Saturday, June 29, 2019

مشکل فیصلے اور معیشت ایکسپریس اردو

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ طویل مدتی فوائد کے حصول کے لیے مشکل اور نتیجہ خیز فیصلے کیے، حکومت کے مشکل فیصلوں کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے سب کو مل کر ذمے داری ادا کرنی چاہیے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وہ انسٹیٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز، ریسرچ اینڈ اینالیسز (آئی ایس ایس آر اے)کے زیراہتمام نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ’’قومی معیشت‘‘ کے عنوان پر سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

سیمینارمیں مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹرسلمان شاہ، ڈاکٹر فرخ اقبال، عابد قیوم سلہری، الماس حیدر، سید شبرزیدی اور ڈاکٹر اشفاق حسن سمیت دیگر معاشی ماہرین نے شرکت کی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے در حقیقت درپیش اقتصادی صورتحال کے درست سیاق وسباق میں ایک مضبوط مائنڈ سیٹ کی بات کی ہے جسے مشکل فیصلوں کے تاریخ ساز ٹاسک کی مشترکہ تکمیل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی قومی اہمیت کے معاملات پر بات چیت ضروری ہے، ملک مشکل معاشی حالات سے دوچار ہے، ماضی میں مشکل فیصلے نہ کرنے سے مشکلات بڑھ گئی ہیں، ماضی میں ہم مشکل فیصلے کرنے سے کتراتے رہے۔

بری فوج کے سربراہ نے ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کیا ہے، ملک کی سیاسی و معاشی تاریخ کی ورق گردانی کرنے سے واضح ہوگا کہ قوموں کی تقدیر دلیرانہ فیصلوں سے بدلی جاتی ہے، دانا و مدبر قیادتیں وقتی مصلحتوں اور عارضی سمجھوتوں کو خاطر میں نہیں لاتیں، ان کی نبض قومی امنگوں اور احساسات پر ہوتی ہے، ملکی سالمیت، ترقی و استحکام اور عوام کی خوشحالی کے اہداف ان کے دلوں پر نقش ہوتے ہیں، یہی قیادتیں کایا پلٹ کر افتادگان خاک کو ملکی سیاسی و معاشی نظام سے جوڑے رکھتی ہیں، قومی تکجہتی کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ خطے کی ترقی کے لیے علاقائی رابطوں کو فروغ دینا ہو گا، ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں، مشکل فیصلے کرنے سے مختلف ملک معاشی بحران سے کامیابی سے نمٹے، ماضی قریب میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب مختلف ممالک کو اس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہا، معاشی کاوشوں کو کامیاب بنانے کے لیے سب کو ذمے داری پوری کرنا ہوگی، انشا اللہ ہم مشکل حالات سے سرخ رو ہو کر نکلیں گے۔ یہ وقت ایک قوم بننے کا ہے، مشکل حالات میں کوئی فرد واحد قومی اتحاد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ معاشی خودمختاری کے بغیر آزادی کا کوئی تصور نہیں، مسلح افواج نے سالانہ دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لے کر ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ معاشی حالات پر آرمی چیف کا بیان امید کی کرن ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ، اقتصادی امور و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے چیلنجز میں اضافے کی وجوہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ سابق ادوار میں مستقل سیکیورٹی خطرات، معاشی پالیسیوں اور مالیاتی نظم و ضبط میں عدم تسلسل اور مشکل فیصلہ نہ لینے کے باعث آج ہمیں موجودہ معاشی صورتحال کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے معیشت اور سیکیورٹی کے درمیان تعلق کو اجاگرکیا۔

سیمینار میں بجٹ خسارہ، کم ٹیکسز وصولی، گردشی قرضہ، سرکاری کاروباری اداروں کے خسارے، مالیاتی بے ضابطگی، غیر دستاویزی معیشت، کمزور ادارہ جاتی استعداد اورکم برآمدات کی وجوہ، این ایف سی کے زیرانتظام وفاقی ذمے داریاں اور موجودہ معاشی ماحول کے بارے میں عام تاثر پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

ماہرین معیشت نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا خطاب واضح پیغام ہے کہ ملکی معیشت سے متعلق پاکستان کی سول و ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے اس سے بزنس کمیونٹی کا اعتماد بڑھے گا، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں قومی معیشت پرسیمینارمیں شریک ماہر معیشت اور ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ آرمی چیف کاخطاب خوش آئند ہے اوراس سے بزنس کمیونٹی کو اچھا پیغام گیا ہے۔

ایمنسٹی اسکیم کی تاریخ میں توسیع نہیں دینی چاہیے، یہ ہوسکتا ہے کہ 30 جون تک اثاثے ظاہر کر دیں اور ٹیکس بعد میں جمع کرانے کی اجازت دے دی جائے اور اس کیلیے بھی سہولت تو موجود ہے مگر جرمانہ ادا کرنا ہوگا، سیاسی درجہ حرارت میں کمی لانا ہو گی اپوزیشن کی جانب سے میثاق معیشت کی پیشکش کے لیے حکومت کو میچیور بنانے کیلیے کردار ادا کرنا ہوگا ،مشکل فیصلوں کے ثمرات کو بارآور بنانے کیلیے سرمایہ کاری اور برآمدات کو بڑھانا ہوگا، اب سول و ملٹری قیادت ملک کو اقتصادی بحران سے مستقل بنیادوں پر چھٹکارا دلانے کیلیے پرعزم ہے اور اس کیلیے جو بھی سخت فیصلے درکار ہوںگے وہ بلاتاخیر کیے جائیں، ان فیصلوں کی کڑوی گولی نگلنے کے جلد اچھے اثرات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور معیشت کی اڑان، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، امن وترقی میں بین المملکتی اشتراک،تجارتی قربتوں کا ہے۔ اگلے روز اپنے دورہ لاہور میں افغان صدر اشرف غنی کہہ رہے تھے کہ سینٹرل ایشیا تک تجارت پھیلانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،دنیا عالمی معیشت میں پاکستان کی شراکت داری کی متمنی ہے، ہمیں قابل عمل اقتصادی جست لگانی ہے۔بحرانوں کو پیچھے چھوڑنا ہے۔

 

The post مشکل فیصلے اور معیشت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2xih4Iv
via IFTTT

پولیو کے کیسزمیں اضافہ ایکسپریس اردو

گزشتہ دنوں ملک کے مختلف علاقوں میں پولیو کے کئی نئے کیسز سامنے آ گئے ہیں جس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسداد پولیو کی مہم پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کے پی کے میں پولیو کے پانچ نئے کیس ظاہر ہونے سے 2019 کے پہلے چھ ماہ میں پولیو کے کیسز کی مجموعی تعداد 32 تک پہنچ گئی۔ 2017 سے 2018 تک سال بھر میں12کیسز کی اطلاع دی گئی تھی اس سال خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ کیسز کی اطلاع ملی جو  18 تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحران اس بنا پر پیدا ہوا کیونکہ عوام کی طرف سے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا گیا۔ بعض شاطر حلقے ایک منصوبے کے تحت  پولیو ویکسین کے بارے میں کے پی کے عوام  میں شکوک و شبہات پیدا کررہے ہیں جنھیں حکام کی طرف سے دانشمندی کے ساتھ دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ ویسے تو پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں پولیو ویکسین کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسداد پولیو قطروں سے محروم رہ جانے والے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں جو اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونے کے قابل بھی نہ رہ پائیں گے۔ اس سال پولیو کیسز میں اضافہ بے حد تشویشناک ہے۔ ادھر دنیا کے زیادہ تر ممالک سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ تحریک نہایت کامیابی سے جاری ہے مگر اب نئی اطلاعات سے حکام کے لیے بڑی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

یہاں یہ امر بطور خاص قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں اگر پولیو کیسز کی تعداد اس رفتار سے بڑھتی رہی تو کوئی بعید نہیں کہ پاکستان سے دیگر ممالک کو جانے والوں کی تعداد نہ صرف بہت کم کر دی جائے گی بلکہ عین ممکن ہے کہ بیرون ملک جانے پر مکمل پابندی ہی عائد کر دی جائے۔ پاکستان کے علاوہ جن دیگر ممالک میں پولیو کے مریض موجود ہیں، ان میں افغانستان کے علاوہ افریقی ملک نائیجیریا شامل ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے اگر کہیں ایک بچہ بھی پولیو سے متاثر ہو جائے تو اس ایک بچے سے دیگر بچے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ بالخصوص ان علاقوں میں جہاں حفظان صحت کی مناسب سہولتوں کا فقدان ہو۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی طرف سے پولیو فری کنٹری کا سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے ۔

پاکستان میں 2015 میں پولیو کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی جس کے نتیجے میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی آنے لگی ہے۔ 2017میں صرف 3 کیسز سامنے آئے تھے جس کے بعد مجموعی تعداد8 ہو گئی چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پولیو کے انسداد کے لیے بھرپور کوششیں کرے اور ملک سے اس بیماری کا مکمل خاتمہ عمل میں آ سکے۔ وزیراعظم عمران خان کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

 

The post پولیو کے کیسزمیں اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Lsjf4Q
via IFTTT

ناسا کا زحل کے چاند پر مشن بھیجنے کا اعلان ایکسپریس اردو

امریکا کی خلائی تحقیقات کی ایجنسی ’’ناسا‘‘ اپنا اگلا خلائی مشن زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائی ٹان (Titan) کی جانب روانہ کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے تا کہ وہاں پانی تلاش کیا جا سکے اوریہ دیکھا جائے کہ آیا ’’ٹائی ٹان‘‘ پر زندگی وجود پذیر ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ زحل ہمارے شمسی نظام کا آخری سیارہ ہے جو فلکیات کے قدیمی ماہرین کو معلوم تھا، اس کا نام رومی زراعت کے دیوتا کے نام پر رکھا گیا تھا۔ تصوراتی تصاویر میں اس سیارے کے گرد چوڑی پٹیوں کے حلقے ہیں۔ اس سیارے کے نام پر جشن زحل دسمبر کے مہینے میں منایا جاتا تھا جو کرسمس کا پیشرو تھا۔ اس موقع پر بے تحاشا رنگ رنگی اور ہنگامہ خیز تقریبات مانئی جاتی تھی۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اعلان کیا ہے کہ زحل کے اس مشن کا نام ڈریگن خلائی مشن رکھا جائے گا جو امکانی طور پر 2026 میں شروع کیا جائے گا اور غالباً 2034 تک زحل پر پہنچ جائے گا۔

واضح رہے اس سیارے پر بہت زیادہ برف جمی ہوئی ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہاں پانی وافر مقدار میں موجود ہے۔ ناسا کا منصوبہ ہے کہ اس سیارے پر راکٹ کے ذریعے ڈرون ہیلی کاپٹر بھیجا جائے گا تاکہ وہ ادھر ادھر گھوم کر مطلوبہ اہداف تلاش کر سکے۔ زحل سیارہ مکمل طور پر برف زار ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سیارے کی فضا زمین کے ابتدائی زمانے جیسی ہے۔ اس سیارے پر دریا‘ جھیلیں اور سمندر کے آثار بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اگر تمام قیاس آرائیاں اور اندازے درست ثابت ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انسانی زندگی کے پنپنے کے لیے گنجائش میں اضافہ ہو جائے گا۔

The post ناسا کا زحل کے چاند پر مشن بھیجنے کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Xho1Jh
via IFTTT

ن لیگ کی حکومت نے توانائی کے شعبے میں بارودی سرنگیں نصب کیں بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کے لیے بے بس ہیں،عمر ایوب

یہ کس قسم کا انصاف ہے کہ جیل جائو یا تحریک انصاف میں جائو جس وزیراعظم کو بجٹ بنانے کا اختیار نہ ہو اسے سلیکٹڈ نہیں تو کیا کہیں؟بلاول بھٹو

بجٹ کا مطلب عوام کو ریلیف دیناہوتا ہے نہ کہ ٹیکس لگا کر عوام کا بھرکس نکالنا جہاں شفاف الیکشن نہیں ہوتے وہ ملک ترقی نہیں کرتے،شاہد خاقان عباسی

این آر او لینے والے کس منہ سے سلیکٹڈ کی بات کر رہے ہیں منی لانڈرنگ کرنے والے روپے کی قدر میں کمی کے ذمہ دار ہیں، وزیراعظم عمران خان