Monday, March 29, 2021
کرکٹ میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا ایکسپریس اردو
میں نے ایک بار کرکٹ کی ایک بڑی شخصیت سے پوچھا کہ آپ اپنی سوانح عمری کیوں نہیں لکھتے بڑی ہٹ ہو گی۔
جواب میں مسکراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’دل تو بہت چاہتا ہے مگرسچ لکھنے کی ہمت نہیں ہوتی کیونکہ میرے 90 فیصد دوست ناراض ہو جائیں گے،جھوٹ لکھوں گا تو دل مطمئن نہیں ہوگا‘‘ میں نے تجسس سے پوچھا کہ دوست کے بارے میں سچ لکھیں گے تو بھلا وہ کیوں ناراض ہوگا،ظاہر ہے اچھی بات ہی ہوگی، اس پر انھوں نے تاریخی جملہ کہا کہ ’’کرکٹ میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا‘‘
میں بہت دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ بات درست ہے،پھر خود ہی اپنے آپ کو جواب دیتا ہوں کہ ہاں ٹھیک ہی ہوگا، جاوید میانداد اور عمران خان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دونوں بڑے دوست تھے لیکن کیا ایسا کہنا سچ ہوگا؟ وسیم اکرم اور وقار یونس کی رقابت کے ساتھ یہ بھی مشہور تھا کہ آف دی فیلڈ بڑی دوستی ہے لیکن قریبی لوگ اسے درست نہیں مانتے، ٹیمپرنگ، چرس پیتے ہوئے پکڑے جانے، فکسنگ سمیت پاکستان کرکٹ میں جتنے بڑے اسکینڈلز سامنے آئے وہ سب پلیئرز کے ’’دوستوں‘‘ نے ہی افشا کیے، سب ایک دوسرے کا فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔
جہاں کام نکلا دوستی ختم،میڈیا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے،صحافی خوب استعمال ہوتے ہیں، سوشل میڈیا آنے سے قبل کرکٹرز کو ان کی ضرورت تھی، مگر پھر وہ خود ایک ٹویٹ کر کے اپنے مداحوں کو اہم معاملات سے آگاہ کردیتے ہیں، مجھے چند برس قبل ایک رپورٹر نے بڑے فخر سے بتایا تھاکہ فلاں بیٹسمین سے میری بڑی دوستی ہے، وہ بہت باصلاحیت ہے اور ایک دن پاکستان کی نمائندگی کرے گا، بعد میں ایسا ہی ہوا،اب وہی صحافی کہتا ہے کہ ’’مذکورہ کرکٹر پہلے تو لطیفے تک واٹس ایپ کرتا تھا اب تو فون کا جواب بھی نہیں دیتا‘‘ میرا اس کو یہی کہنا تھا کہ اب اسے آپ کی ضرورت نہیں رہی، جب کام پڑے گا تو خود رابطہ کرے گا،پھر یہی ہوا وہ کھلاڑی جب قومی ٹیم کا حصہ نہ رہا تو مذکورہ رپورٹر کو فون کر کے سپورٹ کرنے کو کہا،اس نے مجھے جب یہ بات بتائی تو میں صرف مسکرا ہی سکا۔
نئے کھلاڑی میڈیا کی مدد سے منظرعام پر آتے ہیں مگر قومی ٹیم میں شامل ہو کر ’’بورڈ کی ہدایات‘‘ یاد آ جاتی ہیں اور میڈیا بْرا لگنے لگتا ہے،سابق کرکٹرز کی بھی یہی مثال ہے، وہ آپ کے بہت قریب رہیں گے، تیزو تند باتیں کر کے بورڈ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہوگی پھر جب ایسا ہوجائے تو رابطہ ختم، شکوے پر کہا جاتا ہے کہ پی سی بی نے میڈیا سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے، ان سے پوچھو کہ بھائی نوکری ملنے سے پہلے تو ایسا نہیں تھا، میں ایسے بہت سے کرکٹرز کو جانتا ہوں، انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ بْرے وقت میں ہی لوگوں کو یاد کرتا ہے، جب ٹائم اچھا ہو تو کوئی نظر نہیں آتا، دوستی کا دم بھرنے والے کرکٹرز ایک دوسرے کے بارے میں کیا باتیں کرتے ہیں بتائی نہیں جا سکتیں لیکن وہی لوگ ساتھ بیٹھ کر کھانے کھاتے ہیں، گھومتے پھرتے بھی ہیں۔
میں میڈیا کے بعض لوگوں کے بارے میں یہ کہتا تھا کہ تین لوگ ساتھ بیٹھیں ایک اٹھ کر کسی کام سے جائے تو باقی دو اس کی برائیاں کرنے لگیں گے، پہلا واپس آئے اور دوسرا کہیں جائے تو دیگر دو اس کی خامیاں بیان کریں گے، ایسا کرکٹرز کے ساتھ بھی ہے، میں نے خود کئی بار اس کا مشاہدہ کیا، آپ کسی کھلاڑی سے پوچھیں کہ آپ کا سب سے قریبی دوست کون ہے تو وہ جو نام لے گا اس کا پتہ کاٹنے کیلیے وہ کیا کچھ کرنے کو تیار ہوگا ہم سوچ بھی نہیں سکتے، مجھ سے ماضی میں ایک کرکٹر کے غیرمعروف کوچ نے کہا تھا کہ ’’اس کے پاس جوتے تک نہیں ہوتے تھے میں نے دلائے، دن رات اس کی کوچنگ کی،مگر اسٹار بن کر وہ پاکستانی ٹیم کے کوچز کو کریڈٹ دیتا ہے۔
میرا ذکر ہی نہیں کرتا‘‘ بات دراصل یہ ہے کہ وہ غریب کوچ اس کے اب کس کام کا رہا جو نام لے، اب جن کوچز کے ذکر سے فائدہ ہوگا انہی کی مالا جپنی ہے، ایک بار ایک کھلاڑی ٹیم کے کوچ کی بڑی برائی کر رہا تھا بعد میں جب اس نے پرفارم کیا تو انٹرویو میں انہی کا نام لے کر کہا کہ ’’فلاں بھائی کے مشوروں سے میں نے ایسا پرفارم کیا‘‘ میری جب اس سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ آپ تو اس دن بڑی برائیاں کر رہے تھے کہ انھیں کوچنگ کی سی تک کا نہیں پتا مگر کریڈٹ ان کو ہی دے دیا،جواب میں مذکورہ کھلاڑی کا کہنا تھا کہ ’’کیا کریں دوست ٹیم میں بھی تو رہنا ہے‘‘ میں اکثر کہتا ہوں کہ قذافی اسٹیڈیم کا پانی چیک کرانا چاہیے وہاں جانے والا خود کو آسمان میں اڑتا محسوس کرنے لگتا ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا،مگر میں نے بورڈ کے ہی بعض ملازمین کومشکل میں پڑنے پر لوگوں کی منتیں کرتے بھی دیکھا، اگر باسز سے آپ کے تعلقات اچھے ہیں تو وہ قریب رہیں گے ورنہ دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔
ایک بار میں نے اپنے ایک استاد سے شکوہ کیا تھا کہ فلاں کیلیے میں نے اتنا کچھ کیا وہ اب پوچھتا بھی نہیں ہے اس پر ان کا جواب تھا کہ ’’بعض لوگ ایسا ہی تمہارے بارے میں بھی کہتے ہوں گے، اس دنیا میں یہی ہوتا ہے، لوگ مطلب سے تعلق رکھتے ہیں،سب ایک دوسرے کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔
کوشش کرو کہ کسی سے استعمال نہ ہو‘‘ اس وقت تو میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تھی لیکن پھر جب سمجھ گیا توکوشش ہوتی تھی کہ کسی کا آلہ کار نہ بنوں، منافقت ہمارے معاشرے کا اہم حصہ بن چکی ہے، کرکٹرز اور صحافی بھی اسی کا حصہ ہیں تو ان پر بھی اثر تو آئے گا، ہمیں یہی کوشش کرنی چاہیے کہ خود کو ایسی منفی چیزوں سے دور رکھیں،البتہ شاید ایسا ہو نہ سکے کیونکہ اس صورت میں آپ اپنے دوستوں کی بڑی تعداد سے محروم ہو سکتے ہیں، اس لیے استعمال ہوں اور کریں شاید یہی اب کا دستور زمانہ ہے۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
The post کرکٹ میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PiJTBl
via IFTTT
ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ، پاکستانی دباؤ پر بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے ایکسپریس اردو
کراچی / لاہور: پاکستانی دباؤ پر بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے جب کہ ٹی20ورلڈ کپ کیلیے پاکستانی ٹیم، آفیشلز، میڈیا اور شائقین کو ویزوں کے اجرا سے متعلق حکومتی ضمانت سے آئی سی سی کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
آئی سی سی بورڈ کا2 روزہ ورچوئل اجلاس 31 مارچ اور یکم اپریل کو ہوگا جس میں پاکستان کی نمائندگی احسان مانی کریں گے، ذرائع کے مطابق اس موقع پر بھارتی کرکٹ بورڈ حکام اکتوبر نومبر میں اپنے ملک میں ہونے والے ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کیلیے سیکیورٹی، ویزہ، حکومتی اجازت نامہ سمیت دیگر اہم معاملات پر پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔
پی سی بی پہلے ہی آئی سی سی پر واضح کرچکاکہ پاکستانی ٹیم صرف اسی صورت میں بھارت جاکر کھیلے گی جب کھلاڑیوں، آفیشلز، میڈیا اور فینز کو بھارت ویزے اور سکیورٹی فراہم کرنے کی تحریری یقین دہانی کرائے گا۔ بصورت دیگر یواے ای میں میگا ایونٹ کرانے کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، البتہ اب بی سی سی آئی دباؤ میں آ چکا اور ضمانت دینے کو تیار ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی بورڈ اپنی حکومت سے پاکستان سے آنے والوں کو ویزے سمیت سیکیورٹی دینے کی گارنٹی اور اجازت حاصل کرچکا ہے، بورڈ اجلاس میں باقاعدہ اعلان کرے گا۔
دوسری جانب آئی سی سی بورڈ میٹنگزگذشتہ5 روز سے جاری ہیں، اس دوران فنانس، ایچ آراور لیگل کے اجلاس ہوچکے ہیں۔ چیف ایگزیکٹوزکی میٹنگ بھی مکمل ہوچکی،ان میں ہونے والی پیش رفت پر مشاورت اور اہم فیصلوں کی منظوری بورڈ اجلاس میں دی جائے گی۔
ادھر چیف ایگزیکٹیوز میٹنگ میں کورونا وائرس کی وجہ سے اٹھائے گئے اقدامات کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے، رواں برس جولائی کے وسط تک مقامی امپائرز ہوم سیریز میں ذمہ داری انجام دیتے رہیں گے۔
آئی سی سی کرکٹ کمیٹی نے رواں ماہ کے شروع میں ہونے والے اجلاس میں میچ آفیشلز کیلیے ہائی برڈ ماڈل کی منظوری دی تھی جس کے تحت صرف ان ممالک میں 3 مقامی آفیشلزکے ساتھ ایک نیوٹرل امپائرکا تقررکیا جائے گا، جہاں پر دیگر ممالک سے آفیشلز بغیر قرنطینہ کی شرط کے آسانی سے جا سکیں۔
چیف ایگزیکٹیوز کمیٹی کی جانب سے آئی سی سی بورڈ کو حتمی منظوری کیلیے جو سفارشات بھیجی گئی ہیں، ان کے مطابق 18 سے 22 جون تک ساؤتھمپٹن میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان شیڈول ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل میں نیوٹرل امپائرزکا تقرر ہوگا،چونکہ یہ میچ انگلینڈ میں ہونا ہے اس لیے وہاں سے تعلق رکھنے والے کرس براڈ ممکنہ طور پر میچ ریفری ہوں گے،ان کے ساتھ ہم وطن رچرڈ کیٹل برو، مائیکل گف اور رچرڈ النگورتھ ذمہ داری انجام دیں گے، یہ تینوں انگلش امپائرز آئی سی سی کے 12 رکنی الیٹ پینل میں شامل ہیں۔
گزشتہ برس جون میں کونسل نے کورونا وائرس کی وجہ سے سفری مشکلات کے باعث نیوٹرل کی جگہ مقامی آفیشلز کے تقرر کی منظوری دی تھی،گیند چمکانے کیلیے تھوک کے استعمال پر پابندی بھی برقرار رہے گی۔
کرکٹ کمیٹی نے اپنی حالیہ میٹنگ میں امپائر سافٹ کال کو برقرار رکھنے کی سفارش دی تھی، بھارت کی جانب سے اس معاملے کو دوبارہ زیر غور لانے کا مطالبہ بھی کیا گیا،آئی سی سی چیف ایگزیکٹیوزنے کرکٹ کمیٹی کی جانب سے ’سافٹ کال‘ کے معاملے کو پلیئرز، شائقین سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کیلیے عام فہم بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔
The post ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ، پاکستانی دباؤ پر بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39IzpT1
via IFTTT
بھارتی کرکٹ ٹیم ڈراپ کیچز کی وجہ سے مذاق کا نشانہ بننے لگی ایکسپریس اردو
پونے: بھارتی ٹیم ڈراپ کیچز کی وجہ سے مذاق کا نشانہ بننے لگی۔
انگلینڈ سے تیسرے ون ڈے میں بھی اگرچہ اس نے 7 رنز سے فتح سمیٹ کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی، البتہ اس دوران 4 کیچز ڈراپ کیے، ان میں سے 2 چانسز تو ہردیک پانڈیا نے ہی ضائع کردیے۔
اہم مواقع پر جب شردل ٹھاکر نے مارک ووڈ اور ناٹاراجن نے سیم کرن کا کیچ ڈراپ کیا تو انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے ٹویٹ کیا کہ ’مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے بھارتی ٹیم کیلیے اپنی فیلڈنگ اکیڈمی رواں ہفتے دوبارہ نہ کھولنی پڑ جائے‘۔
دوسری جانب بین اسٹوکس کا کیچ تھامنے پر ہردیک پانڈیا نے شیکھر دھون کا نیچے جھک کر شکریہ ادا کیا، اسٹوکس 15 رنز پر بیٹنگ کررہے تھے جب پانڈیا نے ان کا کیچ ڈراپ کیا، انگلش بیٹسمین کا زیادہ خطرناک ہونے سے قبل ہی شیکھر دھون نے کیچ تھام لیاجس پر پانڈیا نے سکھ کا سانس لیا۔
The post بھارتی کرکٹ ٹیم ڈراپ کیچز کی وجہ سے مذاق کا نشانہ بننے لگی appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3u8naa6
via IFTTT