کی طرف مائل کرنے میں بھی اس کا پورا پورا ہاتھ ہے طلبا سے گفتگو کرنے کے سلیقے سے ناآشنا ساتھ میں اکثر اوقات مغلظات بکنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ہے، یہ صورت حال افسوس ناک تھی۔

ہر ادارے میں خوشامد پسند لوگ پائے جاتے ہیں وہ اپنے باس کو خوش رکھنے کے لیے منافقین کا کردار ادا کرتے ہیں، دوسرے ایمان دار اور محنت سے کام کرنے والوں کو باس کی نظر میں گرا کر دم ہی نہیں لیتے بلکہ ملازمت سے بھی نکلوا دیتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں چاپلوسی کرنے والے اساتذہ کی ہرگزکمی نہیں ہے عیش پسند اورکچے کانوں کے مدرس اور افسر بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں انھیں بغیر ہاتھ پیر ہلائے ادارے کے تمام ورکرزکی خبریں بھی مل جاتی ہیں اور تحفے تحائف، دعوتیں اور پارٹیوں سے بھی خوب مزے اڑاتے ہیں۔

ہر روزکسی نہ کسی بہانے سے مختلف کلاسوں میں پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے ،کسی استادکی سالگرہ توکبھی کلاس میں فرسٹ سیکنڈ آنے والے طلبا و طالبات کے لیے جشن مناتے ہیں، زیادہ تر یہ طلبا صاحب حیثیت گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں بڑی بڑی فیسیں ادا کرتے ہیں تو پھر یہ معمولی پروگراموں کے لیے چھوٹی سی رقم خرچ کرنا، ان کے لیے مشکل نہیں انھی طلبا کو اضافی نمبر بھی اسی لیے دیے جاتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوجائیں، اسکول وکالج میں آج سے نہیں ایک طویل عرصے سے ناچ گانے اورگلوکاری کے جوہر دکھانے کے لیے باقاعدہ کلاسیں لی جاتی ہیں اور اداکاروں، گلوکاروں اور موسیقاروں کی مستقبل کے لیے ایک کھیپ تیارکر دی جاتی ہے یہ وہی علمی درسگاہ ہے جہاں اپنے فن کا لوہا منوانے کے لیے یہ طلبا اپنے گھر والوں سے بھی بغاوت کرکے راہ فرار اختیار کرتے ہیں اور پھر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان نادانوں کو یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ گلیمرکی دنیا اندر سے بڑی ہیبت ناک اور ڈراؤنی ہے۔ اس تاریک راہ میں بے شمار نوجوانوں کا مستقبل برباد ہوجاتا ہے اور جو اپنی منزل کو پا لیتے ہیں وہ بھی ناشاد رہتے ہیں اور دل کے چین سے محروم ضمیر انھیں تنگ کرتا ہے اور جو ضمیر کی مار نہیں سہہ پاتے ہیں وہ اس راہ کو خیرباد کہہ کر صراط مستقیم پر قدم رکھ دیتے ہیں۔

اگر ہمارے بچوں کو دین ودنیا کی تعلیم وتربیت سے محروم نہ رکھا جاتا توآج اس قدرگھور اندھیرا ہرگز نہ ہوتا۔ جرائم اس قدر نہ پنپتے نوجوان اللہ سے ڈرتے اپنے سیاسی آقا سے نہیں، جن کے کہنے پر سو، سو قتل کیے اور زندہ جلایا گیا، بہرحال سیاسی اور تلخ حقائق کو فی الحال یہیں دفن کردیتے ہیں اور آتے ہیں علامہ اقبال اور دوسرے اکابرین کے تعلیمی نظریات کی طرف۔ اس ضمن میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے تعلیمی فلسفے کا نچوڑ یہ ہے کہ اللہ نے یہ کائنات بامقصد بنائی ہے۔ انسان کا مقصد زندگی اپنے رب کی بندگی ہے اللہ کی رضا کا حصول ہی سب سے بڑی قدر ہے، اقبال کے نزدیک توحید ورسالت کی تعلیم ہی وہ بلند ترین نصب العین ہے جس میں کلمہ طیبہ کی روح شامل ہو، وہ طلبا کی ایسی تربیت چاہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو پہچانیں۔

اقبال کے فلسفۂ خودی کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی عادات اورصفات پیدا ہوں جو انھیں دوسری مخلوقات سے ممتازکریں چنانچہ ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اللہ کے احکامات مانے۔ اقبال ایسے طرز تعلیم کو قطعی پسند نہیں کرتے ہیں جو طلبا کو درسی علم تک محدود رکھے اور تربیت کرنے کی ضرورت سے محروم کردے۔

ان کا خیال یہ ہے کہ سیرت وکردار میں مثبت تبدیلی کا ہونا ناگزیر ہے چونکہ اس کے بغیر کوئی بھی انسان تہذیب یافتہ اوراوصاف حمیدہ کا مالک نہیں بن سکتا ہے۔ انھوں نے معلم کے لیے فرمایا کہ طلبا کی تعلیم وتربیت میں استاد کا کلیدی کردار ہوتا ہے، معلم کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے مضمون میں مہارت رکھتا ہو۔ اس کے ساتھ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو تب ہی وہ طلبا کو اسلامی تہذیب و تمدن سے روشناس کرانے کا سبب بنے گا۔ اقبال نے اپنی نظم ’’خطاب بہ جاوید سخنی بہ نژادنو‘‘ میں تعلیمی نظریات پیش کیے ہیں انھوں نے نظم کی ابتدا اس طرح کی ہے:

اے پسر! ذوق نگہ از من بگیر

سوختن در لاالہ از من بگیر

لاالہ گوئے بگو از روی جان

تاز اندام تو آید بوے جان

این دو حرف لاالہ گفتار نیست

لاالہ جز تیغ بی زنہار نیست

زیستن با سوز او قہاری است

لاالہ ضرب است و ضرب کاری است

علامہ نے ان اشعار میں نوجوانوں کوکلمہ طیبہ کے انقلابی مفہوم کو سمجھنے کا درس دیا ہے اور نصیحت کی ہے کہ وہ یہ کلمہ دل وجان سے کہیں کیونکہ جب کوئی شخص دل و جان سے (روحانی طور پر) لاالہ کہے گا تو وہ صرف اللہ ہی کی حکمرانی کو تسلیم کرے گا، اسی نقطہ نظر کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کرے گا اور اللہ کی رضا کے لیے بلا چوں و چرا سر تسلیم خم کرے گا۔

The post تعلیم کی کمی اور معاشرے کا زوال (پہلا حصہ) appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2DsDFIF
via IFTTT

طارق عزیز کی یاد میں ایکسپریس اردو

طارق عزیز بھی اگلے جہاں سدھارے، جالندھر میں پیدا ہوئے، گیارہ سال کا طارق عزیز پاکستان بننے پر والدین کے ساتھ ادھر چلا آیا۔ منٹگمری میں والدین نے ڈیرہ ڈالا۔ ابتدائی تعلیم (موجودہ نام ساہیوال) میں حاصل کی پھر لاہور کا رخ کیا۔ لاہور متحدہ ہندوستان میں ادب کا بڑا گڑھ سمجھا جاتا تھا، لاہور، دہلی، لکھنو، حیدرآباد دکن۔ لاہور کا ہمیشہ سے وتیرہ رہا ہے کہ ادب کے میدان میں اترنے والے سے خون مانگتا ہے، اسی لیے خود کو منوانے کے لیے ادیب، شاعر خون کے مشکیزے بھر بھر کے لاتے تھے اور جسے لاہور نے قبولیت کی سند دے دی اسے سارے دبستان قبول کر لیتے تھے۔

طارق عزیز بھی کہہ رہے تھے ’’لاہور کے پنچ بھی مجھے یاد ہیں، لاہور کے تھپیڑے بھی میں نہیں بھولا، لاہور بڑا کڑا امتحان لیتا ہے، اس امتحان میں جو پاس ہو گیا، سو ہو گیا، باقی حسرت و یاس بن کر رہ جاتے ہیں۔‘‘ طارق عزیز نے لاہور کی فٹ پاتھوں پر بھی راتیں گزاریں اور پھر اسی شہر نے انھیں ممبر قومی اسمبلی بھی بنایا۔

آج طارق عزیز صاحب کے دنیا سے چلے جانے پر میں انھیں یاد کر رہا ہوں۔ شاید میری یادیں کہیں اور پڑھنے کو نہ ملیں، اس خیال سے یہ دو تین یادگار واقعات یہاں لکھ رہا ہوں۔

یہ 1969-70 کی بات ہے۔ جالبؔ صاحب اور طارق عزیز ایسٹرن اسٹوڈیو میں موجود تھے شام ہوئی تو جالبؔ صاحب نے بھٹو صاحب کو فون کیا ’’بھٹو صاحب! میں آج شام آپ کا مہمان بننا چاہ رہا ہوں‘‘ بھٹو صاحب نے فوراً جواب دیا ’’آ جاؤ‘‘ جالبؔ صاحب بولے ’’میرے ساتھ پاکستان فلم انڈسٹری کا مشہور ہیرو طارق عزیز بھی ہو گا‘‘ بھٹو صاحب نے اس کا فوراً جواب دیا ’’اسے بھی لے آؤ۔‘‘

جالبؔ صاحب، طارق عزیز کو لے کر 70 کلفٹن پہنچے۔ جالبؔ صاحب نے طارق عزیز کا تعارف یوں کروایا ’’طارق عزیز ہماری فلم انڈسٹری کے نامور ہیرو ہیں اور بلا کے مقرر ہیں، پڑھے لکھے ہیں۔‘‘

طارق عزیز ، جالبؔ سے اس خواہش کا اظہار کر چکے تھے کہ وہ بھٹو صاحب کو پسند کرتے ہیں اور پیپلز پارٹی جوائن کرنا چاہتے ہیں۔ یوں طارق عزیز پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے۔ معراج محمد خان اور طارق عزیز کی جوڑی خوب چمکی، بڑے جلسے لوٹے۔ طارق عزیز شاعر بھی تھے اور انھیں بے شمار اچھے اشعار ازبر تھے، جنھیں وہ اپنے خطابات کی زینت بنایا کرتے تھے۔

جالبؔ صاحب تو پیپلز پارٹی میں نہیں گئے حالانکہ بھٹو صاحب کی شدید خواہش تھی کہ جالبؔ پیپلز پارٹی میں آ جائیں مگر جالبؔ صاحب کے لیے یہ ’’ناممکن‘‘ تھا۔ خیر اس بات کو یہیں چھوڑتے ہیں۔ بات طارق عزیز صاحب کی ہو رہی ہے ادھر ہی چلتے ہیں۔

فلم ساز فیاض شیخ، ریاض شاہد کے بھائی تھے۔ یہ واقعہ غالباً 80ء کی دہائی کے اوائل کا ہے کہ جب فلم ساز فیاض شیخ نے ’’زخمی‘‘ نام سے فلم بنانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور یہ غضب بھی کر دیا کہ فلم کا اشتہار شایع کیا اور جلی حروف میں لکھا ’’حبیب جالبؔ پہلی بار شاعر کا کردار ادا کریں گے‘‘ فیاض شیخ اپنے بھائی ریاض شاہد کی طرح دنیا بدلنے والے خیالات رکھتے تھے۔ ظلم کا خاتمہ چاہتے تھے۔ انصاف کا بول بالا ہو، ہر سُو امن کے پرچم لہلہاتے ہوں۔ جالب صاحب تک یہ خبر پہنچی کہ فیاض شیخ نے ان کا نام بطور اداکار دے دیا ہے تو وہ فیاض شیخ پر بڑے بگڑے۔ فیاض شیخ نے جالب سے کہا ’’اچھا تو بتاؤ، یہ شاعر کا کردار کون کرے گا؟‘‘ جالب نے طارق عزیز صاحب کا نام لیتے ہوئے ’’یہ کردار طارق عزیز کرے گا اور خوب کرے گا۔‘‘

یوں فلم ’’زخمی‘‘ میں طارق عزیز نے شاعر کا کردار ادا کیا۔ ایک ایسے شاعر کا کردار جو سماج کو بدلنا چاہتا ہے۔

فلم کے لیے حبیب جالبؔ نے تھیم سانگ لکھا جسے طارق عزیز پر فلمایا گیا۔ یہ گیت مہدی حسن صاحب نے گایا تھا اور اس گیت کی طرز موسیقار اے حمید صاحب نے بنائی تھی۔ یہ گیت بہت مشہور ہے اور آج بھی سنا جاتا ہے۔

گیت سنیے!

اس درد کی دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتے

شکوے تیرے اے دیدۂ تر کیوں نہیں جاتے

یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں‘ مر کیوں نہیں جاتے

دھرتی پہ جو ہیں بوجھ اُتر کیوں نہیں جاتے

ہے کون زمانے میں مرا پوچھنے والا

ناداں ہیں جو کہتے ہیں کہ گھر کیوں نہیں جاتے

شعلے ہیں تو کیوں ان کو بھڑکتے نہیں دیکھا

ہیں خاک تو راہوں میں بکھر کیوں نہیں جاتے

آنسو بھی ہیں آنکھوں میں‘ دعائیں بھی ہیں لب پر

بگڑے ہوئے حالات‘ سنور کیوں نہیں جاتے

طارق عزیز اول و آخر ایک بہت بڑے صداکار تھے۔ ان کا یہ اعزاز کہ 1964ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی آواز اور صورت طارق عزیز تھے۔ اور 40 سال تک ان کا شو نیلام گھر، طارق عزیز شو اور بزمِ طارق عزیز مسلسل نشر ہوتے رہے۔ ان حوالوں سے طارق عزیز ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ سیاسی میدان میں طارق عزیز خود کو سنبھال نہیں سکے۔ مگر یہ بات ان کی شخصیت کو کمزور نہیں کرتی بڑے بڑے نامور سیاست دان خود کو نہ سنبھال سکے۔ طارق عزیز شوبز کے آدمی تھے اور اس حوالے سے وہ کامیاب و کامران ہیں۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ (آمین)

The post طارق عزیز کی یاد میں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39M9wQJ
via IFTTT

امن ہمارے اندر ہے ایکسپریس اردو

قدیم ہندوستان میں اشوک اعظم کی طرف سے متعدد شاہی فرمان جاری ہوئے جنہیں حقوق انسانی کے ابتدائی تصورات کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ اشوک اعظم نے 238 سے 265 ق۔ م تک ہندوستان اور افغانستان پر حکومت کی اشوک اعظم کو اس ناتے سے ایشیاء میں ’’بابائے انسانی حقوق‘‘ کہا جا سکتا ہے کئی دانشور اشوک بادشاہ کے شاہی فرامین کو دنیا میں انسانی حقوق کا پہلا عالمگیر اعلامیہ قرار دیتے ہیں۔

اشوک بادشاہ نے جانوروں کے حقوق کے متعلق بھی فرمان جا ری کیے۔ ہندوستان کی موجودہ ریاست اڑیسہ میں برپا ہونے والی خونی جنگ کے بعد اشوک بادشاہ نے تشدد کو ترک کر کے بدھ مت اختیار کر کے دھرم کی تبلیغ کا راستہ چن لیا اور تمام مذاہب اور عقیدوں کے احترام اور آزادی کی پالیسی اختیار کی۔ اشوک بادشاہ نے بہت سارے فرمان چٹانوں اور ستونوں پرکندہ کروائے بشمول شیر کی شبیہ والے سارناتھ کے ستون کے جو کہ آج کل ہندوستا ن کا قومی نشان ہے، چٹانوں پر کندہ 14 فرمانوں میں سے مندرجہ ذیل بنیادی حقوق سے مناسبت رکھتے ہیں۔ (1) ہر مذہب کے لوگ اپنے علاقے میں آرام و سکون سے رہیں، اس حق میں مداخلت نہ ہوگی۔ (2)جانوروں کے لیے شفا خانے بنائے جائیں۔

(3) وزراء کا فرض ہے کہ وہ تمام مذاہب کے پیروکاروں کے دھرم کو فروغ دیں۔ (4)جانوروں کا سر عام ذبح کرنا ممنوع ہو گا۔ (5) دھرم کا مطلب یہ ہے کہ نوکروں، ملازموں کے ساتھ حسن سلو ک اور اسا تذہ کا احترام (6) تمام جانوروں، دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ تحمل اور فراخ دلی کا برتاؤ کیا جائے اور کسی بھی جاندار کو قتل نہ کیا جائے۔ (7) تمام مذاہب کے بنیادی عقائد کو فروغ دیا جائے۔

رواداری اور برداشت کے لحاظ سے دوسرا معتبر اور قابل ذکر نام ہندوستان کے شنہشاہ اکبر اعظم کاہے۔ شنہشاہ اکبر نے کئی انسانی حقوق کو مروج اور مختلف سماجی اور مذہبی روایات کی برداشت کو فروغ دیا، جس میں اپنے عقائد کے مطابق پرستش کا حق بھی شامل تھا۔ اکبر شہنشاہ نے تعصب اور عدم رواداری کی ممانعت اور اپنی بادشاہت میں غیر مسلموں پر اضافی ٹیکس کا خاتمہ کردیا۔ شہنشاہ اکبر اس بات کی وکالت کرتا تھا کہ کسی بھی فردکے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور ہرفردکو کوئی بھی عقیدہ اختیارکرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

جب یورپ احیائے علوم سے برسوں پیچھے تھا تو شہنشاہ اکبر اس قسم کی اعلیٰ ظرفی کا مظاہر ہ کر رہاتھا۔ شہنشاہ اکبر نے غلامی اور ستی جیسے غیر اخلاقی رواجوں کی حوصلہ شکنی کی ، اس طرح شہنشاہ اکبر نے حقوق انسانی کے احترام کو عملی طورپر لاگوکیا۔ پوری دنیا میں سترہویں صدی میں یہ خیال ابھرا کہ انسان آزاد پیدا ہوتا ہے لیکن اسے ہرجگہ پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے۔ پابندیوں کے ساتھ آزادی کا تصور بے معنی ہے قانونی اعتبار سے بنیادی حقوق جدید دورکی جمہوری ریاست کے شہریوں کی وہ مراعات ہیں جنہیں ریاست تسلیم کرکے نافذ کرتی ہے۔جب حقوق کو آئینی تحفظ دے دیا جائے تو انہیں بنیادی حقوق کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ انہیں حکومت کی مداخلت بے جا سے بھی تحفظ کی ضمانت دی جاتی ہے۔ بنیادی حقوق کو آئینی دستاویز میں شامل کرنے کاآغاز دورجدید میں امریکن نظام میں ملتا ہے۔

بنیادی حقوق کا تعلق انسانی معاشرے سے اس قدرگہرا ہوتا ہے کہ اس کے بغیر ایک اچھے معاشرے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بنیادی حقوق کی تاریخ انقلاب فرانس 1789 کے بعد شروع ہوتی ہے۔ انقلاب کے بعد انسانی حقوق کی بنیاد رکھی گئی اور باقاعدہ انسانی حقوق کا اعلان نامہ شائع ہوا۔ زمانہ جدید میں جب آئین سازی کا رواج شروع ہواتو فرانس کی تقلید کرتے ہوئے آئین میں ایک باب بنیادی انسانی حقوق کا بھی رکھا جاتا ہے۔ 1973 کا آئین پاکستان کا تیسرا قومی آئین ہے، یہ آئین 10 اپریل 1973 کو منظور ہوا۔ 13 اپریل 1973 کو اس پر صدر مملکت نے دستخط کیے اور 14 اگست 1973کو مکمل نافذ ہوا۔ آئین پاکستان میں بنیادی حقوق کاذکر حصہ دوم کے شروع میں ہے۔

آئین پاکستان میںکل دفعات 280 ہیں بنیادی حقوق کا ذکر دفعات 8 سے 28 تک ہے۔ بنیادی حقوق ہر شہر ی کو بلا امتیاز رنگ و نسل ، عقیدے ، ذات اور مذہب کے حاصل ہوتے ہیں۔ ملک میں ان بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد عدلیہ کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ ان بنیادی حقوق کا تحفظ کریں اور یہ اختیار اعلیٰ عدالتوں کو آئین کی دفعہ 184 کی ذیلی دفعہ3 کے تحت حاصل ہے۔ آرٹیکل نمبر9 کے تحت کسی بھی شخص کو زندہ رہنے کے حق جو کہ اسے قانون کے مطا بق حاصل ہے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اس آرٹیکل کی وضاحت اس طرح ہے کہ زندہ رہنے کا حق ہر انسان کو حاصل ہے اس بات کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی دوسرے پر ہاتھ اٹھائے اور اس کی زندگی کو ختم کر دے۔

ملٹن کا قول ہے جو آزادی کا دلدادہ ہو اس کو اس سے پہلے دانا اور دیانتدار ہونا ضروری ہے وجہ یہ ہے کہ آزادی نہ فروخت ہوتی ہے اور نہ ہی بخشی جاتی ہے بلکہ اس کو حاصل کرنے کے لیے عملی جدوجہد، ایثار، قربانی اور استعداد کی ضرورت ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ امن باہرکی دنیا میں نہیں بلکہ خود انسان کی ذات کے اندر ہی موجود ہے۔ اسلام یہ بھی سکھلاتا ہے کہ آدمی کو اپنی فکر میں آزادی اور تنقیدکے رویے کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہم کامیاب ہوسکتے ہیں ہمیں صرف اپنے رویوں کو بدلنا ہو گا منفی سوچ کے بجائے مثبت سو چ پیدا کرنی ہو گی۔

ایک دوسرے کو تسلیم اور برداشت کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے سے محبت کرنا ہو گی اور یہی سو چ ہماری تخلیقی سو چ کو آزاد کر دے گی۔ ہم زندگی کی جنگ میں ہار ے ضرور ہیں لیکن کسی محاذ پر پسپا نہیں ہوئے ہیں۔ آپ کوئی ایک ملک بتا دیجیے جہاں سو فیصد ایک مذہب، فرقے، زبان ، مسلک ، رنگ ونسل کے لوگ رہتے ہوں جہاں تک آپ کی نظریں یا سوچ جاسکتی ہے دیکھ لیں اور سو چ لیں ایک بار پھر دیکھ لیں اور سوچ لیں ہر بار آپ کو احساس ہوگا کہ دنیا بھرکے لوگوں نے اختلاف ، مختلف نقطہ نظر، مختلف عقیدوں ، مختلف مذاہب کے باوجو د امن و محبت و اتحاد کے ساتھ اور ایک ساتھ جینا سیکھ لیا ہے اور ساتھ ساتھ ایک دوسرے کا احترام بھی سیکھ چکے ہیں پوری دنیا کی ترقی اور خوشحالی کا یہ ہی راز ہے کہ انھوں نے اختلاف پر اتفاق کر لیا ہے۔

یاد رہے بڑے سے بڑا جہاز اس وقت تک نہیں ڈوب سکتا جب تک اس کے اندر سوراخ نہ ہو جائے۔ اختلاف پر اختلاف بڑی جہالت ہے، مذہب انسانوں کے ہوتے ہیں ریاست کے نہیں۔ مذہب کا تعلق عقیدے سے ہوتا ہے عقیدہ انسان کو خدا سے جوڑتا ہے جب کہ ریاست کا تعلق شہریوں سے ہوتا ہے نہ ہر شہری کا مذہب ایک ہوتا ہے نہ عقیدہ نہ ایک زبان۔ ایک ریاست کو چلانے کے لیے ایک غیر جانب دار، غیر مذہبی قانون کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہر شہری اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکے۔ ہمیں 72 سال گزر چکے ہیں مذہبی نفر توں میں جلتے ہوئے ایک دوسرے کو قتل کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کافرکہتے ہوئے۔ جون ایلیا کہتے ہیں یہ کون لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو قتل کر ڈالتے ہیں اور یہ قتل کر نیوالے ہمیشہ مذہب کے قبیلے سے کیوں اٹھتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عقل اور فلسفے کے لوگ کبھی ایک دوسرے کو قتل نہیں کرتے۔

آئیں! ہم بھی پوری دنیا کی طرف اختلاف پر اتفاق کر لیں، تاکہ ہمیں بھی ایک دوسرے کی محبت، اخوت، پیارنصیب ہو سکے اورہم بھی دنیا بھرکے ہمسفر بن سکیں۔

The post امن ہمارے اندر ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XhH04s
via IFTTT

چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایکسپریس اردو

میٹھا انسانی حیات کا لازمی جزو ہے گویا میٹھے کے بغیر انسانی خوراک کا تصور ہی نامکمل ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ میٹھا مختلف اشکال میں ہوتا ہے۔ مثلاً ماضی قریب میں میٹھے کا حصول دیسی و روایتی طریقوں سے ہوتا تھا یعنی گڑ و لال شکر۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی اور عصر حاضر میں تمام میٹھی اشیا و میٹھے کھانے فقط چینی ہی سے تیار ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہم چینی کی تیاری و اس سے متعلقہ امور پر تفصیلی گفتگو کریں۔ چینی کی تیاری کا اہم ترین ذریعہ ہے گنا جس کی فصل ہمارے ملک میں وسیع پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے یہ فصل نو ماہ میں تیار ہوتی ہے۔

آغاز میں گنے کی فصل کو ہر ایک ماہ بعد پانی کی ضرورت ہوتی ہے پھر کوئی تین سے چار ماہ بعد گنے کی فصل کو پانی دینے کی مدت دو ماہ ہوتی ہے۔ گویا فصل کے آغاز سے تیاری تک کوئی چھ بار گنے کی فصل کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ گنے کی فصل کا آغاز مارچ میں ہوتا ہے تاکہ اکتوبر و نومبر تک یہ فصل تیار ہو جائے کیونکہ اکتوبر و نومبر ہی شوگر ملز میں گنے کی کریشنگ کے سیزن کا آغاز ہوتا ہے، چنانچہ کسان کو اپنی گنے کی فصل شوگر ملز میں لانے سے قبل شوگر ملز انتظامیہ سے ایک پرچی حاصل کرنی ہوتی ہے یہ اجازت نامہ ہوتا ہے کہ کسان تیار گنا شوگر ملز میں لے آئے، بغیر پرچی کے گنا لانے والے سے گنا نہیں خریدا جاتا۔ اب کھیت سے گنا ٹرالی پر لوڈ کرکے شوگر ملز لایا جاتا ہے مگر یہ گنا فوری طور پر شوگر ملز انتظامیہ نہیں خریدتی بلکہ تین سے چار روز تک یہ ٹرالی قطار میں شوگر ملز کے باہر شاہراہ پر کھڑی رہتی ہے۔

اس عمل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ گنے کا وزن کم ہو جائے البتہ اس عمل سے نقصان کسان ہی کو ہوتا ہے پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ گنے کا کانٹے پر وزن ہوتا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہے کسان نے اپنا گنا شوگر ملز کے حوالے کر دیا۔ یہ ضرور ہے کہ کسان کو اپنے گنے کی رقم فوری حاصل نہیں ہوتی بلکہ چار سے چھ ماہ کبھی ایک برس تک اس رقم کی ادائیگی میں لگ جاتا ہے۔

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک نامور ترین سیاسی شخصیت کی شوگر ملز سے 2013 سے قبل کی رقم اب تک ادا نہیں ہوئی، البتہ اگر درمیان میں تھرڈ پارٹی آ جائے جوکہ گنے کی خریداری میں کردار ادا کرتی ہے، کسان سے فی من چار سے پانچ روپے کم قیمت پر خرید لیتی ہے اور کسان کو فوری رقم کی ادائیگی کر دیتی ہے۔ اس کیفیت میں کسان کو رقم فوری حاصل ہو جاتی ہے مگر چار سے پانچ روپے فی من کم قیمت پر بدترین استحصال کسان کا اس طرح بھی ہوتا ہے۔

کاٹ کے نام پر 15 سے 30 فیصد تک کم وزن کے روپے کسان کو حاصل ہوتے ہیں یعنی سو من گنا کسان دے گا تو 70 سے 85 من گنے کی قیمت حاصل ہو گی جب پچاس ٹرالی کا لوڈ گنا شوگر ملز میں آ جائے تو پھر گنے کی کریشنگ کا آغاز ہوتا ہے جوکہ اکتوبر و نومبر میں ہوتا ہے۔ گنے کی کریشنگ سے حاصل کردہ جوس بوائلر میں ڈالا جاتا ہے تاکہ یہ گنے کا جوس شیرے کی شکل اختیار کر لے البتہ بوائلر کے نیچے مسلسل آنچ کا ہونا ضروری ہے جوکہ گنے کے بھوسے کو جلا کر حاصل ہوتی ہے البتہ بوائلر کے ساتھ ٹربائن کا چلنا بھی ضروری ہے بوائلر میں مختلف خانے ہوتے ہیں چنانچہ اگر بوائلر میں جوس کو شیرے کی شکل دی جاتی ہے۔

دوسرے خانے میں پانی کا خوب گرم ہونا ضروری ہے تاکہ اس گرم پانی سے اٹھنے والی بھاپ سے برقی رو حاصل کی جا سکے ۔یہ برقی رو شوگر ملز کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ شوگر ملز سے ملحق رہائشی کالونی کے لیے بھی کافی ہوتی ہے گویا شوگر ملز کو برقی رو کا بل بھی ادا نہیں کرنا ہوتا، بہرکیف گنے کے جوس سے حاصل کردہ شیرے سے اول بلیک شوگر حاصل کی جاتی ہے پھر اس بلیک شوگر کو بلیک گڑ کی شکل دی جاتی ہے پھر اس بلیک گڑ کو تیاری کے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے تاوقت یہ کہ یہ بلیک گڑ براؤن شوگر کی شکل اختیار نہ کر لے۔

البتہ اس عمل کے دوران مختلف اقسام کے کیمیکلز کا استعمال لازمی شرط ہے۔ براؤن شوگر گویا اول درجے کی دانے دار چینی ہوتی ہے البتہ براؤن شوگر یا دانے دار چینی کے بعد درجہ دوم، درجہ سوم و درجہ چہارم کی چینی تیار ہوتی ہے کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ درجہ چہارم بھی کوئی آخری درجہ نہیں بلکہ اس بعد مختلف درجات کی چینی تیار ہوتی رہتی ہے۔ یہ درجات اس وقت ختم ہوتے ہیں جب پاکستان میں فروخت ہونے والی چینی تیار ہوتی ہے وہ بھی 90 روپے کلو۔ اس چینی کو شوگر ملز ملازمین جو نام دیتے ہیں وہ قابل تحریر نہیں کیونکہ بہرحال یہ کھانے کی چیز ہے۔

براؤن شوگر یا دانے دار چینی و دیگر درجات اعلیٰ چینی بیرون ممالک کو برآمد کر کے کثیر رقم حاصل ہوتی ہے۔ شیرے کو جب گرم کیا جاتا ہے تو اس سے اٹھنے والی بھاپ سے الکحل بھی حاصل کی جاتی ہے یہ الکحل نشہ آور اشیا کے ساتھ ساتھ ادویات میں بھی استعمال ہوتی ہے، البتہ رقم کے حصول کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ شیرے کی آخری شکل جس سے شوگر ملز انتظامیہ کچھ بھی تیار کرنے سے قاصر ہوتی ہے وہ شیرا بھی قابل فروخت ہوتا ہے۔ یہاں ایک اور پارٹی داخل ہوتی ہے جوکہ یہ شیرا کثیر رقم کے عوض حاصل کرکے اس سے بچوں کی ٹافیاں تیار کرتی ہے، بلکہ جو بھوسہ جلانے سے بچ جاتا ہے وہ بھوسہ بھی فروخت کر دیا جاتا ہے البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ عام حالات میں جس شوگر ملز میں 500 ملازمین کام کرتے ہیں سیزن کے دوران ان ملازمین کی تعداد 1500 تک ہو جاتی ہے۔ یہ سیزن پورے سال میں کوئی چار سے پانچ ماہ ہی ہوتا ہے۔

البتہ ان ملازمین کو جوکہ دسمبر و جنوری کی سخت ترین سردی کے موسم میں بھی جون و جولائی کے گرم ترین ماحول میں کام کرتے ہیں، ان ملازمین کو مشکل سے حکومت کی اعلان کردہ اجرت ہی حاصل ہوتی ہے کوئی اضافی رقم نہیں حاصل ہوتی پھر ماسوائے دو نامور شوگر ملز کے دیگر اکثر شوگر ملز ملازمین کو طبی سہولیات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔ یہ کہا جاتا ہے شوگر ملز مالکان کو اربوں روپے کی سبسڈی بھی حکومت کی جانب سے ماضی میں دی گئی۔

اس کے باوجود کیفیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ خالص ترین منافع کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ایک حصہ ملازمین کی اجرت میں جاتا ہے، دوسرا حصہ شوگر ملز مالک کی جیب میں جاتا ہے جب کہ تیسرا حصہ پرزہ جات کی مرمت کے نام پر رکھ لیا جاتا ہے گویا کوئی 33 فیصد ملازمین کی اجرت میں ادائیگی کوئی 6 فیصد مرمت کے کام آتا ہے باقی 60 فیصد منافع شوگر مل مالک کی جیب میں جاتا ہے۔ مقام افسوس و حیرت ہے کہ اس قدر منافع حاصل ہونے کے باوجو د آئے روز چینی کا مصنوعی بحران پیدا کر کے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے ہماری موجودہ پی ٹی آئی حکومت کو اس معاملے میں سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ عوام مزید اضافہ خوردنی اشیا میں برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے امید ہے، وزیر اعظم صاحب اس مسئلے پر ہمدردی سے غور فرمائیں گے۔

The post چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gwLEDz
via IFTTT

پاکستانی شوبز ستاروں کی مداحوں کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد ایکسپریس اردو

عیدالاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر پاکستانی شوبز ستاروں نے مداحوں کو سماجی رابطوں کی سائٹ پر مبارکباد دی ہے۔

ملک بھر میں آج عید الاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی اور سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے الله کی راہ میں جانوروں کی قربانی بھی کی جارہی ہے۔ عیدالاضحیٰ کے اس پرمسرت موقع پر پاکستانی شوبز ستاروں نے بھی مداحوں کو سماجی رابطوں کی سائٹ پر مبارکباد دی ہے۔

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی نوبیاہتا جوڑی آغاعلی اور حنا الطاف نے مداحوں کو عید کی مبارکباد دی، حنا الطاف نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کہا کہ کہانی گھر گھر کی، عید مبارک۔

ابھرتے ہوئے گلوکار عاصم اظہر نے بکرے ساتھ انسٹاگرام پر تصویر لگائی اور کہا کہ اللہ ہم سب کی قربانی قبول فرمائے۔

ماورہ حسین نے بھی تصویر پوسٹ کی اور اپنے مداحوں کو عید کی مبارکباد دی۔

یاسر حسین اور اقرا عزیز نے مداحوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ خوش رہیں اور گوشت کھائیں۔

ساراہ علی خان نے بھی اپنی شادی کی تصویر انسٹاگرام پر لگائی اور مداحوں کو عید کی مبارکباد دی۔

The post پاکستانی شوبز ستاروں کی مداحوں کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Dl9hA6
via IFTTT

بھارت میں شراب نہ ملنے پر سینیٹائزر پینے سے ہلاکتوں کی تعداد 38 ہوگئی ایکسپریس اردو

آندھرا پردیش: بھارت میں شراب نہ ملنے پر پانی اور سافٹ ڈرنکس میں سینیٹائزر ملاکر پینے سے ہلاکتوں کی تعداد 38 تک پہنچ گئی ہے۔

بھارتی ریاست آندھرا پردیش اور پنجاب میں کورونا کے باعث شراب کی دکانیں بند ہیں تاہم شراب کی لت پوری کرنے کے لیے سینی ٹائزر کو پانی، سافٹ ڈرنکس اور جعلی شراب میں ملا کر پینا شروع کردیا جس کے باعث اب تک 38 افراد ہلاک ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نشئیوں ہلاکتیں امرتسر، بٹالہ اور ترن ترن کے اضلاع میں ہوئی جب کہ ہلاکتوں کے واقعات مزید بڑھتے جارہے ہیں، دوسری جانب  بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے جالندھر کے ڈویژنل کمشنر کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

The post بھارت میں شراب نہ ملنے پر سینیٹائزر پینے سے ہلاکتوں کی تعداد 38 ہوگئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/33lGVkl
via IFTTT