Sunday, November 1, 2020

شکست خوردہ ذہنیت ایکسپریس اردو

ایک دفعہ ایک بادشاہ اپنی والدہ کے ساتھ جوا کھیلنے لگا۔ کھیل بہت آسان تھا، ایک پانسہ تھا جس پر ایک سے لے کر چھ تک ہندسے لکھے ہوئے تھے۔ ایک نمبر بادشاہ لے لیتا اور ایک اس کی والدہ۔ پھر پانسہ پھینکا جاتا۔ اگر دونوں نمبر نہ آتے تو کھیل برابر اور اگر بادشاہ کا نمبر آجاتا تو والدہ اسے شرط پر لگی رقم دے دیتی اور اگر والدہ کا نمبر آجاتا تو بادشاہ شرط پر لگایا گیا ایک غلام ہار جاتا، جسے محترمہ کی جیت کی خوشی میں شوقیہ ذبح کردیا جاتا۔ اس طرح کئی غلام بے موت مارے جاتے۔ ایک اور بادشاہ کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے تیر اندازی کی مشق کے دوران تختہ مشق کی جگہ ایک لڑکے کو کھڑا کردیا اور اس کے باپ کے آنکھوں کے سامنے اس کا نشانہ لے کر اسے مار دیا اور اس کا باپ بادشاہ کے قدم چوم کر اس کی نشانہ بازی کی مبارک باد دیتا ہے۔ زبردست مارتا ہے اور رونے بھی نہیں دیتا۔

اس طرح کے کئی واقعات ہم نے پڑھ رکھے ہیں، اس لیے جب بھی بات غلامی کی آتی ہے تو ہمیں یہی سوجھتا ہے کہ غلاموں کی منڈی ہوتی تھی اور اس میں غلام بکتے تھے جو جسمانی اور ذہنی لحاظ سے اپنے خریدار کے پابند ہوتے تھے۔ خاندان غلاماں نے حکمرانی بھی کی مگر اب سلاطین کا دور نہیں رہا اور اس کے ساتھ ہی غلامی بھی ختم ہوگئی۔ مگر کیا واقعی غلامی اپنی موت آپ مرگئی؟ میرا خیال ہے کہ انسانوں کے سیاسی، معاشی، ثقافتی، ذہنی اور تمدنی تغیر کے ساتھ غلامی نے بھی اپنی ہیئت بدل لی ہے۔

دنیا میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس میں ایک یہ بھی تھی کہ انسان اپنے آپ کو آزاد تصور کرے مگر اس کے پاؤں میں نہ دکھنے والی زنجیر ہو، اس کے گرد نہ محسوس ہونے والا پنجرہ ہو اور اس پر جو ظلم کیے جائیں وہ انہیں تقدیر کے کھاتے میں ڈال دے اور ظالموں کو نہ صرف بے قصور مانے بلکہ انہیں اپنا مسیحا گردانے۔

مسلمان جب تک ذہنی طور پر آزاد تھے اپنے فیصلے خود کرتے تھے، دنیا پر حکمرانی کرتے تھے۔ اسلام کو دنیا کے کونے کونے تک لے کر پہنچے۔ مگر پھر انگریزوں نے انہیں اپنا غلام بنا لیا، جس کے خلاف پوری ایک صدی مسلمان جدوجہد کرتے رہے مگر پھر اگلی صدی میں ان کی آنے والی نسل پوری طرح غلامی کو اپنا مقدر جان کر، اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں لگ گئی۔ وہ پڑھ لکھ کر انگریزوں کے نوکر بھرتی ہونے پر فخر کرنے لگے اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر و اعلیٰ تصور کرنے لگے۔ کچھ لوگ غلامی سے آزادی کےلیے جدوجہد کرتے ہیں اور کچھ لوگ غلامی کی شرائط کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آج ہم دوسرے طبقے کے لوگوں میں رہتے ہیں، جو اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ دیکھو ہمارا مطالبہ مان لیا گیا اور ہماری غلامی میں مزید بہتری آگئی۔

کتنا آسان ہے تائید کی خُو کر لینا
کتنا دشوار ہے اپنی کوئی رائے رکھنا

ایسی غلامی کو ذہنی غلامی کہتے ہیں۔ جسمانی غلامی اتنی خطرناک نہیں ہوتی جتنی ذہنی غلامی ہوتی ہے۔ جسمانی غلامی سے تو آزادی مل سکتی ہے لیکن ذہنی غلامی نسلیں برباد کردیتی ہے۔ ذہنی غلامی ان رویوں کا باعث بنتی ہے جو غلامی کی زنجیروں کو اور مضبوط کرتی ہے۔ انگریز بڑی ذہین قوم تھی اور انہوں نے یہ ذہانت ہمارے ہی علمی سرمائے سے حاصل کی، جسے ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ ایک صدی میں انہوں نے اس بات کا مکمل بندوبست کردیا کہ اگر ہماری حکمرانی ختم بھی ہوجائے تو ہم اپنے ایسے ذہنی غلام پیدا کرجائیں جو یہاں سے کما کر ہمیں ہمارے گھر میں سرمایہ بھیجتے رہیں۔ اور اس کےلیے انہوں نے یہاں کی اقلیت کو امیر تر بنادیا، کیونکہ اقلیت ہونے کے ناتے وہ اپنے زیادہ سرمایہ کو یہاں غیر محفوظ سمجھ کر ہمارے پاس جمع کرائیں گے اور یہی ہوا بھی۔ کیوں کہ کراچی جو کبھی پارسیوں کی جنت تھا اور وہ امیر ترین اقلیت تھے، مگر اب وہاں چند گھر انے ہی بچے ہیں، باقی سب اپنا مال سمیٹ کر اپنے آقاؤں کے پاس لے گئے۔

اسی طرح یہاں کی اکثریت کو یہ یقین دلا دیا کہ ان کے بہترین مستقبل کےلیے انگریز کا قانون کتنا ضروری ہے۔ اگر تم نے ترقی کرنی ہے تو ہماری غلامی میں ہی ہوسکتی ہے۔ انگریزوں نے ہم پر احسان کیا کہ بینک کا نظام، سود کا نظام، عدالتی نظام، قانون سب وہ ہمیں دے کر گئے اور ہم نے انہیں سرمایہ حیات بنا کر آج تک سینے سے لگایا ہوا ہے۔ ہم اسی میں اپنی نجات مانتے ہیں۔ اور جو نظام خالقِ کائنات نے ہمیں دیا، اسے ہم نے پس پشت ڈال دیا کہ وہ جدیدیت پر پورا نہیں اترتا۔ اس سے بدتر غلامی کی مثال شاید ہمیں تاریخ کے اوراق میں بھی نہ ملے جس غلامی میں ہم لوگ جی رہے ہیں۔

بظاہر ہمارا ملک آزاد ریاست، اسلام کا قلعہ ہے مگر غلامی کی نادیدہ زنجیروں سے لپٹے اور اسلام کی اصل سے نابلد لوگوں کا ایک مجموعہ ہے جو اسلام کے نام پر جان تو دے سکتے ہیں مگر اسلام نافذ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ کیوں کہ اس سے انگریز بہادر جو ناراض ہوجائے گا۔

کہتے ہیں کہ غلامی کی بدترین شکل وہ ہے، جب غلاموں کو اپنی زنجیروں سے پیار ہوجائے اور ہمیں تو عشق ہے صاحب ان زنجیروں سے۔ اسی لیے تو ہم ہر اچھے کام کی مثال کےلیے انگریزوں کو دیکھتے ہیں اور ہر برائی کو مسلمان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ اسی لیے تو ہمارے معاشرے میں یہ جملہ کثرت سے سنا جاتا ہے کہ ’’ڈاڈھے نال پنگا نئی لینا، اسی ماڑے لوگ آں‘‘ مطلب کیا ضرورت تھی ان سے لڑائی مول لینے کی، وہ طاقتور لوگ ہیں اور ہم غریب، ہمارا ان کا کیا مقابلہ۔ یعنی طاقتور کے آگے کھڑے نہیں ہونا، لڑنے سے پہلے ہی ہار مان لینا اور غریب پر اپنی زور آزمائی دکھا کر بہادری کی مثال قائم کردینا۔ یہی ہماری تعلیم ہے، یہی ہماری حکومت ہے، یہی ہماری معاشرت ہے اور یہی ہماری اصل۔

ایسے علوم، ایسی دانش اور تدبیر اور ایسی حکومت سازی کبھی نہیں پنپ سکتی جو غریب کا لہو چوس کر استوار کی جائے۔ جس کے تحت نعرے تو مساوات کے بلند کیے جائیں لیکن عملی طور پر غریب کو غریب تر بنادیا جائے اور وہ جیتے جی مر جائے۔ اسی لیے ہم ترقی پذیر سے کبھی ترقی یافتہ نہ بن سکے۔

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے
چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے
ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر
یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے

ہماری ذہنی پستی کی میں کیا مثال دوں، یہی کیا کم ہے کہ ہم نے اپنے آقا کے کہنے پر روزمرہ زندگی میں قدرتی اشیاء جو ہماری صحت و تندرستی کےلیے بہت ضروری ہیں، کو چھوڑ کر انگریز بہادر کی بنائی ہوئی مصنوعی اشیاء استعمال میں لاتے ہیں۔ قدرتی پانی آلودہ اور منرل واٹر (جو منرلز نکال کر بنایا جاتا ہے) صحت کے اصولوں کے عین مطابق، دیسی گھی بدبودار جبکہ ڈالڈا گھی خوش ذائقہ، دودھ ملاوٹی اور کیمیکل کا پاؤڈر خالص، تازہ پھلوں کے جوس جراثیم سے بھرپور جبکہ ڈبے والا جوس اسٹرلائزڈ وغیرہ۔ مطلب قدرت کی پیداوار انسان کےلیے موت اور ان انگریزوں کی پیداوار انسان کےلیے آب حیات کا درجہ رکھتی ہے۔ پہلے لوگ آلودہ چیزیں کھا کر پہلوان بنتے تھے اور اب خالص اشیاء کھا کر ٹی بی اور یرقان کا علاج کراتے پھرتے ہیں۔

ذرا سا سونگھ لینے سے بھی انور
طبیعت سخت متلانے لگی ہے
مہذب اِس قدر میں ہوگیا ہوں
کہ دیسی گھی سے بو آنے لگی ہے

یہ شکست خوردہ ذہنیت کی انتہا ہے۔ ایسی قوم اپنے مفادات کا تحفظ کیا کرے گی جس کے تمام مفادات ہی ان سے جڑے ہوں، جن کو وہ بظاہر اپنا دشمن گردانتے ہوں۔ مسلمانوں کی اسی ذہنی شکستگی کو علامہ محمد اقبال نے محسوس کرکے اس طرح بیان کیا۔

سینے میں رہے رازِ ملوکانہ تو بہتر
کرتے نہیں محکوموں کو تیغوں سے کبھی زیر
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر

مسلمانوں کو ایک عظیم قوت بنانے کےلیے اپنی روحوں کو دوبارہ تسخیر کرکے ان عظیم روایات اور اصولوں پر سختی سے جم جانا چاہیے جو ان کے زبردست اتحاد کی بنیاد ہیں اور ان نادیدہ زنجیروں کو توڑ کر اپنے اسلامی تشخص کو بحال کرنا چاہیے کہ اسی میں دنیا اور آخرت کی نجات ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post شکست خوردہ ذہنیت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ehiyYb
via IFTTT

Saturday, October 31, 2020

فیضان عشق رسول کے نام سے1212 مساجد بنائیں گے، الیاس قادری ایکسپریس اردو

کراچی: امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری نے 12 ربیع الاول کی شب عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ  میں محفل میلاد میں دشمنان اسلام کی جانب گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے متعلق ایک اہم اعلان کرتے ہوئے فیضان عشق رسول کے نام سے 1212 مساجد بنانے اعلان کردیا۔

امیر اہلسنت نے کہا کہ گستاخوں نے جو خاکے بنائے اس سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوئے، اللہ ان بد بختوں کو ہدایت دے اور اگر ہدایت نہیں تو انھیں نست ونابود کردے ،اللہ انھیں تباہ وبرباد کردے اور انھیں نشان عبرت بنادے، امیر اہلسنت نے کہاکہ  اللہ کرے سرکار کی محبت ہمارے دل میں رہے، دل میں عشق رسول کی شمع روشن رہے جشن ولادت کے موقع پر سجدہ شکر کریں، کیونکہ ہمیں بہت بڑی نعمت ملی ہے ہمیں جو عزت ملی ہم اس عزت سے لوگوں کو اللہ کی بارگاہ میں جھکائیں، نمازی بنائیں انھیں سنتوں کا پابند بنائیں۔

مولانا محمد الیاس عطار قادری نے کہا کہ گستاخان رسول کے رد میں دعوت اسلامی فیضان عشق رسول مساجد بنائے گی، مساجد بناتے رہیں بڑھاتے رہیں اور انھیں بڑھاتے رہیں، ہم مزید دین کے ساتھ مربوط ہوجائیں گے، اگر وہ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کریں گے تو ہم مساجد کی تعداد بڑھادیں گے نمازی  بنائیں گے، امیر اہلسنت نے کہا کہ ہمارے لیے سرکار کی ذات قابل تقلید ہے اور ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔

 

The post فیضان عشق رسول کے نام سے1212 مساجد بنائیں گے، الیاس قادری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34IjDoR
via IFTTT

کے ایم سی میں مالی بحران، ادائیگیاں روک دی گئیں ایکسپریس اردو

کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میٹرو پولیٹن کمشنر نے ادارے میں مالیاتی بحران کے باعث لیو انکیشمنٹ اور صرف ایک ماہ کے سپلیمنٹری تنخواہی بل کے سوا فوری طور پر تمام سپلیمنٹری بلوں کی پرنٹنگ اور ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

میٹرو پولیٹن کمشنر کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق آئندہ کے ایم سی پے رول میں ایڈمنسٹریٹر کراچی کی منظوری کے بغیر کسی نئی انٹری کا اضافہ نہیں ہو گا اس حوالے سے ہدایات کی خلاف ورزی سنگین غفلت شمار ہو گی اور ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس اقدام کا مقصد بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مالیاتی نظم قائم کرنا اور اس کے ساتھ اخراجات میں کفایت شعاری لانا ہے۔

میٹرو پولیٹن کمشنر کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کو بدترین مالی بحران کا سامنا ہے اور وہ ملازمین کو وقت پر ماہانہ تنخواہ ادا نہیں کر پا رہی جبکہ مختلف مدات میں سپلیمنٹری کلیمز میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں پروموشن، اپ گریڈیشن، تنخواہ کے فرق کے بل اور واجب و وصول تنخواہ وغیرہ شامل ہے جس کے بھاری مالی مضمرات ہوئے ہیں اور کے ایم سی مزید اس صورتحال کی متحمل نہیں ہو سکتی لہٰذا یہی وقت ہے کہ ایسے تنخواہی کلیمز کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ادارے کے وسائل کی صرف اشد ضروری مدات میں ہی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

 

The post کے ایم سی میں مالی بحران، ادائیگیاں روک دی گئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2TEQJ2L
via IFTTT

دھوکا دہی سے BISP رقوم کا حصول، مزید 10خواتین کو سزائیں ایکسپریس اردو

حیدرآباد: دھوکا دہی سے امدادی رقم حاصل کرنے کے جرم میں سرکاری ملازمین کی بیگمات اور قریبی رشتے دار مزید10خواتین کو سزائیں سنا دی گئیں۔

سول جج وجوڈیشل مجسٹریٹ نمبر9 منظورعلی پنہور کی عدالت نے دھوکا دہی کے ذریعے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی مالی امداد حاصل کرنے پر سرکاری ملازمین کی بیگمات یا قریبی رشتے دار مزید 10 خواتین  کو قید وجرمانے کی سزائیں سنادیں۔

فاضل عدالت نے ایف آئی اے حیدرآباد میں اس سے متعلق درج کیے گئے 10 مقدمات کی سماعت کی۔ ان مقدمات میں نامزد 10 خواتین نے عدالت کے روبروتحریری طورپر اعتراف جرم کیا جس پر عدالت نے ملزمان کو تا برخاست عدالت  قید اور فی کس8 ہزار روپے جرمانے کی سزائیں سنادیں۔

جن خواتین  کوقید وجرمانے کی سزائیں سنائی گئیں ان میں سے ملزمہ مسماۃ رحمت عبدالستارببر کے خلاف 14 جولائی 2020 کو، 5 خواتین صغراں الیاس ابڑو، شہناز سردار خان، مسماۃ بیگم منٹھار علی، عائشہ غلام شبیر، نشاء خاتون غلام مرتضی کے خلاف 2ستمبر 2020 جبکہ 4خواتین  زینب عبدالرحمان، اسما دھنی بخش، ملیکہ عبداللطیف پنہور اور غلام صغرٰی نور محمد کے خلاف3 ستمبر 2020کو ایف آئی اے نے مقدمات درج کیے تھے۔ مقدمات کے اندراج کے بعدملزم خواتین  ضمانت پر رہا تھیں۔

 

The post دھوکا دہی سے BISP رقوم کا حصول، مزید 10خواتین کو سزائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3oT6l15
via IFTTT

یوٹیلٹی اسٹورز پر دالیں 20روپے کلو تک مہنگی ایکسپریس اردو

اسلام آباد: یوٹیلٹی اسٹورز پر دالوں کی قیمتوں میں 20 روپے کلو تک کا اضافہ کردیا گیا۔

یوٹیلٹی اسٹورز پر دالوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔دال ماش 15 سے 20 روپے فی کلو مہنگی کی گئی اور دال ماش کی قیمت 235 روپے فی کلو سے بڑھا کر 250 روپے کر دی گئی،دال مسور 10 سے 15 روپے فی کلو مہنگی کردی گئی، دال مسور کی قیمت 135 سے بڑھا کر 150 روپے کر دی گئی۔

قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری اطلاق بھی ہوگیا۔

 

The post یوٹیلٹی اسٹورز پر دالیں 20روپے کلو تک مہنگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/35VvKyn
via IFTTT

پاکستان، چین کے 3 ارب ڈالر کی واپسی کی مدت میں توسیع کا خواہاں ایکسپریس اردو

اسلام آباد: پاکستان نے چین سے 3 ارب ڈالر ( 20ارب یوآن ) کے قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان نے چین سے یہ قرض دونوں ممالک کی کرنسیوں میں باہمی تجارت کے فروغ کے لیے لیا تھا مگر اسے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مالیاتی اکاؤنٹس برائے 2019-20 سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینک چین سے حاصل کردہ 3 ارب ڈالر ( 20ارب یوآن )   پورا استعمال کرچکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے قراہم کردہ یہ رقم بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور  غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے میں استعمال کی گئی۔

واضح رہے کہ چین سے یہ قرض  bilateral currency swap agreement ( CSA) کے تحت حاصل کیا گیا تھا۔ اسٹیٹ بینک اور پیپلزبینک آف چائنا کے درمیان یہ معاہدہ  2011 میں طے پایا تھا جس کا مقصد دوطرفہ تجارت، براہ راست سرمایہ کاری کا فروغ اور  مختصر مدتی لکوڈٹی سپورٹ فراہم کرنا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم سی ایس اے میں مزید 3 سال کی توسیع چاہتے ہیں۔ 3 ارب ڈالر ( 20ارب یوآن ) کی یہ رقم مرکزی بینک کے پاس محفوظ زرمبادلہ کے موجودہ 12.1 ارب ڈالر کے ذخائر کا حصہ ہے۔

 

The post پاکستان، چین کے 3 ارب ڈالر کی واپسی کی مدت میں توسیع کا خواہاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3kZNqPP
via IFTTT

عمران خان نے نوبل انعام ایوارڈ لینے کے لیے ابھی نندن کو رہا کیا تھا ... کرنل حبیب بھارت کی قید میں ہے،عمران خان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں کہ انہیں چھڑوا لیتا