Saturday, July 25, 2020

300 نوری سال دُور ستارے کے گرد سیاروں کی پہلی براہِ راست تصویر ایکسپریس اردو

چلی: ماہرینِ فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمین سے 300 نوری سال دوری پر، سورج جیسے ایک ستارے کے گرد چکر لگاتے ہوئے دو سیاروں کی پہلی براہِ راست تصویر حاصل کرلی ہے، جو اپنے آپ میں ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔

تصویر میں یہ دونوں سیارے، اپنے مرکزی ستارے کے گرد دو روشن نقطوں کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ خلا میں روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے اور وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال کے دوران خلا میں طے کرے، وہ ’’نوری سال‘‘ (لائٹ ایئر) کہلاتا ہے۔

اب تک ہم نے نظامِ شمسی سے باہر، دیگر ستاروں کے گرد گھومتے ہوئے جتنے بھی سیارے دریافت کیے ہیں، وہ سب کے سب اپنے مرکزی ستارے سے آنے والی روشنی میں اتار چڑھاؤ یا اس ستارے کی حرکت میں بے قاعدگی کی بنیاد پر دریافت ہوئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی دوسرے ستارے کے گرد سیاروں کی براہِ راست تصویر حاصل کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق، جس ستارے کے گرد یہ سیارے دریافت ہوئے ہیں وہ ابھی بالکل ’’نوجوان‘‘ ہے اور آج سے ’’صرف‘‘ دو کروڑ سال پہلے ہی وجود میں آیا ہے۔ اس ستارے کا کوئی باقاعدہ نام تو نہیں لیکن فلکیاتی کٹیلاگ میں اس کا نمبر TYC 8998-760-1 ہے؛ اور یہ ’’مُسکا‘‘ (مکھی) نامی جھرمٹ میں واقع ہے۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ نظامِ شمسی ابھی اپنی تشکیل کے ابتدائی مرحلے پر ہے، جیسا کہ ہمارا نظامِ شمسی آج سے 4 ارب 60 کروڑ سال پہلے تھا۔

یہ دونوں سیارے بہت بھاری بھرکم ہیں جن میں سے ایک کی کمیت ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بھاری سیارے ’’مشتری‘‘ کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ، جبکہ دوسرے کی کمیت ہمارے مشتری سے 14 گنا زیادہ ہے۔

ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ ان میں سے قریب والا سیارہ اپنے ستارے سے 160 فلکی اکائیوں جتنے فاصلے پر، جبکہ دور والا سیارہ 320 فلکیاتی اکائیوں کے فاصلے پر رہتے ہوئے محوِ گردش ہے۔

ایک فلکیاتی اکائی (ایسٹرونومیکل یونٹ یا AU) سے مراد سورج اور زمین کے درمیان اوسط فاصلہ ہے جو تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر بنتا ہے۔ موازنے کی غرض سے بتاتے چلیں کہ ہمارے نظامِ شمسی میں سیارہ نیپچون کا ہمارے سورج سے فاصلہ 30 فلکیاتی اکائیوں جتنا ہے، جبکہ پلوٹو بھی سورج سے صرف 39 فلکیاتی اکائیوں جتنی دوری پر ہے۔

یہ دریافت ’’ویری لارج ٹیلی اسکوپ‘‘ (VLT) کی مدد سے کی گئی ہے جسے اس وقت ’’زمین پر موجود سب سے طاقتور اور حساس ترین بصری دوربین‘‘ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یورپین سدرن آبزرویٹری (ESO) کے زیرِ انتظام چلنے والی یہ رصدگاہ، چلی کے دور افتادہ ریگستان ’’اٹاکاما‘‘ میں تعمیر کی گئی ہے۔ یہ چار فلکی دوربینوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک دوربین کے آئینے کا قطر 8.3 میٹر ہے۔

ویسے تو ان دوربینوں کو الگ الگ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن دور دراز خلائی اجسام کی واضح اور بہتر تصویر کشی کےلیے ان دوربینوں کو ایک ساتھ کچھ یوں مربوط کیا جاتا ہے کہ یہ چاروں مل کر ایک بہت بڑی اور انتہائی طاقتور فلکی دوربین کی طرح کام کرتی ہیں۔

اس دریافت کی مکمل تفصیلات ’’دی ایسٹروفزیکل جرنل لیٹرز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ یہ دریافت کرنے والی عالمی ٹیم میں ہالینڈ (نیدرلینڈ)، بیلجیئم، برطانیہ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل تھے۔

The post 300 نوری سال دُور ستارے کے گرد سیاروں کی پہلی براہِ راست تصویر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2WRpVhJ
via IFTTT

لاک ڈاؤن سے پریشان ہیں تو اپنی چیخ آئس لینڈ تک پہنچائیں! ایکسپریس اردو

آئس لینڈ سیاحوں کے لیے اپنی تشہیر کرتا رہتا ہے اور اب اسی مہم کے تحت کہا گیا ہے کہ یہ ملک سیاحت کا بہترین مقام ہے اور اس کی بدولت کورونا لاک ڈاؤن میں بند افراد اپنا غصہ نکالنے کے لئے اپنی چیخ اس ویب سائٹ پر ریکارڈ کراسکتے ہیں۔ یہ چیخ فوری طور پر ایک پہاڑی علاقے میں کئی اسپیکروں سے نشر کردی جائے گی۔

اس کے لیے ویب سائٹ نے سات دوردراز مقامات پر اسپیکر لگائے ہیں جس پر آپ کی چیخ ، پکار یا کوئی بھی صدا نشر کردی جائے گی۔ یہ اسپیکر آبادی سے دور ہیں۔ ان میں فیسٹر فال آبشار کی چوٹی، مشہور پہاڑیوں، اوردیگر پرفضا مقامات پر اسپیکر نصب کئے گئے ہیں۔ آپ اپنی چیخ یا صدا کے لئے کسی بھی مقام کا تعین خود کرسکتے ہیں۔ اس ویب سائٹ کومحکمہ سیاحت آئس لینڈ نے پیش کیا ہے۔

چیخ تھراپی

نفسیات داں کہتے ہیں کہ چیخنے کا عمل تناؤ کو کم کرتا ہے اوراسے بطور تھراپی بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی ویب سائٹ پر ایک خاتون کا بیان ہے کہ لاک ڈاؤن اور دیگر اکتاہٹ کے لمحات میں چیخا جائے تو انسانی دماغ کا ایک اہم حصہ ایمگڈالا بوجھ سے ہلکا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی دوردراز اور سنسان مقام پر چیخنے کے صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اگر آپ اپنی پکار آئس لینڈ کو سنانا چاہتے ہیں تو اس ویب سائٹ کو یاد رکھیں https://lookslikeyouneediceland.com/

ریکارڈنگ اور نشر ہونے کےبعد آپ کا نام اور ملک کا نام ویب سائٹ پر ظاہر ہوجائے گا۔

The post لاک ڈاؤن سے پریشان ہیں تو اپنی چیخ آئس لینڈ تک پہنچائیں! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3010QTj
via IFTTT

ملک میں کورونا کے مزید 1226 کیسز رپورٹ، 35 مریضوں کا انتقال ایکسپریس اردو

 اسلام آباد: پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کم ہونے لگے اور ایک روز میں مزید 1226 مریض سامنے آگئے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 1226 کورونا کیسز سامنے آگئے جس کے نتیجے میں کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 73 ہزار 113 ہوگئی۔

سندھ میں ایک لاکھ 17 ہزار 598، پنجاب میں 91 ہزار 901، خیبرپختونخوا میں 33 ہزار 220، بلوچستان میں 11 ہزار 578، اسلام آباد میں 14 ہزار 841، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 952 اور آزاد کشمیر میں 2 ہزار 23 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔

کورونا کے مزید 35 مریض دم توڑ گئے جس کے باعث اموات کا مجموعہ 5822 ہوگیا۔ ملک میں کورونا کے 2 لاکھ 37 ہزار 434 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں اور فعال کیسز کی تعداد 29857 ہے۔

سندھ میں 2135، پنجاب 2116 ، خیبرپختونخوا میں 1176، اسلام آباد میں 163 ، بلوچستان میں 136، گلگت بلتستان میں 47 جب کہ آزاد کشمیر میں تاحال 49 مریض کورونا وائرس سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ملک بھر کے 734 اسپتالوں میں کورونا کے 1894 مریض زیرعلاج ہیں جن میں سے 238 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں

24 گھنٹوں کے دوران 23 ہزار 254  ٹیسٹ کیے گئے۔ مجموعی طور پر اب تک کورونا کے 18 لاکھ 68 ہزار 180 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post ملک میں کورونا کے مزید 1226 کیسز رپورٹ، 35 مریضوں کا انتقال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39u5s7C
via IFTTT

مِرے شوق کی بلندی۔۔۔آصف فرّخی کا ادبی سفر ایکسپریس اردو

زندگی اور موت کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل جو کبھی سست روی اور کبھی سُبک انداز میں جاری رہتا ہے، کسی بھی موت کو ’اچانک‘ قرار دینے کی گنجائش نہیں چھوڑتا، لیکن پھر بھی کچھ زندگیاں اس قدر ’زندہ‘ اور دمِ آخر تک اتنی تخلیقی وفور کی حامل رہی ہوتی ہیںکہ اُن کا آناً فاناً ختم ہوجانا پیچھے رہ جانے والوں کو دنوں غیر یقینی اور حیرت کی کیفیت میں مبتلا رکھتا ہے۔

ڈاکٹر آصف فرخی جنہوں نے ادبی دنیا میں خود کو صرف آصف فرخی کہنا اور کہلوانا پسند کیا، بزمِ جہاں سے یوں اچانک رخصت ہوئے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے بہت اونچی اڑان باندھی ہو، لمحہ بہ لمحہ بلندیوں کا سفر طے کیا ہو اور ابھی مزید بلندیاں اُس کی منتظر ہوں کہ معاً اُڑان کی یہ کہانی بیچ میں روک دی گئی ہو۔ آصف فرخی نے ادبی دنیا میں جتنی بھی مسافت طے کی وہ کمیت اور کیفیت دونوں میں بڑی خیرہ کُن ہے۔

وہ مزید زندہ رہتے تو نہ جانے اور کتنی کام یابیاں اُن کے حصے میں آتیں۔ ایک وسیع المطالعہ انسان، اردو اور انگریزی کے کلاسیکی اور جدید ادب پر گہری نظر، افسانہ نگار، نقاد، انٹرویونگار، اردو اور انگریزی زبانوں میں اپنے انداز کے لکھنے والے، ایک غیرروایتی قسم کے تازہ کار ادبی جریدے کے ایڈیٹر اور پھر ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کی تنظیمی سرگرمیوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے والے آصف فرخی غیرمعمولی توانائی کے ساتھ ادبی دنیا میں مصروفِ کار تھے۔ اُن کی کاوشیں اور حاصلات کا احاطہ آسان کام نہیں۔

آصف فرخی کا ادبی سفر بڑے موزوں پس منظر میں ہوا۔ اچھے اسکول کی تعلیم انہیں میسر آئی۔ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ بوسٹن، امریکا جاکر پبلک ہیلتھ کے مضمون میں ماسٹرز کیا۔ اس ساری پیشہ ورانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں گھر میں ایک بڑا ادبی ماحول میسّر آیا جس نے اُن کی پرداخت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے والد ڈاکٹر اسلم فرخی ایک مستند محقّق، اردو ادب کے پروفیسر اور ادیب تھے۔ اُن کے چچا انور احسن صدیقی معروف ترقی پسند ادیب، کالم نگار اور دانشور تھے۔ نظری اعتبار سے آصف فرخی نے اپنا ادبی سفر چچا کے بجائے والد کے روایتی ادبی افکار کے زیرِاثر شروع کیا لیکن جلد ہی وہ جدیدیت کی طرف مائل ہوتے چلے گئے۔

اُن کے افسانے زمانۂ طالب علمی ہی میں ادبی جریدوں میں شایع ہونا شروع ہوچکے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مطالعے میں وسعت بھی آئی اور خیالات میں بھی بڑی حد تک وسیع النظری داخل ہوتی گئی۔ ترقی پسندی اور ترقی پسندوں سے اُن کی مکمل نظریاتی وابستگی تو کبھی نہیں ہوئی بلکہ بعض مواقع پر اور بعض تحریروں میں انہوں نے اچھی خاصی جارحیت تک کا مظاہرہ کیا لیکن کچھ موضوعات ایسے ضرور تھے جن کے حوالے سے ان کا نقطۂ نظر اُن کو ترقی پسندوں کے قریب بھی لایا۔1995 میں انہوں نے ارجنٹینا کے ناول نگار عمر ریوا بیلا(Omar Rivabella)کے ناول Requiem for a Woman’s Soul کا ترجمہ ’ماتم ایک عورت کا‘ کے عنوان سے کیا۔ اس ناول کے بارے میں معروف امریکی ناول نگار نارمن میلر نے کہا تھا کہ ’یہ ناول انسانی وقار پر دہشت کی یورش اور اذیت اٹھانے والوں کی نفسیات کا مطالعہ ہے‘۔

یہ ناول ارجنٹینا میں فوجی شب خون اور آمریت کے زمانے میں آزادی خواہوں پر ٹوٹنے والی ابتلا اور اپنے حقوق کے طلب گاروں کے غائب کردیے جانے کی اذیت کا ایک تخلیقی اظہاریہ ہے۔ یہ ناول او راس جیسی دیگر غیر ملکی تحریروں نے آصف فرّخی کے طرزِ فکر میں تبدیلی کے تخم بونے شروع کیے۔

وقت گزرنے اور ارد گرد کی امتداد کے ساتھ ساتھ اُن کے پسندیدہ موضوعات کا میدان پھیلتا چلا گیا۔ خاص طور سے عالمی امن اور بالخصوص جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ کے خلاف اُن کے خیالات اُن کے اور اکثر ترقی پسندوں کے خیالات میں قدرِمشترک بن گئے۔ پھر جس طرح سے انہوں نے فلسطینی اور دیگر عربی ادبیات کا ترجمہ کرکے اُن کو اردو کے قارئین تک پہنچایا اُس نے بھی اُن کو ترقی پسند حلقوں کے قریب آنے میں مدد دی۔

اس مشترک میدان کا بہت اچھا اظہار اُن کے نکالے ہوئے رسالے ’دنیا زاد‘ میں ہوا جس میں روایت پسند اور جدیدیت پسند ادیبوں کے ساتھ ساتھ ترقی پسند اہلِ قلم کو بھی بڑے پیمانے پر شایع کیا گیا۔ چنانچہ ’دنیازاد‘ کے صفحات میں جہاں عالمی سطح کے اہلِ قلم مثلاً نوم چومسکی، ایڈورڈ سعید، ڈاکٹر اقبال احمد، حمزہ علوی، ارُن دھتی رائے، نجیب محفوظ اور محمود درویش کی تخلیقات کے تراجم شایع ہوئے، وہیں فیض احمد فیض، شیخ ایاز، حسن عابدی، انور احسن صدیقی، مسعود اشعر، انوار احمد، امر جلیل، امداد حسینی، فہمیدہ ریاض، زاہدہ حنا، کشور ناہید، شاہ محمد مری اور ایسے ہی بیسیوں ترقی پسندوں کی تخلیقات تواتر سے شایع ہوتی رہیں۔

’دنیا زاد‘، آصف فرخی کے مزاج کا بہترین پَرتو ثابت ہوا۔ تازہ کاری، نت نئے موضوعات کی تلاش، ہمعصر عالمی ادبی رجحانات کی عکاسی، پاکستان کی مختلف زبانوں میں ہونے والے تخلیقی تجربات کے اردو تراجم اور پھر ان سب کی پیشکش میں ایک غیرروایتی اسلوب، یہ سب عناصر ’دنیا زاد‘ کو ’دنیا زاد‘ بناتے تھے۔ عام طور سے ادبی جرائد مختلف اصناف کی چیزوں کو شعبوں کی شکل میں شایع کرتے ہیں۔

’دنیا زاد‘ نے اس اسلوب کو ترک کرکے نثر، نظم، افسانے، تنقید اور تراجم میں کسی ترتیب کو مستقل حیثیت نہیں دی۔ یہ بھی ایک نیا انداز تھا پڑھنے والوں کی نظر میں آنے کا۔ آصف ہر چیز کو نیا بنا کر پیش کرنے کے ماہر تھے۔ سب سے زیادہ انہوں نے جس چیز کو نئے انداز میں برتنے کی کوشش کی وہ اساطیری موضوعات، اساطیری کردار اور قدیم داستانوں سے اخذ کردہ لفظیات، تراکیب اور خیالات کو آج کے موضوعات پر منطبق کرنے کی ان کی معنی خیز اور دل چسپ روش تھی۔ یہ ماضی اور حال کے درمیان ایک رشتہ بنانے اور اس رشتے کو باور کرانے کی ایک اچھی کوشش تھی جس نے جلد ہی پڑھنے والوں کو آصف فرخی کی اپنی تحریروں اور اُن کے مرتب کردہ جریدے کی طرف متوجہ کرلیا۔

’دنیا زاد‘ کا یہ پہلو بھی بہت قابلِ تحسین تھا کہ آصف فرخی نے ہم عصر دنیا میں ہونے والے تلاطم خیز واقعات، عالمی سیاست کی بے مہر تبدیلیوں، بڑی طاقتوں کی سفاک سیاست، اور ان سب کے نتیجے میں ابھرنے والے تہذیبی و ثقافتی رجحانات اور تخلیقی تجربات سے لمحہ بہ لمحہ واقف رہنے کا مظاہرہ کیا۔ ’دنیا زاد‘ نے ’’عاشق من الفلسطین‘‘ کے عنوان سے دو جلدوں پر مشتمل جو خصوصی شمارہ شایع کیا، وہ اردو زبان میں فلسطین سے متعلق نمائندہ ادب کا بہترین مرقع تھا۔ عراق پر امریکی جارحیت کے پس منظر میں ’دنیا زاد‘ کے خصوصی شمارے کا عنوان ’میں بغداد ہوں‘ تھا۔ اس شمارے میں یورپ، امریکا، عالم ِعرب اور برصغیر کے اہل ِقلم کی تحریریں، غم و غصے، احتجاج، ملال، اور پھر اٹھ کھڑے ہونے، کے رویوں کا اظہار ہیں۔ ان تحریروں کو پڑھیں تویہ بصرہ و بغداد کے کراچی اور لاہور سے ہم آغوش ہونے اور وسیع تر انسانی تہذیب کی مشترکہ ابتلاؤں اور نجات کی مشترک خواہشوں کے اظہار پر صاد کرتی نظر آتی ہیں۔

نو گیارہ کے بعد دنیا دہشت گردی کے جس گرداب میں پھنسی، اس حوالے سے ’دنیا زاد‘ میں تخلیق کاروں کا بیانیہ نظم و نثر، سیاسی و سماجی تجزیوں کی شکل میں ایک خصوصی شمارے میں یکجا ہوا۔ شمارے کا عنوان تھا، ’دنیا دنیا دہشت ہے‘۔ جتنی دہشت انگیز، عالمی دہشت گردی تھی، شاید اتنا ہی دہلا کر رکھ دینے والا یہ عنوان تھا۔ بعدازاں، ’دنیا زاد‘ کے کم و بیش ہر شمارے کو کوئی نہ کوئی عنوان دیا گیا، خواہ وہ خصوصی شمارہ نہ بھی رہا ہو۔ البتہ یہ عنوان مذکورہ شمارے میں شامل چند خصوصی تحریروں کے حوالے سے قائم کیا جاتا تھا۔ عنوانات قائم کرنے میں آصف فرّخی کی اختراع پسندی، اور چیزوں کو کہانیوں کے روپ میں دیکھنے اور دکھانے کا رویہ واضح طور سے جھلکتا تھا۔ کچھ عنوان، مثلاً، یہ تھے -’سایۂ دیوارِ یار‘، ’جل دھارا‘، ’کوئے ملامت‘، ’قصّۂ رنگ ِشکستہ‘، ’نیند کے خلاف بیانیہ۔‘

آصف فرخی کاا پنا تخلیقی سفر اُن کے پہلے افسانوی مجموعے ’آتش فشاں پر کھِلے گلاب‘ سے شروع ہوا جو 1982میں شایع ہوا۔ دو سال بعد اُن کا ایک اور افسانوی مجموعہ ’اسمِ اعظم کی تلاش‘ شایع ہوا۔ اُن کا تیسرا مجموعہ 1991 میں ’چیزیں اور لوگ‘ کے عنوان سے اور چوتھا مجموعہ 1995 میں ’شہر بیتی ‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ اس کے دو سال بعد 1997 میں ’میں شاخ سے کیوں ٹوٹا‘ اور2009 میں ’میرے دن گزر رہے ہیں‘ شایع ہوئے۔

مجموعی طور پر ان چھے مجموعوں میں کوئی ایک سو سے زیادہ افسانے شامل ہوئے جو اس لحاظ سے ایک اچھی تعداد ہے کہ ان کے علاوہ وہ تنقیدی مضامین بھی لکھ رہے تھے، یورپی، امریکی اور لاطینی ادیبوں کی تخلیقات کے تراجم بھی کررہے تھے، انگریزی اور اردو مطبوعات میں کتابوں پر ان کے تبصرے بھی شایع ہورہے تھے اور وہ ادیبوں اور دانشوروں کے مفصّل انٹرویوز بھی کررہے تھے جن کی بڑی تعداد انگریزی رسالے ’ہیرلڈ‘ میں شایع ہوئی۔ اردو میں شایع ہونے والے انٹرویوز اُن کی کتاب ’حرفِ من و تو‘ میں یکجا ہوکر شایع ہوچکے ہیں۔

آصف فرخی کی ذاتی اور طبع زاد تحریروں میں اُن مختلف اثرات کو دیکھا جاسکتا ہے جو مختلف اوقات میں اُن پر مرتب ہوئے۔ قدیم داستانوں اور کلاسیکی ادب سے انہوں نے بہت کچھ حاصل کیا۔ اپنی کئی کہانیوں میں انہوں نے اساطیری اندازِ تحریر اختیار کیا۔ انہوں نے علامتی کہانیاں بھی لکھیں۔ بیسویں صدی کے اردو ادب کا مطالعہ کیا اور پھر ہمعصر بین الاقوامی ادبی رجحانات سے بھی مستفید ہوئے۔ ان تمام اثرات کو قبول کرنے کے باوجود انہوں نے کسی ایک اسلوب کی پیروی سے احتراز کیا، پیروی کی بھی تو کم عرصے کے لیے، اور پھر وہ اپنا راستہ بنانے میں لگ گئے۔

وہ مختلف اوقات میں میراجی، محمد حسن عسکری، اور انتظار حسین سے ذہنی طور پر بہت قریب رہے۔ انتظار صاحب سے ذہنی قربت زیادہ گہری تھی اور کسی نہ کسی حد تک آخر وقت تک برقرار رہی۔ جہاں تک مؤخر الذکر کا تعلق ہے، آصف فرخی کے پہلے افسانوی مجموعے ’آتش فشاں پر کھِلے گلاب‘ کی کہانیوں پر انتظار حسین کے اثرات کے پس منظر ہی میں قمرجمیل نے بعض سخت جملے لکھے تھے: ’آتش فشاں پر کھِلے گلاب، ایسا لگتا ہے دنیا پر بڑی بوڑھیوں کا راج ہے…آصف فرّخی بھی انتظار حسین کی طرح ناسٹیلجیا کا شکار ہے…ہجرت کی خوشبو آخر کہاں تک ساتھ دے گی۔ افسوس یہ ہے کہ ہجرت کی یہ خوشبو اس نوجوان سے بھی لپٹی ہوئی ہے۔‘ بہر حال، ہجرت کی خوشبو کی یہ تہمت زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہی، جلد ہی یہ دوسری ہجرتوں سے آمیز ہوگئی۔ ہجرت کا زیادہ بڑا بیانیہ آصف فرّخی کے یہاں، فلسطین کی سرزمین سے ابھرا۔ ’دنیا زاد‘ میں شرقِ اوسط سے متعلق ہجرت کی کہانیاں اور اس کا سماجی و سیاسی تجزیہ، بھرپور طریقے سے آیا۔

گذشتہ دس پندرہ برسوں میں آصف فرّخی کو ادبی سرگرمیوں کا ایک اور میدان میسر آگیا۔ ملکی اور بین الاقوامی ادبی کانفرنسوں میں تو وہ برسہا برس سے شریک ہورہے تھے اور ان کانفرنسوں کے طفیل اُن کا اہلِ علم میں حلقۂ احباب بھی وسیع ہوچکا تھا، دس پندرہ برس قبل کراچی میں لٹریچر فیسٹیول اور ادبی کانفرنسوں کا ڈول ڈالا گیا۔ آصف فرّخی ان سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔

1980 اور 1991 کے عشرے کراچی پر بہت بھاری گزرے تھے۔ نسلی و مذہبی انتہاپسندی کے ہاتھوں شہر کا تہذیبی لبادہ تار تار ہوچکا تھا۔ کراچی بہت تیزی کے ساتھ ایک شہرِ خاک و خون، ایک آسیب زدہ شہر بن چکا تھا۔ دہشت گردی کی آئے دن کی وارداتیں، خونریزی، سربریدہ لاشیں، ایمبولینسوں کی دل و دماغ کو چیرتی ہوئی آوازیں، مخصوص اداروں کی اندرونی لڑائیاں، ان کے پروردہ سیاسی چہروں کی کاروائیاں، مافیاؤں کی ریشہ دوانیاں، ان سب کے نتیجے میں کراچی جو کبھی رونقوں کا شہر تھا، ایک شہرِبرباد کی تصویر بن چکا تھا۔ لیکن پھر اسی بربادی کے اندر سے تعمیر و تہذیب کی آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔1990کے عشرے سے علمی، ادبی اور ثقافتی سطح پر کراچی کے احیاء کی انفرادی اور کہیں کہیں اجتماعی کوششوں کا آغاز ہوا۔

چند اہلِ بصیرت نے علمی تحقیقات کے ذریعے، کچھ نے ادبی جرائد کے وسیلے سے اور کچھ نے اپنی نثری و شعری تخلیقات کے حوالے سے کراچی کے احیاء کی کوشش شروع کی۔ بہت سے نام اس سلسلے میں لیے جاسکتے ہیں مگر کچھ کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکے گا۔ یہ کراچی کے محسن تھے اور آئندہ کا مؤرخ ان کو اسی طور دیکھنے پر مائل ہوگا۔ عارف حسن، اجمل کمال، فہمیدہ ریاض، احمد شاہ، امینہ سید اور آصف فرّخی، ان سب کی علمی اور عملی کاوشوں کے نتیجے میں کراچی کا ادبی و تہذیبی تشخص بحال ہوا۔  ان لوگوں نے جس پس منظر میں یہ کام کیا اُس کو دیکھ کر حسن عابد کا شعر زبان پر آجاتا ہے  ؎

ہَوا کرتی ہے اپنا کام اور شمعیں بجھاتی ہے

ہم اپنا کام کرتے ہیں، نئی شمعیں جلاتے ہیں

آصف فرّخی کی ادبی خدمات ذہن میں آتی ہیں تو ذہن خود بخود کچھ ذاتی یادوں کی طرف بھی مڑ جاتا ہے۔ آصف فرّخی اپنے قریبی ادبی احباب کے ساتھ یقیناً بہت شیر و شکر رہتے ہوں گے، لیکن عام طور سے وہ خاصے لیے دیے رہتے تھے۔ اُن سے شناسائی تو زمانۂ طالب علمی ہی میں ہوگئی تھی جب وہ ڈاؤ میڈیکل کالج اور میں کراچی یونیورسٹی میں زیرِتعلیم تھا۔

ہمارے درمیان میل جول کے کچھ زیادہ اسباب موجود نہیں تھے، پھر نظریاتی فاصلے بھی اپنی جگہ موجود تھے۔ ان فاصلوں کو جنرل ضیاء الحق کے زمانے کی فوجی آمریت نے اور بھی وسیع کردیا تھا۔ یہ دائیں بازو کے طمطراق اور کسی کو خاطر میں نہ لانے کے دن تھے۔ پاکستان میں میکارتھی ازم اسلامائزیشن کی جُون میں آیا۔ محمد حسن عسکری نے مغرب کے تمام تصورات، نظریات اور ثقافتی مظاہر کو بیک جنبشِ قلم گمراہی قرار دے دیا۔

بایاں بازو کہیں مدافعت اور کہیں مزاحمت میں سرگرداں تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آصف فرخی اور ترقی پسندحلقوں کے درمیان اجنبیت کی یہ فضا کم ہونا شروع ہوئی اور اس تبدیلی کا سبب خود آصف فرّخی کے یہاں نموپذیر ہونے والا ایک نیا احساس تھا جس کے تحت انہوں نے اپنے گرد کھنچے ہوئے حصار کو خود ہی نرم کرنا شروع کیا اور اپنی سرحدوں کو ازسرِنو طے کرنے کی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ ’دنیازاد‘ کے اجراء نے اُن کے لیے اس کام کو اور بھی آسان بنادیا۔ تب انہوں نے اپنے بنیادی تصورات پر قائم رہتے ہوئے دوسرے لوگوں کے ساتھ مشترک موضوعات کی تلاش کا کام شروع کیا۔ اُن کی یہ پیش قدمی میرے لیے اُن کے قریب آنے کا سبب بن گئی۔

مارچ 2011 میں ہمیں بنگلادیش جانے اور ڈھاکا کی بریک یونیورسٹی کی ایک ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا۔ اس ورکشاپ کا مقصد پاکستان، بنگلادیش اور ہندوستان کے درمیان 1971 کے واقعات کے حوالے سے علم، تحقیق اور مکالمے کے کسی پلیٹ فارم کی تعمیر کے امکان کی تلاش تھا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس ورکشاپ میں تینوں ملکوں کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور دیگر اہلِ قلم شامل تھے۔ پاکستان سے آصف فرّخی، پنجابی کے معروف شاعر اور ادیب ریٹائرڈ کرنل نادر اور راقم اس ورکشاپ میں شریک ہوئے۔ کرنل نادر 1971 میں مشرقی پاکستان میں تعینات تھے۔ مارچ 1971 کے بعد انہوں نے جو کچھ ہوتے دیکھا اُس کے نتیجے میں وہ ذہنی توازن کھو بیٹھے تھے۔

فوج سے اُن کو فارغ کردیا گیا۔ برسوں بعد علاج معالجے کے نتیجے میں معمول کی زندگی شروع ہوئی تو انہوں نے قلم و قرطاس کا سہارا لیا اور ادیب بن گئے۔ اسی ورکشاپ میں امریکا سے کامران اصدر علی جن کا تعلق پاکستان ہی سے ہے اور یاسمین سائیکیا تشریف لائیں جو آسام سے تعلق رکھتی ہیں لیکن جنوبی ایشیا پر اپنی تحقیقات کے حوالے سے ثقافتی تاریخ نویسوں میں اپنی ایک نمایاں پہچان رکھتی ہیں۔ یہ ورکشاپ بڑی گرما گرم بحثوں کی حامل ثابت ہوئی۔ سب نے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا۔ خوش آئند بات یہ تھی کہ بہت سے فاصلے اور غلط فہمیاں اس ورکشاپ کی میز پر ختم ہوئیں۔ آصف فرّخی نے 1971 کے واقعات کے، پاکستانی ادبیات پر اثرات پر گفتگو کی۔ مجھے 1971 سے متعلق پاکستان میں تاریخی اور سیاسی کتب اور سرکاری بیانیوں کے جائزے کا موقع ملا۔ ورکشاپ کے انہی دنوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ بنگلادیش میں آصف فرّخی کے دوست احباب کی کمی نہیں ہے۔

بنگلادیش کی اس ورکشاپ کا ایک اور نتیجہ یہ بھی نکلا کہ آصف فرّخی کی مشاورت سے ہم نے جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر میں نو لیکچروں کی ایک سیریز کا انعقاد کیا جس کا موضوع 1971 کے واقعات کا تاریخی و سیاسی پس منظر اور پھر اس پس منظر میں لکھا جانے والا ادب تھا۔ اس سیریز کے ابتدائی دو لیکچر میرے حصے میں آئے جب کہ بقیہ سات لیکچر آصف فرّخی نے دیے۔ انہی لیکچروں کے دوران ایک موقع پر وہ انتظار حسین صاحب کو سینٹر لائے اور ان سے اُن کے ایک ناول کا حصہ طالب علموں کے سامنے پڑھوایا اور پھر اس پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ایک اور روز وہ معروف افسانہ نگار اسد محمد خان صاحب کو لے آئے۔ انہوں نے بھی اپنا ایک افسانہ طالب علموں کے سامنے پڑھا اور پھر ان کے سوالوں کے جواب بھی دیے۔

یہ تجربہ اتنا کام یاب رہا کہ بعدازاں جب آصف فرّخی نے حبیب یونیورسٹی سے وابستگی اختیار کی تو انہوں نے تقسیمِ ہند اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے واقعات پر باقاعدہ کورس ڈیزائن کیے۔ خود مجھے بھی ایک آدھ مرتبہ ان کی دعوت پر ان کورسوں میں اظہارِخیال کا موقع ملا اور مجھے یہ دیکھ کر بے حد مسرت ہوئی کہ انہوں نے طالب علموں کو روایتی نصاب سے ہٹ کر تاریخ کے بہت اہم موضوعات پر بڑے تخلیقی انداز میں سوچنے اور اپنے خیالات مدوّن کرنے کا سلیقہ سکھا دیا تھا۔

آصف فرّخی سے تعلق کی ایک اور سبیل اُن کے چچا انور احسن صدیقی صاحب کے حوالے سے پیدا ہوئی۔ انور احسن صدیقی ہمارے ترقی پسند حلقوں میں غیرمعمولی عزت اور احترام کے حامل رہے تھے۔ انہوں نے بڑی صبرآزما زندگی گزاری تھی۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو باوجود بہت سے مواقع کے، کبھی حرص و ہوس کے سیلاب میں نہیں بہے۔ ادب، صحافت اور کالم نگاری میں انہوں نے اپنی زندگی بِتا دی تھی۔ آصف فرّخی نے اپنے اشاعتی ادارے ’شہرزاد‘ سے انور احسن صدیقی کی خودنوشت ’دلِ پُر خوں کی اِک گلابی سے‘ کے عنوان سے شایع کی۔ یہ خودنوشت کیا تھی، پاکستان کے ابتدائی پانچ چھ عشروں کے المیوں اور طربیوں کا بیان تھا۔ صدیقی صاحب کے انتقال پر مجھے ایک مفصّل مضمون اُن کے حوالے سے لکھنے کا موقع ملا تو آصف فرّخی نے بڑی خوش دلی سے اس کو ’دنیا زاد‘ میں شایع کیا۔ بلکہ ایک موقع پر ڈاکٹر اسلم فرّخی صاحب کے سامنے مجھ سے یہ مضمون پڑھوایا بھی۔

کراچی کے لٹریچر فیسٹیولز اور ادبی کانفرنسوں میں اُن سے ملنا ایک معمول کی بات بن گئی تھی۔ انہی ملاقاتوں میں کچھ نئے منصوبے اور نئے امکانات بھی زیربحث آجاتے۔ عجیب اتفاق ہے کہ اُن کے انتقال سے قبل محض چند روز میں اُن سے دو ملاقاتیں ہوگئیں۔ کورونا کی جان لیوا وبا نے سب کا سکون برباد کر رکھا تھا۔ شہر بند تھا۔ تعلیمی ادارے، کتابوں کی دکانیں، لائبریریاں سبھی پر تالے پڑے ہوئے تھے۔ ایسے میں وباؤں کے تناظر میں لکھے جانے والے ادب پر میں نے کچھ خامہ فرسائی شروع کی تو تیسرے یا چوتھے مضمون کے بعد میں نے آصف فرّخی کو فون کرکے پوچھا کہ ان کے ادارے سے چھپنے والا ڈاکٹر حسن منظر کا ناول‘ وبا‘ مجھے کس طرح مل سکتا ہے، دکانیں اور لائبریریاں تو سب بند ہیں۔ آصف فرّخی نے کہا کہ آپ مجھ سے میری ذاتی کاپی لے سکتے ہیں۔

میں نے ان کے گھر جا کر وہ ناول لیا اور ہفتہ دس روز بعد اس کو واپس کرنے گیا تو انہوں نے مشہور نوبل انعام یافتہ پرتگالی ناول نویس حوزے سارا ماگو کے ناول کا ترجمہ ’اندھے لوگ‘ یہ کہہ کر مجھے دیا کہ یہ مشکل ناول ہے، احمد مشتاق نے اس کا اچھا ترجمہ کیا ہے۔ امید ہے کہ آپ اس پر بھی تجزیاتی مضمون لکھنا چاہیں گے۔ وبا کی بندشوں میں آصف فرّخی صاحب سے یہ دوسری ملاقات ان کے انتقال سے محض چار پانچ روز قبل ہوئی اور پھر وہ خاموشی سے دنیا سے چل دیے، بہت سارے کام کرکے، اور بہت سے چھوڑ کر۔ کام کرنے والے یہی کرتے ہیں۔

The post مِرے شوق کی بلندی۔۔۔آصف فرّخی کا ادبی سفر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jDn2L3
via IFTTT

روحانی دوست ایکسپریس اردو

صائم المصطفٰے صائم
واٹس اپ (923338818706)
فیس بک ( Almsuatafa Saim Saim)

علمِ الاعداد
نمبر معلوم کرنے کا طریقہ:
دو طریقے ہیں اور دونوں طریقوں کے نمبر اہم ہیں۔
اول تاریخ پیدائش دوم نام سے!
اول طریقہ تاریخ پیدائش!
مثلًا احسن کی تاریخ پیدائش 12۔7۔1990 ہے ، ان تمام اعداد کو مفرد کیجیے
1+2+7+1+9+9=29=2+9=11=1+1=2
احسن کا نمبر 2 نکلا۔

اعداد کی روشنی میں آپ کا یہ ہفتہ
سوموار27 جولائی 2020
حاکم نمبر4
صدقہ: سفید رنگ کی چیزیں یا 20 یا 200 روپے
وردِخاص”یاحی یاقیوم یا اللہ” 11 یا اپنے نمبر کے برابر پڑھنا مناسب ہوگا۔
1نمبر والوں کے لیے: اچانک سفریا کسی سے بزنس پر معاہدے ہونے کا امکان ہے۔
2نمبر والوں کے لیے: چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اور بڑی خوشی کا راستہ کھول سکتی ہیں۔
3 نمبر والوں کے لیے: رابطے، سفر اور پلان کئی بنیں گے لیکن کئی آپشن ہونے کی وجہ سے کنفیوژن ہوسکتی ہے۔
4نمبر والوں کے لیے: ہمت وصبر سے اپنے کام کو جاری رکھیں، دلبرداشتہ نہ ہوں، کچھ مشکل ہوسکتی ہے۔
5نمبر والوں کے لیے: توانائی محسوس ہوگی۔ حالات آپ کے قابو میں نظر آتے ہیں۔
6نمبر والوں کے لیے: جاری کاموں میں کچھ نیا ہوسکتا ہے جو اچھا انجام رکھتا ہے۔
7نمبر والوں کے لیے: مالی فائدہ ہوسکتا ہے، رشتوں سے خوشی ملے گی ۔
8نمبر والوں کے لیے: مستقبل کی منزل اور راہیں متعین کرنے کے لیے ایک معاون دن۔
9نمبر والوں کے لیے: کچھ اندورنی ٹوٹ پھوٹ سکتی ہے، لوگوں کے منفی رویوں کو اگنور کریں۔

منگل 28 جولائی 2020
حاکم نمبر3
صدقہ: سرخ رنگ کی چیزیں یا 90 یا 900 روپے
وردِخاص ”یا بدیع العجائب یا اللہ” 14 بار یا اپنے نمبر کے برابر پڑھنا مناسب ہوگا۔
1نمبر والوں کے لیے: آپ کا چیلینجنگ حالات کا سامنا ہوسکتا ہے، صدقہ دیں۔
2نمبر والوں کے لیے: سفر کرسکتے ہیں، معاہدوں اور وعدوں کے لیے اچھا وقت۔
3نمبر والوں کے لیے: کوئی خوشی آرہی ہے، جو فیملی اور فنانس سے متعلق ہوسکتی ہے۔
4نمبر والوں کے لیے: یہ دن خیالات میں جلنے کُڑھنے کا نہیں ہے، عملی میدان میں اتریں۔
5نمبر والوں کے لیے: کچھ مشکل ہوسکتی ہے، ہمت اور صدقہ سے کام لیں ۔
6نمبر والوں کے لیے: اچھا دن، توانائی ساتھ دے گی اور آپ اپنے رکے کام بھی سرانجام دے لیں گے۔
7نمبر والوں کے لیے: کاموں کی ابتدا کے لیے اچھا دن ہے۔
8نمبر والوں کے لیے: مالی فائدہ ہوتا نظر آتا ہے۔
9نمبر والوں کے لیے: مالی اور فیملی کے لیے پلاننگ کے لیے ایک معان دن۔

بدھ 29 جولائی 2020
حاکم نمبر9
صدقہ: زرد رنگ کی چیزیں یا 50 یا 500 روپے کسی مفلس طالب علم کو دینا بہتر ہوگا۔
وردِخاص” یاسلام یا اللہ” 13 بار پڑھنا مناسب ہوگا۔
1نمبر والوں کے لیے: کچھ مشکل ہوسکتی ہے، لیکن حالات آپ کے حق میں رہیں گے۔
2نمبر والوں کے لیے: مالی فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن کچھ خوامخواہ کی تلخی ہوسکتی ہے۔
3نمبر والوں کے لیے: بہت اچھا دن، کئی فائدے ہوسکتے ہیں۔
4 نمبر والوں کے لیے: حالات ناموافق ہوسکتے ہیں، مزاج میں گرمی آسکتی ہے۔
5نمبر والوں کے لیے: سفر یا رابطوں میں تیزی اور ان سے فائدہ ہوسکتا ہے۔
6نمبر والوں کے لیے: آپ کی مرضی کے حالات ہوسکتے ہیں، اچھا دن۔
7نمبر والوں کے لیے: مراقبہ اور روحانیت کے لیے ایک بہتر دن۔
8نمبر والوں کے لیے: مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے، محتاط رہیں۔
9 نمبر والوں کے لیے: تلخی، لڑائی اور تیزرفتاری سے گریز کریں۔

جمعرات 30 جولائی 2020
حاکم نمبر8
صدقہ: کسی نیک شخص کو لباس دیں یا کھانا کھلادیں یا 30 یا 300 روپے دے دیں۔
وردِخاص ”یاہادی یاودود یا اللہ” 21 بار تلاوت مناسب عمل ہوگا۔
1نمبر والوں کے لیے: ایک مشکل دن ہوسکتا ہے، آپ کے مزاج سے معاملات ہٹ کے ہوسکتے ہیں۔
2 نمبر والوں کے لیے: ذہنی طور پر کوفت اور ہیجانی کیفیت ہوسکتی ہے۔
3نمبر والوں کے لیے: مالی فائدہ ہوسکتا ہے۔
4نمبر والوں کے لیے: فیملی اور گھر سے متعلق چھوٹی موٹی الجھنوں کو چھوڑ کے بہتر دن۔
5نمبر والوں کے لیے: قطعی طور پر ایک محتاط رہنے والا دن، صدقہ لازم دیں۔
6نمبر والوں کے لیے: کچھ خواب ٹوٹ سکتے ہیں، کسی سازش کا شکار ہوسکتے ہیں۔
7نمبر والوں کے لیے: بہتر دن، کوئی اچھی خبر مل سکتی، ہے حالات میں بہتری۔
8نمبر والوں کے لیے: ملاجلا دن، معمول کے مطابق حالات کی امید ہے۔
9نمبر والوں کے لیے حالات الٹ ہوسکتے ہیں، محتاط رہیں صدقہ دیں۔

جمعہ 31 جولائی 2020
حاکم نمبر3
صدقہ: 60 یا 600 روپے کسی بیوہ کی مدد کرنا بہتر عمل ہوگا
وردِخاص”یامعید یا معز یا اللہ ” 13 یا اپنے نمبر کے برابر پڑھنا مناسب ہوگا۔
1نمبر والوں کے لیے: ایک اہم دن، کچھ تندی بادِمخالف کا سامنا ہوسکتا ہے۔
2نمبر والوں کے لیے: سفر اور رابطے سودمند ہوسکتے ہیں۔
3نمبر والوں کے لیے: کچھ اچھی خبریں ملنے کی امید ہے، خوشی ملے گی۔
4نمبر والوں کے لیے: ماضی سے منسلک کوئی شے یا کوئی شخص سے آمنا سامنا ہوسکتا ہے۔
5نمبر والوں کے لیے: کسی بزرگ یا سنیئر کی کوئی بات آپے لیے تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔
6نمبر والوں کے لیے: بہتر دن، توانائی اور جرأت سے حالات کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔
7نمبر والوں کے لیے: کسی اہم شخصیت سے ملاقات ہوسکتی ہے، کچھ نیا ہوسکتا ہے۔
8نمبر والوں کے لیے: مالی فائدہ مل سکتا ہے، رشتوں سے خوشی ملے گی۔
9نمبر والوں کے لیے: شان دار دن، گھر سے جڑے کئی سکھ ملیں گے۔

ہفتہ 1 اگست 2020
حاکم نمبر3
صدقہ: سیاہ رنگ کی چیزیں یا80 یا800 روپے کسی معذور یا مزدور کو دینا بہتر ہوگا۔
وردِخاص ”یافتاح یارزاقُ یا اللہ ” 80 یا 8 بار پڑھنا بہتر ہوگا۔
1نمبر والوں کے لیے: تبدیلی کا دن، غیرارادی اور غیرمتوقع فیصلے ہوسکتے ہیں۔
2نمبر والوں کے لیے: میل ملاقات کے لیے اہم دن۔
3نمبر والوں کے لیے: گھر میں ہوکے گھر والوں سے دوری کا ماحول بن سکتا ہے۔
4نمبر والوں کے لیے سفر، فطرت، فنونِ لطیفہ۔۔۔ ماضی یہ سلسلے اہم رہیں گے۔
5نمبر والوں کے لیے: کچھ مشکل ہوسکتی ہے، الرٹ رہیں۔
6نمبر والوں کے لیے: مزاج میں تلخی اور تندی کا عنصرغالب ہوسکتا ہے، کول رہیں۔
7نمبر والوں کے لیے: بہتر دن، کوئی نیا پروگرام بن سکتا ہے۔
8نمبر والوں کے لیے: مالی فائدہ ہوسکتا ہے۔
9نمبر والوں کے لیے: بہت اچھا دن، فیملی کے بارے مستقبل کے پلان کے لیے اچھا وقت۔

اتوار2 اگست 2020
حاکم نمبر6
صدقہ: سفید رنگ کی چیزیں یا 13 یا 100 روپے کسی مستحق کو دے سکتے ہیں۔
وردِخاص ”یامعیدُ یا مجیبُ یا اللہ” 13 بار یا اپنے نمبر کے برابر پڑھنا مناسب ہوگا۔
1نمبر والوں کے لیے: بہت اچھا دن، آج آپ کسی پرانے دوست سے ملتے نظر آتے ہیں۔
2نمبر والوں کے لیے: جذباتی تکلیف مل سکتی ہے، لوگوں سے امیدیں کم وابستہ رکھیں۔
3نمبر والوں کے لیے: بہت اچھا دن، ایک نئی توانائی محسوس کریں گے۔
4نمبر والوں کے لیے: کسی سے ملاقات ہوگی جو آپ کو بزنس میں مدد دے گی۔
5نمبر والوں کے لیے: بزنس بڑھے گا، مالی فائدہ ہوگا۔
6نمبر والوں کے لیے: گھر کی خوب صورتی کے لیے ایک اچھا وقت ہے۔
7نمبر والوں کے لیے: کچھ امور ناگوار ہوسکتے ہیں، محتاط رہیں۔
8نمبر والوں کے لیے سفر کا پلان بن سکتا ہے، رابطے بڑھیں گے۔
9نمبر والوں کے لیے: بہت اچھا دن، خوشیاں دینے والا دن ہوسکتا ہے۔

The post روحانی دوست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2CMejWg
via IFTTT

علمِ نجوم کی روشنی میں آپ کا یہ ہفتہ ایکسپریس اردو

برج حمل
سیارہ مریخ،21 مارچ تا20اپریل
27 جولائی کا دن بچوں، محبوب اور تخلیقی امور سے متعلق کچھ پریشانیاں لاسکتا ہے، گھر اور والدہ کے حوالے سے متعلق کچھ چیزیں الجھاسکتی ہیں۔
جمعہ کچھ الجھاؤ کے بعد آسانیاں لاسکتا ہے، ہفتہ اور اتوار آپ کو عملی میدان میں سخت فیصلوں کی ہمت دے گا، آخری دو دن بہت اہم اور اچھے ہیں۔

برج ثور
سیارہ زہرہ،21اپریل تا 20 مئی
چاند کم زور حالت میں رہے گا، ایسا وقت کسی ایسے شخص سے ملاسکتا ہے جو آپ کو سبز باغ دکھا کے لوٹنے کی کوشش کرسکتا ہے، قریبی لوگوں سے تعلقات میں محتاط رہیں، بیرونِ ملک سے متعلقہ امور کو محتاط ہوکے ڈیل کریں۔

برج جوزا
سیارہ عطارد،21مئی تا 21 جون
اس ہفتے پیسے ڈوبنے اور پھر اچانک ملنے کی اطلاعات ہیں۔
کوئی نقصان ہوسکتا ہے لیکن پھر نقصان پورا بھی ہوجائے گا۔
ممکن ہے آپ کی کوئی لاٹری نکل آئے، اہم لوگوں سے ملاقاتیں اور سفرہوسکتے ہیں۔

برج سرطان
سیارہ قمر،22جون تا 23 جولائی
یہ ہفتہ بہت اچھا رہنے کی امید ہے۔
کئی لوگ رشتۂ ازواج میں بندھ جائیں گے، سوموار اور منگل کچھ جذباتی اور مزاج میں تلخی لاسکتے ہیں، جمعہ سے اتوار تک پبلک ڈیلنگ سے امور میں کام یابی اور وقار میں اضافہ نظر آتا ہے،ترقی ہوسکتی ہے۔

برج اسد
سیارہ شمس،24جولائی تا 23 اگست
قریبی مہربانوں کی وجہ سے کافی مسائل پر قابو پالیں گے، آپ کی قوتِ فیصلہ اور توانائی آپ کو ان مسائل سے نکالنے میں مدد دے گی۔ آخری دو دنوں میں خفیہ سازشوں اور سازشین سے محتاط رہیں۔ کوئی خوب پریشان کرسکتا ہے۔

برج سنبلہ
سیارہ عطارد،24 اگست تا 23 ستمبر
اولاد اور شریکِ حیات سے کچھ پریشانی ہوسکتی ہے، ہوسکتا ہے آپ کی بات انہیں سمجھنے میں اور آپ کو انہیں سمجھنے میں مشکل پیش آئے۔ اس ہفتے آپ کو مالی فائدہ ضرور ہوگا، لاٹری یا کوئی اور ایسا ذریعہ جو بنا مشقت کے ہو، ہوسکتا ہے۔

برج میزان
سیارہ زہرہ،24 ستمبر تا 23اکتوبر
آپ کے باس اور سنیئرز کا ستارہ آپ کی حمایت کررہا ہے۔
سوموار اور منگل ممکن ہے کچھ پریشانی اور دل شکستگی کا سامنا ہو۔
لیکن جمعہ اور ہفتہ آپ کو مدد دے گا کہ آپ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلیں۔

برج عقرب
سیارہ پلوٹو،24 اکتوبر تا 22 نومبر
شریکِ حیات سے ان بن ہوسکتی ہے، لیکن آپ کا سیارہ پلوٹو آپ کی سوچ کو گہرائی اور لمبی پلاننگ دے گا، آپ کی سوچ میں پہلے کی نسبت بلوغت زیادہ آرہی ہے۔آپ کے کاموں میں تیزی سے کئی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں اور آپ انہیں جلدی سے سرانجام بھی دیں گے، اچھا ہفتہ!

برج قوس
سیارہ مشتری،23 نومبرتا 22 دسمبر
یہ ہفتہ آپ کے تعلقات کے حلقہ میں وسعت لاسکتا ہے، اس میں اچھے اور برے کی تمیز ضرور کرلیں، اگست کے شروع میں ہی آپ کی مالی پوزیشن بہت اچھی ہورہی ہے۔
پرانا وراثتی معاملہ طے ہوسکتا ہے یا اچانک کہیں سے کوئی رقم آپ کے اکاؤنٹ میں آسکتی ہے۔

برج جدی
سیارہ زحل،23 دسمبر تا 20 جنوری
اولاد اور آپ کے کیریئر کا سیارہ کم زور چل رہا ہے۔
تعلقات میں بگاڑ نظر آرہا ہے، گھر اور بڑے بہن بھائیوں سے متعلق کچھ الجھنیں ہوسکتی ہیں۔ والدہ سے کسی بات پر اختلافِ رائے ہوسکتا ہے۔ صدقہ لازم دیں۔

برج دلو
سیارہ یورنیس،21 جنوری تا 19 فروری
آن لائن یا بیرون ملک سے منسلک بزنس مین یا روحانیت کے مسافروں کے لیے یہ ہفتہ اہم ہوسکتا ہے۔ آپ کے خیالات آپ کے حالات سے کچھ مختلف ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ مسائل جنم لے سکتے ہیں، آخری دنوں میں اپنی صحت کا خیال رکھیں۔
سوموار اور منگل بزنس کے حوالے سے جذباتی ہونے سے گریز کریں۔

برج حوت
سیارہ نیپچون،20 فروری تا 20 مارچ
آپ کے کام اور بزنس میں وسعت پیدا ہوتی نظر آتی ہے، مالی فائدہ ہوسکتا ہے۔
آپ کی توجہ اولاد، محبوب اور تخلیقی کاموں پر فوکس رہے گی۔
ہفتہ اور اتوار آپ کو کوئی خوشی کی خبر دے سکتے ہیں۔

The post علمِ نجوم کی روشنی میں آپ کا یہ ہفتہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/30QafMT
via IFTTT

وہ ’پرائمری اسکول‘ میں ہمارا آخری برس تھا۔۔۔ ایکسپریس اردو

خانہ پُری
ر۔ ط۔ م

پانچویں کلاس میں ہمارے چھے سالہ ’پرائمری اسکول‘ کے دور میں تیسری مرتبہ مس شہلا قیصر ہماری کلاس ٹیچر تھیں۔۔۔ ہمیں بہ خوبی اندازہ تھا کہ یہ دوپہر میں لگنے والے ہمارے پرائمری اسکول میں آخری برس ہے۔۔۔ یہ اتفاق تھا کہ پرائمری اسکول کے آخری برس بھی ہمارا کمرا وہی تھا، جو پورے پانچ برس قبل ہمارا ’کے جی ٹو اے‘ کا کمرا قرار پایا تھا۔۔۔ یعنی کمرا نمبر 10۔ ایک دن کیا ہوا۔۔۔ صبح کی شفٹ کے کچھ اوباش لڑکوں نے دائیں طرف کھلنے والی کھڑکیوں سے باہر کے برآمدے یا آپ اسے اسکول کی گندی گلی کہہ لیں، (اس کے ساتھ اسکول کی چار دیواری تھی، ’بریک‘ میں بچے کھیلتے ہوئے کھڑکیوں سے کود کر وہاں چلے جاتے تھے) وہاں مس شہلا کے نام سے کوئلے سے کوئی نازیبا جملے لکھ دیے۔۔۔!

دراصل اسکول کے برابر میں ہی کوئلے کا ٹال تھا، اس لیے دیوار سے اونچے رکھے ہوئے کوئلے کے ذخیرے سے اکثر کوئلے کے ٹکڑے وہاں آن پڑتے تھے۔۔۔ اب وہ کیا برے کلمات تھے، ہماری تو دیکھنے کی بھی ہمت نہ ہوئی، تاہم کان میں بھی نہ پڑے کہ کیا لکھا تھا۔۔۔ اگر فقط نام بھی لکھ دیا تھا، تو یہ بھی کوئی کم بات تو نہ تھی، بس اس روز اسکول کی اسمبلی کے بعد جب مس شہلا کلاس میں آئیں، تو ان کا پارا بہت بلندیوں کو چھو رہا تھا۔۔۔ اور کھڑکیوں کے پار ’گندی گلی‘ میں اسکول کا بابا یا کوئی صفائی والا پانی کی بالٹی لیے دیوار سے ان فقروں کو مٹا رہا تھا۔۔۔

مس شہلا غصے میں لال پیلی ہو رہی تھیں اور ان کی ساری برہمی کلاس پر نکل رہی تھی کہ یہ آپ ہی لوگ ہوتے ہیں، جو پھر صبح کی شفٹ میں جاتے ہیں، تو پھر ایسی حرکتیں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ان کے اس برہم لیکچر کے دوران بار بار ہمارے ذہن میں یہ بات آتی رہی کہ ان سے کہیں کہ مس، صبح کی بدنام شفٹ کے لفنگے دراصل نئے داخلہ لینے والے لڑکے ہوتے ہیں، دوپہر کی شفٹ والے لڑکے ہر گز ایسے اوباش نہیں نکلتے۔۔۔ لیکن یہ کہہ کیسے سکتے تھے، پرائمری تک کلاس میں تو ہماری آواز ہی نہیں نکلتی تھی۔۔۔

خیر یہ پرائمری اسکول میں الوداعی برس تھا۔۔۔ میں اسے محسوس کر سکتا تھا۔۔۔ وقت سِرکتا رہا اور پھر اسکول کی روایتی ’الوداعی پارٹی‘ کا دن بھی آگیا۔۔۔ لیکن یہ پارٹی پتا نہیں کیوں نہایت ہی سادہ طریقے سے منعقد ہوئی تھی۔۔۔ بس پارٹی کیا تھی ہمارے لیے دوپہر میں ایک کھانے کا اہتمام تھا۔۔۔ یہ ہمارے اسکول کی وہی روایتی پارٹی تھی، جو چوتھی کلاس کی جانب سے پانچویں کلاس کو دی جاتی تھی، اب ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ جب ہم چوتھی میں تھے، تو پانچویں کلاس کو دی جانے والی پارٹی میں شریک نہ ہوئے۔ ہمیں آدھا کلو گلاب جامن لانے کو کہا گیا تھا، پہلے ہمیں بیکری کے جیلی والی ختائیاں بتائی گئی تھیں، مگر وہ مس افشاں نے کچھ ایسے بتائے ’ٹِپکے والے بسکٹ‘ ہمارے کچھ پلے ہی نہ پڑا کہ یہ کیا بلا ہے۔

اس لیے پھر گلاب جامن کہہ دی گئی۔۔۔ ہم اپنے مزاج اور طبیعت سے مجبور ہو کر پارٹی کو خاطر میں نہیں لائے اور اُس روز اسکول سے ہی گُل ہوگئے۔۔۔ اب پانچویں میں بھی مکمل طور پر یہی خیال تھا کہ کیا ان ’فضولیات‘ میں پڑنا۔۔۔ مگر ہوا کچھ یوں کہ یہ پرائمری اسکول کے آخری دنوں میں سے ایک تھا، اور دن تھا جمعہ۔۔۔ ہاں شاید جمعہ ہی۔۔۔ ہمیں ہدایت کی گئی کہ آج الوداعی پارٹی ہوگی، اس لیے جو بچے اسکول سے قریب رہتے ہیں، وہ گھر جائیں اور جلدی سے پارٹی کے لیے کپڑے تبدیل کر آئیں۔۔۔ کچھ بچے آمادہ ہوگئے، مگر ہم چُپکے رہے، تو مس شہلا نے آواز دے کر ہمیں مخاطب کیا تھا کہ آپ کیوں نہیں جا رہے، جائیے، آپ کا گھر قریب ہے۔۔۔ اب فرار کا تو کوئی راستہ تھا ہی نہیں، اس لیے چاروناچار یونیفارم کی جگہ گھر کے کپڑے پہن کے آئے۔۔۔ پرائمری اسکول کے پورے چھے سال پڑھائی میں ہمارا بھرپور ساتھ دینے والا یار، عاطف الرحمن بھی اس ’پارٹی‘ میں ہمارے ساتھ شریک ہوا۔۔۔ جمعہ تھا، تو یاد پڑتا ہے کہ جمعے کی نماز سے نمٹ کر ہم دوبارہ اسکول آگئے، اور جو اسکول سے دور رہنے والے بچے تھے۔

وہ اسکول میں ہی ٹھیرے رہے۔۔۔ پھر ہمارے لیے اسٹیج کے بالکل سامنے پڑنے والی راہ داری، (پانی کے کولروں کے بالکل عقب میں) جہاں ہماری ’فور‘ اور پھر برابر میں ’ٹو‘ کلاس والے کمرے تھے، وہاں ہماری کلاس نے دوپہر کا کھانا کھایا۔۔۔ ہم تو گھر سے باہر کا پانی بھی نہیں پیتے تھے، دل نہیں مانتا تھا، کہ پتا نہیں پانی اور گلاس وغیرہ کیسے کیسے ہوں، لیکن اس بار صورت حال ایسی ہوئی تھی کہ ہمیں ہتھیار ڈالنا پڑے تھے۔۔۔ ہمارے اساتذہ پوری طرح ہماری میزبانی کر رہے تھے۔

’کے جی‘ میں ہمیں پڑھانے والی سادہ سے مزاج کی مس راحت کا روٹیاں لا لا کر ہمیں دینا، مہمانوں کی طرح خاطر مدارت کرنا اور کہنا ’کھاؤ!‘ مجھے خوب یاد ہے۔۔۔! شاید اس وقت تک سب اساتذہ نہیں ٹھیرے تھے اور بچے بھی ہم دو کلاسوں کے ہی تھے۔۔۔ کھانے کے بعد ہم اسی سے جڑی ہوئی دائیں طرف کی راہ داری میں زمین پر اور کچھ اکڑوں بیٹھ گئے تھے، وہیں پھر کچھ دیر کو ہنسنے ہنسانے اور ’ہَلّا گُلا‘ کرنے کا اہتمام کیا گیا۔۔۔ لیکن ہوا کیا کیا تھا یہ بالکل یاد نہیں آرہا، البتہ ایک الگ سی آواز کے مالک ’فورتھ‘ کلاس کے بھوری سی آنکھوں والے لڑکے، کا گانا گانا یاد ہے، جس کا نام مجھے تب بھی شاید معلوم نہیں تھا۔

اس نے اس وقت شاہ رخ خان کی نئی نئی آنے والی فلم ’’دل تو پاگل ہے‘‘ کا مقبول گانا ’بھولی سی صورت آنکھوں میں مستی، دور کھڑی شرمائے۔۔۔!‘ گایا تھا اور پھر اس کی آواز میں ’آئے ہائے۔۔۔!‘ کہنے پر سبھی کے بے ساختہ قہقہے گونج گئے تھے۔۔۔ عموماً یہ لڑکا اسکول کی اسمبلی میں نعتیں پڑھنے لگا تھا اور ہماری کلاس کے ’بی‘ سیکشن والے شاہ نواز کی طرح اس حوالے سے بہت پکا ہو گیا تھا۔۔۔ الوداعی پارٹی میں اس کے گانے پر جب ہم لوگوں کی ہنسی شاید مذاق اڑانے کا رخ اختیار کرنے لگی، تو اس وقت کی ہیڈ مسٹریس نے ہمیں ٹوکا تھا کہ یہ بری بات ہے، وہ آپ کے لیے گانا گا رہا ہے، اور آپ مذاق اڑارہے ہیں۔۔۔! بس الوداعی پارٹی کی کُل یہی یادیں ہمارے ذہن میں باقی ہیں، پھر ہم چَھٹی کلاس میں آگئے، اسکول کی عمارت تو یہی تھا، لیکن شفٹ دوپہر کے بہ جائے صبح کی تھی اور تمام اساتذہ اور عملہ مکمل طور پر الگ تھا۔۔۔ لیکن ’پرائمری اسکول‘ کے ’بَچپنے‘ کا ایک بڑا باب بند ہوگیا۔۔۔

۔۔۔

چائے اور ’چائے پانی‘
فاطمہ بنتِ علی، کراچی

بچپن میں مجھے یہ لگتا تھا کہ جو چیزیں لوگ زیادہ استعمال کرتے ہیں یا پسند کرتے ہیں، وہی ملک کی قومی شناخت بنتی ہے، اس لیے قومی کھیل کرکٹ اور قومی کھانا دال روٹی لگا، لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، تو معلوم ہوا کہ قومی کھیل تو ہاکی اور غیر سرکاری طور پہ قومی سالن نہاری ہے، خیر ہم نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن جب قومی مشروب کا نام پڑھا تو پیروں تلے زمین نکل گئی آسمان ٹوٹ پڑا، جب معلوم ہوا کہ گنّے کا رس قومی مشروب ہے۔

یہ حقیقت ہم جیسوں کو جب پتا چلتی ہوگی دل پہ چُھریاں چلتی ہوںگی، کیوں کہ ہم نے تو ہمیشہ چائے کو ہی قومی مشروب سمجھا، کیوں کہ صبر کے گھونٹ کے بعد یہاں جو گھونٹ سب سے زیادہ پیا جاتا ہے وہ چائے کا ہی ہے۔

اردو زبان میں چائے کا لاحقہ پانی ہے، اسی لیے پاکستان میں چائے اور پانی لازم و ملزوم بھی سمجھے جاتے ہیں، عموماً لوگ کسی کی بے مروتی کا ذکر بہت دکھ بھرے انداز میں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس نے ہمیں چائے پانی تک کا نہیں پوچھا حالانکہ چائے میں پانی بھی شامل ہوتا ہے، اگر صرف چائے کے لیے کہہ دیا جائے تب بھی دکھ اتنا کم نہیں ہوتا۔

لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہے، لیکن ہم کہتے ہیں کہ ہم نے گھر گھر کی چائے پی ہوئی ہے کیوں کہ پہلے جہاں جاتے تھے لوگ اخلاقاً چائے اور مروتاً بسکٹ ضرور پیش کرتے تھے، لیکن اب جب سے کولڈرنک آئی ہے اس نے چائے کی قدروقیمت ہی کم کر دی ہے، ہمیں کولڈرنک دو وجوہات کی بنا پہ اچھی نہیں لگتی ہے، ایک تو اس کے ساتھ کبھی بسکٹ نہیں پیش کیے جاتے عموماً لوگ اسے مکمل ناشتا سمجھ لیتے ہیں اور دوسرا یہ کہ بسکٹ کو کولڈرنک میں ڈبو کر نہیں کھایا جا سکتا۔۔۔

ہمارے گھروں میں چائے پانی ایک مشروب کے طور پر لیا جاتا ہے، لیکن سرکاری دفاتر میں یہ ایک اصطلاح کے طور پہ رائج ہے، بلکہ اس اصطلاح کو تنخواہ کے برابر عزت دی جاتی ہے بلکہ کہیں کہیں اس کی عزت تنخواہ سے بھی زیادہ ہے، اسی لیے ہر اچھے برے کام کو جلد کرانے میں بے حد معاون ثابت ہوتی ہے۔۔۔

لیکن پتا نہیں کیوں شعرا حضرات کو چائے جیسا اہم مشروب پسند نہیں ہے، کیوں کہ ہم نے بڑے سے بڑے شاعر کے دیوان کے دیوان کھنگال لیے ہمیں چائے پہ شراب کے مقابلے میں کم کلام ملا، حالاں کہ چائے کی تاریخ سینکڑوں سال پرانی ہے، یقیناً شعرا حضرات چائے سے زیادہ تلخ مشروب پینا پسند کرتے ہیں، اسی لیے جا بجا چائے نوشی کے بہ جائے ’مے‘ اور ’نوشی‘ اور ’مے نوشی‘ پر بڑے بڑے شعرا کے کلام ملتے ہیں۔

شاید چائے صرف جسمانی محنت کرنے والوں کا مشروب ہے، کیونکہ چائے پینے سے لوگ چاق و چوبند ہو جاتے ہیں، اپنا کام بہتر انداز میں کرنے لگتے ہیں، لیکن شعرا حضرات کے لیے چائے ان کی ذہنی صحت اور شاعری دونوں کے لیے موزوں ترین مشروب نہیں ہے، بلکہ نقصان دہ ہے اسی لیے نہ چائے پیتے ہیں اور نہ اس پہ لکھتے ہیں۔

ریاض خیر آبادی نے شراب پر بہت بہترین غزلیں لکھیں، لیکن ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے کبھی ’مے نوشی‘ نہیں کی، بلکہ ہاتھ تک نہیں لگایا لیکن ان کے کلام میں مے نوشی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے جس سے پڑھ کر ہمیشہ یہی تاثر ملتا ہے کہ شاعری کی بنیاد تجربہ ہے، لیکن درحقیقت شاعری کی بنیاد صرف مشاہدہ ہی ہوگا۔

ہم بھی کسی ایسے ہی شاعر کی تلاش میں ہیں، جس سے بھلے زندگی بھر چائے نہ پینے کا گناہ سرزد ہوگیا ہو، لیکن کم ازکم ریاض خیرآبادی کی پیروی کرتے ہوئے چار چھ غزلیں چائے پہ ہی لکھ دیں، کیوں کہ اگر ہم نے چائے پر کوئی غزل یا نظم لکھ دی تو لوگ کہیں چائے پینا ہی نہ چھوڑ دیں۔

ہمارے نزدیک شعرا کی چائے کی بے رغبتی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں کہ ایک تو یہ گرم ملتی ہے اور دوسری یہ کہ بوتلوں میں بند نہیں ملتی ہے پھر چائے ٹھنڈی ہو جانے کے بعد اپنا رنگ ذائقہ اور خوش بو سب کھو دیتی ہے اور چائے کو کوٹ کی جیب میں بھی نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ اس لیے آمدورفت میں خلل پڑنے کے باعث چائے کبھی بھی پہلی ترجیح نہیں رہی ہوگی۔

چوں کہ چائے عوام الناس میں بہت مقبول ہے اسی لیے چائے کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر وہ افراد جن کا شاعری سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ان کے بھی اشعار چائے سے متعلق پڑھنے کو ملتے ہیں، لیکن ان اشعار کو پڑھنے سے زیادہ اچھا یہ ہوتا کہ وہ لکھے ہی نہیں جاتے۔

ہمارے یہاں چائے نہ صرف ہر موسم میں مقبول ہے بلکہ کئی بیماریوں کا حل صرف ایک پیالی چائے میں پوشیدہ ہے، اگر تھکن محسوس ہو رہی ہے، تو چائے پی لو۔ گلا خراب ہے تو چائے میں نمک ڈال کر نوش کرلو، نیند کو بھگانا ہے تو چائے، سر میں درد ہو تو چائے، اسی لیے دفتر سے واپسی پہ حضرات کو گھر میں سب سے پہلے چائے ہی پیش کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سر درد نہیں ہوتا ہے بلکہ وجہ دردِ سر ہوتی ہے، جسے عرف عام میں بیوی کہا جاتا ہے، وہ احتیاطی تدابیر کے طور پہ پہلے ہی چائے پلا دیتی ہے کہ سر میں درد ہو ہی نہیں۔

لیکن اس دنیا میں ابھی بھی کچھ عجیب و عجیب افراد موجود ہیں جو کسی قسم کی بھی نوشی بالخصوص چائے نوشی سے کوئی رغبت ہی نہیں رکھتے۔۔۔ ایسے افراد کا تو الگ سے حساب ہونا چاہیے کہ وہ کفران نعمت کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کے لیے ان کے گھر والے دوست احباب سب قصور وار ہیں جن کی سنگت میں بھی وہ اس سنگین جرم کے مرتکب ہوئے، ویسے چائے نہ پینے والوں کے یہ سزا بھی کم ہے کیا کہ وہ چائے نہیں پیتے !۔

۔۔۔

ہندوستان کا صدیوں سے الگ تھلگ قبیلہ
امجد محمود چشتی، میاں چنوں

سائنس اور ٹیکنالوجی کی معراج اور انسانی ترقی کے باعث دنیا ’گلوبل ویلیج‘ بن گئی ہے، مگر آج بھی دنیا میں کئی قبائل، شہروں اور آبادیوں سے الگ تھلگ آباد ہیں اور ان کا دنیا سے کوئی واسطہ نہیں۔ ایسا ہی ایک قبیلہ بھارت میں جزائر انڈیمان اور نکوبار کے ساتھ ’’ sentinel island‘‘ میں آباد ہے۔ مورخین کے مطابق سولہ ہزار سال قبل یہ لوگ افریقا سے یہاں آئے اور اب تک ’قرنطینہ‘ کی زندگی بسر کر رہے ہیں، جب کہ بعض اسے 60 ہزار سال قدیم قبیلہ بھی قرار دیتے ہیں۔ اس قبیلے کا ذکر مشہور سیاح مارکو پولو نے بھی کیا ہے۔ جزیرے کا رقبہ ساٹھ مربع کلومیٹر اور آبادی بمشکل دو تین سو افراد پر مشتمل ہے۔

کئی بار حکومتوں، تنظیموں، سیاحوں اور عوام کی جانب سے قبیلے کے لوگوں سے رابطے اور معلومات کی کوششیں کی گئیں، مگر ہر بار ہی تیروں اور نیزوں سے جواب ملا، کیوں کہ وہ لوگ انسانوں سے خائف ہیں اور دنیا سے قطعاََ رابطہ نہیں چاہتے۔ آزادی سے قبل کمپنی سرکار نے جزیرے میں مداخلت کی اور یہاں چار بچے اور دو مرد بھی اٹھا لائی، جب کہ باقی لوگ جھونپڑیاں چھوڑ کر جنگل میں چھپ گئے۔ دو دن میں دونوں مرد مر گئے تو بچوں کو واپس وہیں چھوڑ دیا گیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق وہ لوگ ہزاروں برس سے الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے ہماری آبادیوں میں نہیں رہ سکتے۔ ان کا اپنا طرزِحیات اور بہت محدود قوت ِ مدافعت ہے، پھر ایک عیسائی مبلغ نے جزیرے میں جانے کی کوشش کی، جسے جنگلی باشندوں نے پکڑ کر ہلاک کر دیا۔ تاہم انہوں نے بلا وجہ کسی شخص یا کسی آبادی کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا ۔ وہ صرف اپنا دفاع کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ 1990ء کی دہائی میں وہاں جا کر قبیلے سے رابطوں پر پابندی لگا دی گئی، پھر بھی دور ساحل سے سیاح دوستانہ رابطوں کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اکثر وہاں جا کر پھل اور تحائف پھینک آتے ہیں، جنہیں وہ لوگ جنگل سے نکل کر اٹھا تے، ناچتے اور ننگ دھڑنگ بھاگتے دیکھے جاتے ہیں۔

ان لوگوں کی زبان، رسومات، لباس اور مذہب کا کچھ علم نہیں ہو سکا۔ صرف ایک بار 20 سال پہلے مدھومالا خاتون نے حیرت انگیز طور پر اس جزیرے کے لوگوں سے کام یاب دوستانہ رابطہ کیا اور کافی دیر جنگل میں رہی اور بہت سا سامان بھی انہیں دیا۔ تاہم بعد ازاں وہ لوگ ایسے رابطوں پر آمادہ نہ ہوئے، حتٰی کہ نیشنل جیوگرافک جیسے چینل بھی اس جنگل کے اندر جانے میں کام یاب نہیں ہوئے۔ ہمارے نزدیک وہ جنگلی، پس ماندہ اور وحشیانہ زندگی گزار رہے ہیں، مگر وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں۔

The post وہ ’پرائمری اسکول‘ میں ہمارا آخری برس تھا۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jzZCq5
via IFTTT