Thursday, September 26, 2019

بجلی گرتی بھی ہے تو مزدوروں پر ایکسپریس اردو

گزشتہ ایک سال میں محنت کشوں پر مہنگائی کی جتنی بجلی گری ہے، اتنی شاید ہی کسی اور طبقے پر گری ہو۔ ہرچند کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے اثرات تمام نچلے درجات کے لوگوں پر پڑے ہیں، لیکن مزدور تو ایک طرح سے نیم فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

اس لیے بھی کہ حکومت نے ایک غیر ہنرمند مزدور کی تنخواہ ساڑھے سترہ ہزار روپے مقرر کی ہے لیکن 80 فیصد مزدوروں کو یہ بھی میسر نہیں۔ اربوں روپے کے سامان حرب بنائے اور خریدے جاتے ہیں لیکن ایک کسان کے بیٹے کو کتے کے کاٹنے کے بعد ویکسین نہ ہونے سے وہ ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر مرجاتا ہے اور دھن والے ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں ٹی وی پر دیکھ کر افسوس کرتے ہیں۔ دوزخ کا نظارہ بہت ہی دردناک ہوتا ہے مگر اسے دور سے ہی دیکھنا امیروں کے لیے اچھا ہے۔

اگر ایک مزدور سب کچھ چھوڑ کر صرف سبزی، دال اور آٹے سے جینا چاہے تو بھی اسے نیم فاقہ کشی کی زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ اس لیے کہ سبزی سو سے ڈیڑھ سو روپے کلو، دالیں ایک سو ساٹھ سے دو سو تیس روپے کلو اور آٹا پچپن روپے کلو ہے۔ اب اسے پکانے کے لیے مرچ مسالہ، تیل، لہسن، ادرک اور پیاز کی ضرورت ہے۔ مسالے چار سو روپے کلو، لہسن دو سو چالیس روپے کلو، ادرک تین سو بیس روپے کلو، پیاز نوے روپے کلو اور تیل دو سو پینتیس روپے کلو، ایک کمرے کے مکان کا کرایہ چھ ہزار روپے ہے، پانی پینے کا چھوٹا کین بغیر معدنیات کے پندرہ روپے کا، گیس بجلی کا خرچ ایک روز کا کم از کم ایک سو پچاس روپے پڑتا ہے۔ اب بتائیں کہ آٹھ سو سے بارہ سو روپے دیہاڑی پر کام کرنے والا مزدور کیسے گزارا کرتا ہوگا؟

ہر جگہ اور ہر ادارے میں مزدوروں کے حاصل شدہ حقوق کو سرمایہ دار چھینتا جا رہا ہے۔ جیساکہ ایک غیر ملکی کمپنی میں پچیس سال سے چار سو مزدور مختلف شعبوں میں کام کرتے آرہے ہیں۔ کمپنی نے مزدوروں کے تمام حقوق جو آئین پاکستان کی رو سے اور بین الاقوامی لیبر قوانین کے مطابق تمام مراعات حذف کی ہوئی ہیں۔ کمپنی کے کچھ شعبوں کو غیر قانونی ٹھیکیداروں کے حوالے کر کے بے وجود نام نہاد کمپنیوں کا نام استعمال کر رہی ہیں۔ جن کمپنیوں کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ ایک جانب مزدور اپنے حقوق کے حصول کی لڑائی لڑ رہے ہیں تو دوسری طرف انتظامیہ اپنی جانب سے مزدوروں کے خلاف غیر قانونی کارروائی کر رہی ہے‘ جس کے نتیجے میں مزدوروں کا روزگار چھینا جا رہا ہے جب کہ مزدوروں کا یہ مطالبہ ہے کہ ٹھیکیداری نظام کو ختم کرکے تمام مزدوروں کو مستقل کیا جائے۔

ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک نوجوان نے اپنے انٹرویو میں بے روزگاری، مہنگائی اور ماحولیات پر بڑی دلچسپ اور مدلل نکات اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ جب سے مشترکہ ملکیت اور ساجھے داری کی پیداوار ختم ہوئی اور انفرادی منافع خوری کی ریت شروع ہوئی تب ہی سے عوام کے مسائل میں اضافہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ بعض لوگ سرمایہ داری کو ایک فطری نظام قرار دیتے ہیں۔ تو کیا ایک سو پچاس سال کا دور فطری ہے اور ایک لاکھ پچاس ہزار سال کا دور غیر فطری تھا؟ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سرمایہ دار اپنی پیداوار کو پروان چڑھانے کے لیے جو اشتہار بازی کرتا ہے وہ روزانہ اس دنیا میں ایک اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر صرف اشتہار پر خرچ ہوتا ہے۔ خود سوچیں کہ پھر لوٹتا کتنا ہوگا؟

قصور میں بچے تو مرگئے، جتنے ہلاکو مرے، چنگیز مرے، ڈاکو مرے شہید ہوئے۔ قصور میں کسانوں کے بچے قتل کردیے گئے۔ اگر کسی جاگیردار، سرمایہ دار، نوکر شاہی یا امریکی سفیر کا بچہ مرتا تو قیامت برپا ہوجاتی۔ میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد ہی حکمران بشمول پولیس ایکشن میں آئی، ورنہ یہ جرائم پولیس کی سرپرستی میں پھیلتے چلے جاتے۔

کسی انقلابی فلسفی نے درست کہا تھا کہ پولیس جرائم پھیلاتی ہے، ڈاکٹر مرض پھیلاتا ہے، صحافی جھوٹ پھیلاتا ہے، عدلیہ ناانصافی پھیلاتی ہے، وکیل خلفشار پھیلاتے ہیں اور فوج خون بہاتی ہے۔ ان اداروں کو ختم کردیں تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط کو مانتے ہوئے ہماری حکومت نے مہنگائی کی انتہا کردی اور مزید کرتی جا رہی ہے۔

آئی ایم ایف کا وفد آج کل پاکستان میں ہے اور ہماری حکومت کو تھپکی دیتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ خوب ہے اسے مزید بڑھاتے جاؤ۔ جب کہ آج ہی میرے پاس مردان سے ایک شخص کا ایک فون آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے پانچ بچے ہیں اور سب بے روزگار ہیں۔ بچے ہنرمند بھی ہیں، میری بیوی بیمار ہے۔ کھانے کو گھر میں آٹا نہیں تھا۔ کسی دوست سے ایک ہزار روپے قرض لے کر آٹا لایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں حکومت گزارا الاؤنس فراہم کرے یا پھر بچوں کو روزگار دے، اس وقت ہماری نوبت نیم فاقہ کشی کی ہے۔ جب کہ دوسری طرف دس بڑے آلات حرب کی پیداوار کرنے والے ممالک میں بھارت اور پاکستان بھی شریک ہے۔ تعلیم اور صحت کی خدمات میں بھارت اور پاکستان کا نمبر سب سے آخر میں آتا ہے۔

اس کے حل کا آسان سا راستہ ہے کہ دونوں ممالک اسلحے کی پیداوار اور خرید بند کردیں، سرحدیں ختم کردیں۔ جو جہاں جانا چاہتا ہے وہاں جا سکتا ہے۔ اس سے کھربوں روپے کی (اسلحہ کی پیداوار اور خرید) یعنی غیر پیداواری اخراجات کی کمی ہونے سے یہ رقم مہنگائی، بے روزگاری اور صحت کے شعبوں میں استعمال کرکے اس خطے کو جنت نظیر بنایا جاسکتا ہے، شاداب اور ماحول دوست بنایا جاسکتا ہے۔ مزدوروں کی حالت زار صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ تیل سے مالا مال صرف اٹھارہ لاکھ کی مقامی آبادی والا خلیجی ملک قطر میں پاکستانی مزدوروں کی حالت انتہائی دگرگوں ہے۔

یہاں اصلاحات کے باوجود ان مزدوروں کو تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ انھیں کئی مہینوں سے تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئی ہیں اور قطری محکموں کی جانب سے ان سے کم ہی تعاون کیا جا رہا ہے۔ جب کہ دوسری جانب دو ہزار بائیس کی فٹبال کے عالمی کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے جاری ہیں۔ ہرچندکہ مسائل کا مکمل حل ایک غیر طبقاتی امداد باہمی کے سماج میں ہی ممکن ہے۔

The post بجلی گرتی بھی ہے تو مزدوروں پر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2maguuA
via IFTTT

بین الاقوامی حشرات الارض ایکسپریس اردو

یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جب کہیں سے جمے ہوئے کوڑے کرکٹ اورکچرے کے ڈھیروں کو ہٹایا جاتا ہے تو نیچے سے چھوٹے بڑے حشرات الارض نکل کر بھاگتے ہیں۔ ان میں کچھ خوشنما مگر زہریلے ہوتے ہیں اور کچھ بہت ڈراؤنے مگر غیر زہریلے ہوتے ہیں۔

کنکھجورے، بچھو ،کاکروچ ، سانپ ،چوہے اور بہت سے چھوٹے بڑے گندگی کے مکیں۔ جتنا بڑا ڈھیر ہٹایا جاتا ہے ، اتنے ہی زیادہ اس قسم کے حشرات برآمد ہوتے ہیں اور وقتی طور پر افراتفری پھیلا کر اپنی موت آپ مرجاتے ہیں اورکچھ پھرتیلے قسم کے حشرات بچ نکلنے میں کامیاب ہوکرکہیں بلوں ، رخنوں اورکچرے کے دوسرے ڈھیروں میں گھس کر وقتی پناہ حاصل کرلیتے ہیں لیکن جلد یا بدیر پھر دوبارہ ان کی باری آجاتی ہے اور یہ پھر سے افراتفری کا شکار ہوکر جانیں بچاتے پھرتے ہیں۔

یہ حشرات طبعی طور پرگندگی اور اندھیرے کے دلدادہ ہوتے ہیں انھیں سڑاند اور غلاظت بہت بھاتی ہیں اور یہ وہیں سکون محسوس کرتے ہیں۔ روشنی صفائی اور پاکیزگی ان کے لیے موت جیسی ہوا کرتی ہے اور یہ ان چیزوں سے بہت گھبراتے ہیں۔

وطن عزیز میں بھی آج کل کچھ ایسی ہی صورتحال کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ کرپشن اور بد عنوانیوں کے جمے ہوئے بڑے بڑے پہاڑ جیسے ڈھیروں کو ہٹایا جا رہا ہے تو طرح طرح کے فرنٹ مین قسم کے حشرات الارض نکل کر خوب افراتفری پھیلا رہے ہیں اور وہ جو کہتے ہیں نا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے سو جھوٹ بولنا پڑتے ہیں تو ہمارے حشرات الارض نے اسے ہزاروں تک پہنچا دیا ہے۔

یعنی سو جھوٹ تو پرانی بات ہوئی اب تو جھوٹ ہزاروں طور اور طریقوں سے اتنا بولا اور پھیلایاجا رہا ہے کہ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے یعنی گوئبلزکا وہ قول کہ اتنا جھوٹ بولوکہ لوگ سچ سمجھ بیٹھیں۔ ہر فورم پر ہر سطح پر ہر لحاظ سے ہر ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے کہ کسی طرح سے بھی چاہے کتنی ہی کمائی ہوئی حرام کی دولت خرچ ہوجائے موجودہ حالات سے باہر نکلا جائے نجات حاصل کی جائے پھر دولت کا کیا ہے وہ تو دوبارہ کما لیں گے۔

کرپشن اور بدعنوانی کے اس وسیع اور عمیق نظام بد کے ڈانڈے صرف ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح تک جا ملتے ہیں۔ یہ اصل میں دائروں کی شکل کا نظام ہے۔ جیسے مثلا آپ پرکار لے کر بیٹھیں اور بڑی سی کاغذ کی شیٹ پر مرکز بناکر ایک سینٹی میٹر قطرکا دائرہ بنائیں اور پھر مرکز برقرار رکھتے ہوتے اس سے بڑا دو سینٹی میٹر اور پھر اسی طرح بڑھا کر دائرے بناتے جائیں تو بات کھلے گی کہ یہ سب سے چھوٹا دائرہ عوامی سطح یعنی عام سے لوگوں کی چھوٹی موٹی کرپشن جس سے روزمرہ کی عام آدمی کی زندگی میں سب ہی گزرتے ہیں۔

مثلا کرایہ زیادہ لے لیا، چھوٹی موٹی نوسر بازی ہوگئی وغیرہ، پھر اگلادائرہ سرکاری محکموں میں ہونے والی کرپشن کا، اس سے اگلا عوامی خدمت کے شعبوں میں ہونے والی بد عنوانی مثلا تعلیم ، طب ، انصاف وغیرہ کے شعبوں میں، اس سے بڑا دائرہ انڈسٹریز اورکارپوریٹ لیول کی کرپشن کا، اس سے بڑا دائرہ دانشورانہ اور انٹلکچوئل کرپشن کا جس کے نتائج ذہنی غلامی پر منتج ہوا کرتے ہیں، پھر با اختیار سیاسی نمایندوں کی شہری، صوبائی اور ملکی سطح پر ادارہ جاتی کرپشن اور بد عنوانی کا دائرہ پھر اعلیٰ ترین سطح پر اخلاقی اور مالی کرپشن والا دائرہ اور پھر اس عالمی کرپٹ برادری کا بین الاقوامی سطح کا بہت بڑا دائرہ۔ اور ان سب کا مرکز ابلیسیت اور نفسانیت ہے اور یہ سب دائرے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان سب کے اثرات ایک دوسرے پر پڑتے ہیں۔

بین الاقوامی کرپشن کے نظام کے تقویت دہندگان کو ابتری، افراتفری اور جہالت و وحشت اور خوف کا ماحول بہت بھاتا اور راس آتا ہے اور اپنے دائرے کی سطح پر ان کی کوشش یہی رہتی ہے کہ یہی ماحول بنا رہے اور ان سے نیچے یعنی ملکی سطح کے دائرے والے بھی اسی فلاسفی پر عمل کرتے ہیں۔ اور یوں یہ ٹریکل ڈاؤن ایفکٹ نیچے تک جاتا ہے۔

ان دائروں کی ایک عملی شکل اور بہترین مثال ہم مکڑی کے جال میں بھی مشاہدہ کرسکتے ہیں اس کا بھی بالکل ایسا ہی نظام ہوتا ہے۔ یہ مکڑی کے جال جیسا عنکبوتی دائروی نظام دور سے جتنا ہیبت ناک دکھائی دیتا ہے۔ درحقیقت اتنا ہی کمزور ہوا کرتا ہے اور ذرا سا منہ پرکپڑا باندھ کر جھاڑوکی مدد سے اسے صاف کر دیا جاتا ہے۔

اسی طرح یہ ابلیسی عالمی نظام بد ہے جس کا سب سے بڑا ہتھیارکرپشن اور بد عنوانی کا فروغ ہے اور بعض اہل باطن روشن ضمیر حضرات کو یہ کہتے سنا کہ جس دن صرف چند صاحب ایمان تقویٰ کا لباس پہن کر جہاد کی جھاڑن سے ان مکڑی کے جالوں کو صاف کرنے کا تہیہ کرکے نکلیں گے۔ اللہ تعالی اس سارے انسان دشمن ابلیسی نظام کو انڈے کے چھلکے کی طرح توڑ کر دکھا دے گا جیسا کہ تاریخ گواہ ہے کہ متعدد بار دکھایا گیا ہے، لیکن شاید ابھی ایسے اس معیار اور اعلیٰ سطح کے صاحب ایمان مجاہدین کو بوجوہ ابھی عالمی سطح کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

بہرحال وطن عزیز میں اب اس بات کا تہیہ کر لیا گیا ہے کہ کرپشن کسی صورت برداشت نہیں ہے اور ملک و قوم کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والوں کو کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا۔ اور ہر طرح کی کرپشن کے سارے نظاموں کو جڑ سے اکھاڑنے کا یہ عمل جاری و ساری ہے اور رہے گا اور پاکستان میں پیش آمدہ اس صورت حال نے کرپشن و بد عنوانی کے سب سے بڑے عالمی دائرے کے مکینوں اور سرپرستوں کو بھی مضطرب و پریشان کر دیا ہے کہ ایک کرپشن فری طاقتور اور خوشحال پاکستان ان کے بین الاقوامی استحصالی منصوبوں میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

چنانچہ وہ بھی اپنے ملکی گماشتوں کو بچانے کے لیے متحرک ہوگئے ہیں اور اپنے سارے حربے ایک ایک کرکے آزما رہے اور پیچھے بیٹھے بین الاقوامی اداروں کی ڈوریاں ہلا رہے ہیں اور جو کچھ بھی عالمی سطح پر پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے اور دیگرکئی بڑے معاملات میں جو غیر یقینی اور الجھی ہوئی صورتیں پیدا کی جا رہی ہیں یہ سب اسی کی کڑیاں ہیں اور ایک ماسٹر پلان کے مختلف مرحلے ہیں۔

وہ ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ ان کے بندے اور چیلے کسی بھی طرح سے بچ جائیں تاکہ انھیں اور ان کے بچے کچے ساتھیوں کو حوصلہ ملے کہ کتنی ہی بڑی کرپشن کرلوں آخر کار بچت تو ہو ہی جاتی ہے اور آیندہ کے لیے بھی معاملہ ہموار رہے اور اپنے مستقبل کے پنٹر مختلف اداروں اور جگہوں پر بٹھانے میں آسانی رہے۔

یاد رکھیں !کرپشن کے خلاف حالیہ جنگ پاکستان کے لیے دہشت گردی کی جنگ سے بھی زیادہ اہم ہے اورکرپشن یا بد عنوانی کے ظلم کے خلاف یہ سب سے بڑا جہاد کیا جارہا ہے لیکن ہم میں سے بہت سے سمجھ دار لوگ جن کی نیت اور اہلیت پر بھی کوئی شک نہیں کیا جاسکتا اور جو اپنے اپنے شعبوں کے بڑے نیک نام اور قابل افراد تصورکیے جاتے ہیں نہ جانے کیوں دبی دبی سی مخالفانہ اور مایوسانہ آوازیں بلند کرنے لگے ہیں اور جانے انجانے میں ان لوگوں کی حمایت کرنے لگے ہیں جو کرپشن کے اس نظام بد کے بڑے عامل ، داعی اور تقویت دہندگان تھے اور اب اپنے اعمال کی مکافات کا مزہ چکھ رہے ہیں۔

بہرحال سب کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے لیکن حشرات الارض کی پھیلائی ہوئی ابتری اور افراتفری سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ معاملات اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں اوربہت سی اچھی بلکہ بہت اچھی خبریں آنے والی ہیں۔

The post بین الاقوامی حشرات الارض appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2n0AUGt
via IFTTT

سری لنکا سے سری لنکا تک؛ پاکستان میں کرکٹ کا سلسلہ جہاں ٹوٹا وہیں سے جڑے گا ایکسپریس اردو

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا وہیں سے جڑنے والا ہے، جس ٹیم پر دہشتگرد حملے سے ارض پاک انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے نوگو ایریا بنی ، وہی ٹیم پھر میدان آباد کرنے پہنچ چکی ہے۔

سری لنکا پر رکنے والا انٹرنیشنل کرکٹ کا سلسلہ سری لنکا سے ہی شروع ہونے والا ہے، اگرچہ 10 برس کے دوران انٹرنیشنل میچز بھی ہوئے مگر پہلی بار کوئی ٹیم زیادہ دنوں کیلیے پاکستان آئی اور 2 الگ الگ شہروں میں ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 کرکٹ کھیلنے والی ہے۔ یہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی سرگرمیوں کو معمول پر لانے کی جانب ایک اور بڑا قدم ہے، آئی لینڈرز کا یہ کامیاب ٹور دوسری ٹیموں کو بھی خوف کی دیوار گرانے میں مدد دے گا۔

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کوئی آسان کام نہیں تھا، ان 10 برس کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہر سربراہ نے غیرملکی ٹیموں کو ٹور پر آمادہ کرنے کیلیے اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کی تاہم ملک میں امن و امان کی صورتحال میں ہونے والی بہتری اور پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل مقابلوں کے اپنے وطن میں انعقاد جیسے جراتمندانہ فیصلوں سے غیرملکی کرکٹ برادری کی خدشات کم کرنے میں مدد ملی۔ سری لنکا نے ایک بار پھر حق دوستی ادا کرتے ہوئے اپنی ٹیم پاکستان بھیجی جوکہ 3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی 20 میچز کیلیے نیشنل اور قذافی اسٹیڈیم میں رنگ جمائے گی۔

سری لنکا کی ٹیم میں اگرچہ نام نہاد اسٹارز شامل نہیں مگر جو کھلاڑی پاکستان آئے ہیں وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں اتنے بھی ’اجنبی‘ نہیں جتنے کے دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے ٹور سے انکار کرنے والے 10 کھلاڑیوں میں سے اکثریت فارم میں نہیں تھی کچھ کو فٹنس مسائل اور کچھ کو دیگر مسائل کا سامنا ہے، کچھ اپنے کیریئر کے اختتام کو پہنچے ہوئے ہیں، انجیلو میتھیوز ایک طرف تو مختلف فٹنس مسائل کا شکار ہیں تو دوسری جانب فکسنگ الزامات کے حوالے سے صفائیاں دینے میں مصروف ہیں، لسیتھ مالنگا ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے چکے اور کھینچ تان کر اپنے کیریئر کو آئندہ برس آسٹریلیا میں شیڈول ٹی 20 ورلڈ کپ تک لے جانا چاہتے ہیں۔

پاکستان آنے والے سری لنکا کے 15 رکنی ون ڈے اسکواڈ میں شامل ونود بھانوکا وہ واحد کھلاڑی ہیں جنھیں ابھی تک انٹرنیشنل کرکٹ کا کوئی تجربہ نہیں ہے، کپتان لاہیرو تھریمانے 125 ون ڈے میچز کا تجربہ رکھتے ہیں، انھوں نے 35 ٹیسٹ اور 26 ون ڈے میچ کھیل رکھے ہیں، ٹیم میں ان کا اہم مقام ہے۔ نوان پردیپ 40 ایک روزہ، 28 ٹیسٹ اور 9 ٹی 20 میچز کا تجربہ رکھتے ہیں۔

اسی طرح دنوشکا گونا تھلاکا (8 ٹیسٹ، 36 ون ڈے ، 16 ٹی 20)، ڈاسن شناکا (3 ٹیسٹ، 20 ون ڈے، 30 ٹی 20)، لکشن سنداکن (11 ٹیسٹ، 20 ون ڈے، 8 ٹی 20)، اسورو اڈانا (14 ون ڈے، 24 ٹی 20)، اویشکا فرنانڈو (13 ون ڈے، 6 ٹی 20)، لاہیرو کمارا (17 ٹیسٹ، 11 ون ڈے، 1 ٹی 20)، وانندو ہاسورنگا( 10 ون ڈے، 3 ٹی 20)، شیہان جیاسوریا (10 ون ڈے، 13 ٹی 20)، کاسن راجیتھا (5 ٹیسٹ، 6 ون ڈے، 6 ٹی 20) ، سادیراسارا وکرما (4 ٹیسٹ، 6 ون ڈے، 6 ٹی 20)، اوشیدا فرنانڈو (2 ٹیسٹ، 5 ون ڈے ) اور

انجیلو پریرا (5 ون ڈے، 5 ٹی 20)انٹرنیشنل لیول پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرچکے ہیں، زیادہ تر کھلاڑی نوجوان اور کافی پرجوش ہیں، سینئر ٹیم میں کھیلنے کے موقع سے دونوں ہاتھوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی کھلاڑی بھی کافی پرجوش ہیں، طویل عرصے بعد یہاں پر ون ڈے انٹرنیشنل سیریز منعقد ہورہی ہے۔ آخری مرتبہ زمبابوے نے 50 اوورز کے میچز 2015 میں لاہور میں کھیلے تھے۔ پلیئرز اپنے ہوم کراؤڈ کے سامنے صلاحیتوں کے اظہار کیلیے بے چین ہیں، ٹیم کی قیادت تو سرفراز احمد کے ہی ہاتھوں میں ہوگی تاہم حکمت عملی نئے ہیڈ کوچ مصباح الحق تیار کریں گے، یہ اور بات کہ خود ان کے اپنے دور میں پاکستان ٹیم ایک روزہ کرکٹ میں روبہ زوال رہی مگر بطور کوچ کچھ حلقے ان سے محدود اوورز کی کرکٹ میں معجزاتی تبدیلیوں کی توقع کررہے ہیں۔

شائقین کی دلچسپی کو بڑھاوا دینے کیلیے بیٹنگ کیلیے سازگار کنڈیشنز کا امکان ہے تاہم ہائی اسکورننگ میچ کیلیے دونوں جانب کے بیٹسمینوں کو بہرحال اپنے بیٹ کو زحمت دینا پڑے گی، ورلڈ کپ میں ناکام رہنے والے فخر زمان سے جہاں ہارڈ ہٹنگ کی امیدیں وابستہ ہیں وہیں پر شائقین خاص طور پر بابر اعظم کو اپنی آنکھوں کے سامنے عمدہ اسٹروک کھیلتا ہوا دیکھنے کیلیے بے چین ہیں، دوسرے کھلاڑیوں کے پاس بھی کراؤڈ کو اپنی صلاحیتوں سے متاثر کرنے کا موقع موجود ہوگا۔

مہمان ٹیم میں نام نہاد اسٹارز کی عدم موجودگی کے باعث سیریز کے یکطرفہ ثابت ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے مگر یہ بات بھی مدنظر رکھنے کی ہے کہ ناقابل پیشگوئی کے لیبل کی حامل پاکستانی ٹیم اکثر و بیشتر ’کرکٹ بائی چانس‘ کے معقولے کو عملی جامہ پہنانے پر تل جاتی ہے، اسی لیے حریف سائیڈ سے زیادہ خود گرین شرٹس سے اس بات کی بہرحال توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ نا صرف مقابلوں کو سنسنی خیز بنائیں گے بلکہ اپنی پرفارمنس سے شائقین کے ’بلڈ پریشر‘ میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں، امید ہے  کہ شائقین کو اپنے ہوم گراؤنڈز پر ’پیسہ وصول‘ کرکٹ دیکھنے کو ملے گی اور سری لنکا کی آمد سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بھی معمول پر آجائے گی۔

The post سری لنکا سے سری لنکا تک؛ پاکستان میں کرکٹ کا سلسلہ جہاں ٹوٹا وہیں سے جڑے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2nzTxRM
via IFTTT

نیشنل اسٹیڈیم : ایک دہائی بعد ون ڈے انٹرنیشنل میچزکی میزبانی کیلیے تیار ایکسپریس اردو

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں 10 برس بعد ون ڈے کرکٹ کی واپسی جمعے سے ہونے جارہی ہے، سری لنکن ٹیم اس بار بھی شہر قائد کے سونے میدان آباد کرنے میں پاکستان کی مدد میں پیش پیش ہے،34 ہزار228 شائقین کی گنجائش رکھنے والے اس خوبصورت گراؤنڈ پر دنیا کے کئی نامور کرکٹرز ایکشن میں دکھائی دیے ہیں، تزئین وآرائش کے بعد لاہور میں واقع قذافی اسٹیڈیم میں شائقین کی گنجائش 27 ہزار کردی گئی ، جس کے بعد نیشنل اسٹیڈیم پاکستان کا سب سے زیادہ گنجائش والا میدان بن چکا ہے۔

نیشنل اسٹیڈیم پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ ریکارڈ انتہائی شاندار رہا ہے، یہاں پر منعقدہ 40 ٹیسٹ میچز میں صرف 2 بار حریف سائیڈز فتحیاب ہوپائی ہیں، اس میں ایک مقابلہ دسمبر 2000-01 میں انگلینڈ نے جیتا تھا جبکہ اس  کے بعد اکتوبر2007-08 سیزن میں جنوبی افریقی ٹیم بھی یہاں جیت کو اپنا مقدر بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

اسی مقام پر سابق ویسٹ انڈین کپتان ویوین رچرڈز نے 1987 ورلڈ کپ میچ میں سری لنکا کیخلاف 181 کی دلکش اننگز کھیلی تھی، پاکستانی اسٹار محمد یوسف نے اسی گراؤنڈ پر کیلینڈر ایئر میں رچرڈز کی ریکارڈ 9 سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بھی توڑا تھا، کامران اکمل نے 2006 میں بھارت کیخلاف مشکل وکٹ پر تاریخی سنچری بنانے کا کارنامہ بھی یہاں انجام دے رکھا ہے، اس مقابلے میں ایک مرحلے پر پاکستان کے 6 پلیئرز 39رنز پر میدان بدر ہوچکے تھے لیکن پھر کامران کی ذمے دارانہ اننگز کی بدولت پاکستان نے فائٹ بیک کرتے ہوئے فتح سمیٹی تھی۔

ساحلی شہر میں نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا پانچواں جبکہ پاکستان کا 11واں فرسٹ کلاس گراؤنڈ بھی ہے، یہاں پر پہلا فرسٹ کلاس مقابلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1955 میں 21 سے24 اپریل تک منعقد ہوا، پاکستان کرکٹ کیلیے بھی یہ میدان انتہائی خوش قسمت ثابت ہوا، یہاں پر دسمبر2000 تک 34 ٹیسٹ میچز منعقد ہوئے تھے، جس میں پاکستان نے 17 میں کامیابی پائی تھی جبکہ اس سے قبل قومی ٹیم کو اس میدان پر کبھی شکست نہیں ہوئی تھی، یہاں پر پاکستانی ٹیم کو پہلی شکست انگلینڈ کیخلاف 2000-01 میں ملی تھی، نیشنل اسٹیڈیم پر پہلا ون ڈے انٹرنیشنل 21 نومبر1980 کو ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان منعقد ہوا تھا، گورڈن گرینج نے عمران خان کی گیند پر باؤنڈری لگاکر اپنی ٹیم کو فتح دلوائی تھی، اس وقت مہمان ٹیم کو آخری بال پر 3 رنز درکار تھے۔

سچن ٹنڈولکر اور وقار یونس نے ٹیسٹ کیریئر کی شروعات اسی میدان پر کی تھیں، اس میدان پر قائم ہونے والے ٹیسٹ ریکارڈز پر نظردوڑائی جائے تو کسی بھی ٹیم کا اننگز میں زیادہ اسکور پاکستان نے 2009 میں سری لنکا کیخلاف قائم کیا تھا، یونس خان اس مقابلے میں 313 کی اننگز کھیل کر مین آف دی میچ کا اعزاز پانے میں کامیاب ہوئے تھے، یہ نیشنل اسٹیڈیم میں کسی بھی بیٹسمین کا سب سے بڑا انفرادی اسکور بھی شمار ہوتا ہے، اسی مقابلے میں سری لنکن ٹیم نے پہلی اننگز میں7 وکٹ 644 پر ڈیکلیئرڈ کی تھی، اس میں  مہمان کپتان مہیلا جے وردنے 240 اور تلہان سمارا ویرا231 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے تھے، مہیلا جے وردنے اور سمارا ویرا کے درمیان 437 کی شراکت بھی ریکارڈ ہے،دوسری اننگز  میں سری لنکن ٹیم نے 5 وکٹ پر144رنز بنائے تھے، مقابلہ ڈرا ہوگیا تھا۔

ٹیسٹ میں اننگز کا کمترین مجموعہ 80رنز آسٹریلیا کے نام درج ہے، پاکستان نے 1956 میں کینگروز کو یہاں مختصر اسکور پر محدود کردیا تھا، فضل محمود نے 6 اور خان محمد نے 4 وکٹیں لیکر تیسرے بولرز کو موقع دینے سے گریز کیا تھا، قومی ٹیم نے یہ مقابلہ باآسانی 9 وکٹ سے اپنے نام کرلیا تھا۔

1994-95 میں پاکستان نے آسٹریلیا کیخلاف 9 وکٹ پر315 کا ہدف حاصل کیا، جو اس میدان پر ریکارڈ ہے۔

اسی طرح ون ڈے انٹرنیشنل کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں پر سب سے بڑا ٹوٹل بنانے کا اعزاز بھارت کو ملا ہے، جو اس نے 25 جون 2008 کو ایشیا کپ کے میچ میں ہانگ کانگ کیخلاف 4 وکٹ پر374 رنز بناکر قائم کررکھا ہے،پاکستان نے 13 مارچ 2004 کو بھارت کیخلاف 4 وکٹ پر 344رنز جوڑ کر ہدف کے تعاقب میں زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ یہاں بنارکھا ہے، مہمان ٹیم نے دلچسپ مقابلہ 5 رنز سے اپنے نام کرلیا تھا۔ون ڈے میں کمترین اسکور کا منفی ریکارڈ بنگلہ دیش کے نام ہے، 4 جولائی 2008 کو پاکستان کیخلاف 115 رنز تک محدود ہوگئی تھی۔

ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں یہاں پر پاکستان نے ویسٹ انڈیز کیخلاف 2 اپریل 2018 کو3 وکٹ پر 205 کا مجموعہ ترتیب دیکر زیادہ رنز کا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے، اسی مقابلے میں بابراعظم کے ناقابل شکست 97 رنز اس گراؤنڈ پر بہترین انفرادی اسکور بھی ہے، بابر نے حسین طلعت کے ہمراہ 119 رنز کی شراکت بناکر بہترین ساجھے داری کا ریکارڈ بھی قبضے میں کررکھا ہے۔یکم اپریل2018 کو کیریبیئن سائیڈ ہی پاکستان کیخلاف 9 وکٹ پر60رنز بناپائی تھی۔

2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے، تاہم اس کے بعد پی سی بی کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی بتدریج ممکن ہوئی ، 2018  میں یہاں پاکستان سپر لیگ کا فائنل شاندار انداز میں منعقد کیاگیا ، جس میں کئی نامور اسٹارز نے شرکت کی تھی، جس کے ذریعے 9 برس بعد اس میدان میں انٹرنیشنل کرکٹرز کی واپسی ممکن ہوئی ، یہ مقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلا گیا تھا، تاہم یکطرفہ مقابلے میں پہلے ایڈیشن کی فاتح اسلام آباد یونائیٹڈ نے دوسری بار چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا اور اب سری لنکا سے سیریز کے ذریعے یہاں پر 10 برس بعد ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوگی، سیریز کے تینوں مقابلے یہاں پر بالترتیب جمعہ ، اتوار اور بدھ کو شیڈول ہیں۔

The post نیشنل اسٹیڈیم : ایک دہائی بعد ون ڈے انٹرنیشنل میچزکی میزبانی کیلیے تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2nHlgAb
via IFTTT

احساسِ ندامت ایکسپریس اردو

اﷲ رب العزت اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے، مفہوم : ’’ کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی ہے تم اﷲ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ۔ بے شک اﷲ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ واقعی وہ بڑی بخشش والا بڑی رحمت والا ہے۔‘‘ (سورۃ الزمر )

خالقِ کائنات کتنا رحیم و کریم ہے کہ ہمیں زندگی بھی دی، زندگی گزارنے کا سیدھا راستہ بھی دکھا دیا، اپنی بے پناہ نعمتوں سے فیض یاب بھی کیا ہے، ہمارے گناہوں کو درگزر بھی کر رہا ہے پھر ہمیں گناہوں کو بخشوانے کی نہ صرف دعوت دے رہا ہے بل کہ اپنا محبوب ترین بندہ بھی قرار دے رہا ہے۔ وہ غفور الرحیم تو اعلان فرماتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ میں اس کی مغفرت کروں۔ ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمت تو اس کے غضب پر غالب اور اس کی رحمت ہماری بداعمالیوں سے زیادہ ہے۔ اگر انسان توبۃ النصوح یعنی صدق دل سے توبہ مانگے تو اﷲ رب العزت کا وعدہ ہے کہ انسان کا ہر گناہ معاف فرما دے گا، سوائے کفر و شرک کے۔

خود احتسابی کا عمل:

عصر حاضر میں کون ایسا متقی اور پاک باز ہے جو نفس امارہ (جو انسان کو شر پر اکساتا ہے) کے دامن میں گرفتار نہ ہوا ہو؟ کون ایسا باکردار ہے جسے اپنی غلطی اور گناہ کی وجہ سے ندامت نہ محسوس ہوئی ہو ؟ کون ایسا مسلمان ہے جسے اصلاح کی ضرورت نہیں ؟ انسان تو خطا کا پتلا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اﷲ رب العزت خود اپنے بندوں کو توبہ کی دعوت دے رہا ہے، مفہوم: ’’ مگر جو لوگ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور ان کو ظاہر کردیں تو ایسے لوگوں پر میں متوجّہ ہوجاتا ہوں۔ میری تو بکثرت عادت ہے توبہ قبول کرلینا اور مہربانی فرمانا۔‘‘

بارگاہ رحمت کی شان دیکھیے کہ عفو و درگزر اس کی امتیازی صفت ہے۔ اﷲ کی نافرمانی اگرچہ ہمارے لیے ہلاکت و تباہی کا سامان ہے لیکن اصل تباہی اور ہلاکت یہ ہے کہ انسان کو توبہ کرنے کی توفیق نہ ملے اور وہ اﷲ کی وسیع تر رحمت کا فائدہ نہ اٹھائے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی دعا جو سورۃ الاعراف میں ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اﷲ نے اس دعا کی برکت سے حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول فرمالی۔ اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے اور گھٹن محسوس ہوئی تو فوراً دعا مانگی اس دعا کی برکت سے رہائی نصیب ہوئی۔

توبہ کی قبولیت کی شرائط و ارکان قرآن کی روشنی میں:

(1) توبہ کی قبولیت کا حق صرف انہی لوگوں کو ہے جو مسلمان ہوں۔ کفر و شرک کی حالت میں توبہ قبول نہیں ہوتی۔ (2) دانستگی یا نادانستگی میں کوئی بُرا فعل سرزد ہوجائے اور ندامت کا احساس ہوجائے تو توبہ کرنے میں دیر نہیں کرنا چاہیے۔ (3) آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرلیں اور اس کا تدارک جو اس کے اختیار میں ہو پورا کریں۔ مثال کے طور پر نماز، روزہ اور زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی تو اس کو پورا کریں۔

قضا کا اہتمام کریں، کسی کی حق تلفی کی تو اس کی تلافی کریں اگر کسی کو تکلیف پہنچائی تو اس سے معافی طلب کریں۔ (4) وہ لوگ جو گناہ کا ارتکاب کرتے چلے جائیں اور جب موت کا وقت قریب آجائے تو توبہ کرلیں ایسی توبہ اﷲ قبول نہیں کرتا جب کہ نزع روح شروع ہوجائے، فرشتے اور عالم آخرت کی چیزیں انسان کے سامنے آجائیں، جیسے کہ فرعون اور آل فرعون نے غرق ہونے کے وقت پکارا کہ ہم رب موسیٰ و ہارون پر ایمان لاتے ہیں مگر ان کو عذاب ملا کہ اب ایمان لاتے ہو جب ایمان لانے کا وقت گزر چکا۔

رب کریم کا وعدہ برائیوں کی جگہ نیکیاں عنایت ہوں گی:

اﷲ رب العزت سچی توبہ کرنے سے گناہ نیکیوں میں تبدیل کرنے کا وعدہ فرماتا ہے۔ سورۃ الفرقان میں رب کریم کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے : ’’ مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک کام کرتا رہے، سو ایسے لوگوں کو اﷲ ان کی برائیوں کی جگہ نیکیاں عنایت کرے گا اور اﷲ تو ہے ہی بڑا مغفرت والا، بڑی رحمت والا ہے۔‘‘

گناہوں کی دوا استغفار:

رسول کریم ﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے : ’’ہر بیماری کی دوا ہے اور گناہوں کی دوا استغفار ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں موجود ہر بیماری کی دوا بھی اﷲ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور گناہ بھی ایک مرض ہے اس لیے اﷲ تعالیٰ نے اس کا علاج بھی بتادیا ہے کہ اپنے گناہوں کی زیادہ سے زیادہ معافی مانگنا چاہیے اور آئندہ بچنے کا پختہ عزم کرنا چاہیے۔ ایک اور موقع پر حضورؐ نے فرمایا : ’’بہترین دعا استغفار ہے۔‘‘ سرورِ کائنات آقائے دو عالم رحمت للعالمین ﷺ خود دن بھر میں سو سے زاید مرتبہ استغفار پڑھتے تھے۔

رزق کی کشادگی:

رسالت مآب ﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے : ’’جس نے اپنے اوپر دعائے استغفار کو لازم کرلیا تو اﷲ تعالیٰ اس کے ہر غم اور ہر تنگی کو کشائش و راحت سے بدل دے گا اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جس کا اسے گمان تک نہ تھا۔‘‘

اﷲ توبہ و استغفار کی برکت سے عذاب الٰہی نازل نہیں فرماتا:

سورۃ الانفال میں اﷲ رب العزت کے ارشاد کا مفہوم ہے: ’’ اور اﷲ کا یہ قاعدہ نہیں کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے۔‘‘ اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ عذاب الٰہی سے محفوظ وہ لوگ ہیں جو اپنے اوپر استغفار کو لازم کرتے ہیں۔ یعنی ایسی بستی پر اﷲ کا عذاب نہیں آتا۔

دل کو سیاہ ہونے سے بچائیں:

گناہوں کے مسلسل ارتکاب سے دل میں سیاہ دھبا پڑ جاتا ہے، اگر توبہ کرلیں تو یہ سیاہ دھبا مٹ جاتا ہے۔ لیکن اگر توبہ نہ کریں اور گناہوں کا ارتکاب ہوتا چلا جائے تو پورا دل سیاہ ہوجاتا ہے یہاں تک دل پر زنگ آجاتا ہے، پھر نیک و بد، حلال و حرام، جائز و ناجائز کا فرق ختم جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’ آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بل کہ دل جو سینوں میں ہے وہ اندھے ہوجایا کرتے ہیں۔‘‘

توبہ مانگنے کا وقت:

قرآن مجید فرقان حمید میں اﷲ رب العزت نے اپنے محبوب بندوں کی یہ امتیازی خوبی بیان فرمائی ہے کہ وہ سحر کے اوقات میں اﷲ کے حضور گڑگڑاتے ہیں اور توبہ و استغفار کرتے ہیں اور اﷲ کی رحمت سے پُرامید رہتے ہیں۔ اﷲ بھی ایسے بندوں کو اپنی رحمت کے سائے میں پناہ دیتا ہے۔ توبہ کی اہمیت و فضیلت واضح ہونے کے بعد اب یہ ضروری ہے کہ اﷲ رب العزت سے توبہ و استغفار مانگنے کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔

توبہ کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں نہایت ہی عجز و انکساری اور حمد و ثناء کرنے کے بعد استغفار کا زیادہ سے زیادہ ورد کیا جائے۔ ماضی پر ندامت، حال میں معافی کی درخواست اور آئندہ بچے رہنے کے لیے پختہ عزم اور استقامت کی درخواست اﷲ کی بارگاہ میں پیش کی جائے۔ درود و سلام کی کثرت کی جائے تاکہ رسول کریم ﷺ کے وسیلے سے اﷲ رب العزت راضی ہوجائے۔

اﷲ تعالیٰ ہم سب کو توبہ و استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری توبہ کو قبول فرما کر اپنی رحمت کے سائے میں پناہ دے۔ آمین

The post احساسِ ندامت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2nHtvfC
via IFTTT

’’ ایک چُپ سو سُکھ ‘‘ ایکسپریس اردو

جتنا زبان کو قابو رکھنے کی ضرورت ہے کسی دوسری چیز کو اس قدر مقید رکھنا ضروری نہیں، کیوں کہ زبان کی آفات بہت زیادہ ہیں۔ انسان کے سر گناہوں کا بوجھ لدھوانے میں زبان سب اعضاء سے بڑھ کر ہے.

اﷲ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اسلام ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کے گھر اور معاشرے کو آسودہ اور پُرمسرت دیکھنا چاہتا ہے۔ اسلام میں جہاں محبت، اخوت اور احترام و عزت کے جذبے دلوں میں پیدا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، وہیں مسلمانوں کو ایسی تمام باتوں سے رکنے کا بھی حکم دیا گیا ہے جن کے باعث معاشرے کا امن و سکون برباد ہوجاتا ہو۔ محبت و پیار کے رشتے منقطع ہوجاتے ہوں اور باہمی خون خرابہ کا آغاز ہوجائے۔ ان تمام باتوں کے نقصانات کو کتاب و سنت میں بہت صراحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ فانی دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھنے والا انسان ایمان و یقین کے اجالے میں ان کو پڑھ کر غور کرے اور ان سے اجتناب کرے تو امن و سلامتی اور عزت و عظمت کے نرالے نمونے وہ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لے گا۔

قرآن و حدیث میں حفاظت زبان کی بڑی تاکید کی گئی ہے اور بیہودہ گوئی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی کا مفہوم ہے : ’’ بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔‘‘

حضرت سفیان بن عبداﷲ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ دربار رسالتؐ میں عرض کیا۔ یارسول اﷲ ﷺ! آپ میرے لیے سب سے خطرناک اور نقصان دہ چیز کسے قرار دیتے ہیں؟ تو سرکار مدینہؐ نے اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر ارشاد فرمایا: اسے۔ (ترمذی)

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے فرمایا: ’’جتنا زبان کو قابو رکھنے کی ضرورت ہے کسی دوسری چیز کو اس قدر مقید رکھنا ضروری نہیں، کیوں کہ زبان کی آفتیں بہت زیادہ ہیں۔ انسان کے سر گناہوں کا بوجھ لدھوانے میں زبان سب اعضاء سے بڑھ کر ہے۔‘‘

زبان سب سے زیادہ ضرر رساں اور خطرناک ہے۔ لہٰذا اس کی حفاظت بہت ضروری ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے بہت کوشش و جدوجہد کی ضرورت ہے۔ سیدنا حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ انسان روزانہ صبح جب بیدار ہوتا ہے تو تمام اعضاء زبان سے مخاطب ہوکر اسے تاکید کرتے ہیں کہ دن میں درستی اور صداقت پر قائم رہنا اور بیہودہ گوئی سے بچے رہنا، کیوں کہ اگر تُو درست اور ٹھیک رہے گی۔ تو ہم بھی درست رہیں گے اور اگر تُو کج روی کے راستے پر چلے گی تو ہم بھی کج روی کے راستے پر چل پڑیں گے۔

حضرت مالک بن دینارؒ فرماتے ہیں: ’’جب تم اپنے دل میں قساوت، بدن میں سستی اور رزق میں تنگی محسوس کرو تو سمجھ لو کہ تم سے کہیں فضول اور لایعنی کلمے نکل گئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے۔‘‘ حفاظت زبان سے اعمال صالحہ کی حفاظت ہوتی ہے۔ کیوں کہ جو شخص زبان کی نگہداشت نہیں کرتا، بل کہ ہر وقت گفت گو میں مصروف رہتا ہے، تو لامحالہ ایسا شخص لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور غیبت اعمال صالحہ کو تباہ کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی زبان کی حفاظت اسی وقت کرسکے گا، جب خاموشی اختیار کرے گا۔ جب زبان کھلے گی ہی نہیں تو لایعنی باتوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لیے تو رحمت عالمؐ نے ارشاد فرمایا : ’’جو خاموش رہا وہ سلامتی میں رہا۔ ‘‘

اسلام میں خاموشی کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ خود اچھا عمل ہے تو جو اس عمل کو اختیار کرے گا یقینا وہ کئی اعمال اس کے ذریعے کرے گا۔ خاموش رہنا تو ایک طرح سے سوچنا ہی ہے اور کائنات خدا وندی میں غور و فکر کرنا بھی بڑا پسندیدہ عمل ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت کریمہ کی ایک آیت کی تفسیر میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا پہچاننا مشکل ہے، تمہارے اُوپر اور نیچے، تمہارے دائیں اور بائیں میری مصنوعات اور تخلیقات کا جو بازار سجا ہوا ہے۔ اسی میں غور و فکر کرو، ہر چیز یہ پکارتی ہوئی سنائی دے گی کہ وہ اپنی نیرنگیوں سمیت خود بہ خود موجود نہیں ہوگئی بل کہ اس کا بنانے والا ہے، جو سب کچھ جاننے والا۔ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔

ذرا دیکھو بیج کا دانہ شق ہو رہا ہے اس میں ایک نرم و نازک بالی نکل آئی ہے، اسے آپ کم زور نہ سمجھیے یہ تو مٹی کی کئی انچ موٹی تہہ کو چیر کر نکلی ہے۔ یہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے، وہ بالی اب ایک ننھے سے تنے میں تبدیل ہورہی ہے، ہوا کے تھپیڑوں کو برداشت کرنے کے لیے مناسب فاصلوں پر اس میں گرہیں ڈالی جارہی ہیں، اب اس کے سر پر ایک خوشہ سا نمودار ہوگیا ہے، اس کی جیبیں اب دانوں سے بھر گئی ہیں، یہ پودا جو پہلے ہرا بھرا اور نرم و نازک تھا۔ اب اپنا رنگ تبدیل کر رہا ہے۔

غور کرنے والی آنکھ خود فیصلہ کرلے کہ یہ کیا اندھے مادے کی کاری گری ہے یا علیم و خبیر پروردگار کی صناعی کا اعجاز ہے۔ پھل لگنے سے لے کر پکنے تک اس کی مقدار، اس کی خوش بُو اور اس کے ذائقے میں آہستہ آہستہ موقع بہ موقع جو تبدیلیاں رو نما ہو تی رہتی ہیں، اسی پر انسان غور کرے تو حقیقت واضح ہوجائے گی۔

اسی طرح کئی ایک آیات ربانی میں مخلوقات خداوندی کے بارے میں بھی غور و فکر کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے۔ احادیث کریمہ میں بھی رحمت عالمین ﷺ نے غور و فکر کرنے کی اپنے چاہنے والوں کو تاکید فرمائی۔ چناں چہ ایک مقام پر ارشاد فرمایا، مفہوم : ’’ رموز کائنات میں ایک گھنٹے کا تفکر و تدبر ستّر برس کی عبادت سے بہتر ہے۔‘‘

ہم کائنات خداوندی میں تفکر و تدبر اسی صورت میں کرسکتے ہیں، جب ہم فضول اور بیہودہ گوئی کے بہ جائے خاموشی کو اپنائیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ چپ رہنے اور خاموشی اختیار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی بالکل نہ بولے، بل کہ مراد یہ ہے کہ انسان ضرورت کی بات کرے اور لایعنی باتوں سے پر ہیز کرے۔ اسی لیے تو فرمایا گیا کہ بُری بات کرنے سے چپ رہنا سنجیدگی کی علامت ہے اور اچھی بات کہنا چپ رہنے سے بہتر ہے۔

جب آدمی خاموش ہوتا ہے اور مجلس میں اچھی باتیں کہی جا رہی ہیں تو گویا وہ صحیح طور پر ان باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ایسے ہی افراد تیار کرتا ہے، جو سوچنے والے زیادہ ہوں اور فضول گوئی سے چُپ رہنے کو محبوب جانتے ہوں۔

اسلاف کرامؒ کی حیات پاک کا مطالعہ کرنے سے ہمیں درس حاصل کرنا چاہیے کہ انہوں نے کس طرح حفظِ لسان کا خیال رکھا اور فضول و لایعنی باتوں سے اپنے آپ کو کس طرح بچایا اور اپنے ماننے والوں کو بھی اسی کا درس دیا۔ ہمارے اسلاف نے حفاظت زبان کے بارے میں جو مثالی نمونے پیش فرمائے ہیں وہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، اگر ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے فضول باتوں سے حفاظت زبان ہمیشہ اپنا شیوہ رکھا اور ’’ ایک چُپ سو سُکھ‘‘ کے مصداق رہے۔

لیکن موجودہ معاشرہ فضول گوئی و بیہودگی میں سابقہ ادوار پر بازی لے گیا۔ گندے مذاق، شغل و یاوہ گوئی معاشرے کے افراد میں خوراک کی حد تک رچ پس گئی ہے۔ جب تک ہم قرآن و سنت اور اسلاف کی پاکیزہ تعلیمات کو اپنا کر اپنی زبان کی حفاظت نہیں کریں گے تب تک ہمارے رزق میں برکت، مال کی فراوانی، عزت و مقام اور جاہ و جلال میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اﷲ تعالیٰ ہمیںِ زبان کی حفاظت کی توفیق دے۔ آمین

The post ’’ ایک چُپ سو سُکھ ‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2nFE5Uh
via IFTTT

باپ کے قتل میں بیٹا ہی ملوث نکلا، ملزم گرفتار ایکسپریس اردو

کراچی: بیٹا ہی باپ کا قاتل نکلا، سچل پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

سچل کے علاقے میں 22 جولائی کو 65 سالہ علی جان کا قتل ہوا تھا جسے گردن پر تیز دھار آلے کے وار کرکے قتل کیا گیا ، سچل پولیس نے واقعے کا مقدمہ الزام نمبر 405/19 بجرم دفعہ 302/34 کے تحت مقتول کے بیٹے عبدالقدوس کی مدعیت میں درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا ، پولیس حکام نے تفتیش کرتے ہوئے مقتول کے تمام بیٹوں اورقریبی افراد کا موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کیا اور بیانات ریکارڈکیے۔

ایک بیٹے عبدالمجید نے بیان دیا کہ قتل سے ایک روز قبل ان کے گھر میں جرگہ ہوا تھا اور اسے جرگے والوں پر شک ہے ، پولیس نے تمام واقعات کی باریک بینی سے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ عبدالمجید ہی اصل قاتل ہے ، ملزم نے گرفتاری کے بعد ابتدائی طور پر بیان دیا کہ وہ گھر میں چھوٹا تھا لیکن وہ چاہتا تھا کہ گھر میں ہونے والے فیصلوں میں اسے بھی شریک کیا جائے لیکن کم عمری کے باعث اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا جس کی وجہ سے وہ انتہائی غصے کے عالم میں تھا اور اسی کیفیت میں اس نے اپنے باپ کو قتل کردیا.

عبدالمجید نے بتایا کہ وہ والد کوقتل کرنے کے ساتھ اپنے بڑے بھائی کو بھی قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن باپ کے قتل کے بعد وہ گھبراگیا جس کے باعث وہ بھائی کو قتل نہیں کرسکا ، پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل برآمد کرلیا۔

The post باپ کے قتل میں بیٹا ہی ملوث نکلا، ملزم گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2mc7tB7
via IFTTT