Tuesday, April 5, 2022

جنگِ عظیم دوم سے تعلق رکھنے والی دنیا کی پہلی وائرل میم ایکسپریس اردو

چاک یا کریون سے بنائی گئی ایک تصویر جس میں ایک گنجا آدمی جس کی بڑی سے گول ناک دیوار سے لٹک رہی ہے اور نیچے لکھا ہوا ہے kilroy was here (کلروئے یہاں تھا)، دنیا کی پہلی وائرل میم ہے۔

اگرچہ اس میم کی ابتدا دوسری جنگ عظیم میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں نہیں ہوئی لیکن یہ ان کے ساتھ منسلک ضرور تھی۔ یہ میم جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ایک عرصے تک مقبول رہی۔

یہ چھوٹی سی ڈرائینگ عوامی سطح پر مذاق بن گئی۔ شہری دور دراز، غیر واضح مقامات پر “Kilroy was here” کی میم بنانے کا مقابلہ کرنے لگے یہاں تک کہ امریکا کے مجسمہ آزادی کی مشعل پر، پیرس میں آرک ڈی ٹرومف، چین میں مارکو پولو پُل، نیویارک کے جارج واشنگٹن پل اور ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کے پیٹ پر تک اس میم کو بنایا گیا۔

کلروئے نام J.J Kilroy سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے جو میساچوسٹس، امریکا میں بیتھلیھم اسٹیل بحری جہاز ساز کمپنی میں ویلڈنگ انسپیکٹر تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق کلروئے کے ساتھی کارکنان اُس سے اس بات پر تنگ تھے کہ یہ اُن کے کام کا معائنہ نہیں کرتا تھا جس پر کِلروئے نے تنگ آکر معمول کے مطابق چاک سے نشان لگانے کے بجائے جہازوں کے پارٹس پر Kilroy was here لکھنا اور اس کے اوپر ایک لمبی ناک والا گنجا آدمی بنانا شروع کردیا۔

جب یہ بحری جہاز دنیا بھر کی بندرگاہوں پر جاتے تو جنگی ارکان جب سیل بند کمپارٹمنٹس کو کھولتے تو انہیں یہ ڈرائنگ بنی ملتی۔

The post جنگِ عظیم دوم سے تعلق رکھنے والی دنیا کی پہلی وائرل میم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/xhFZkV8
via IFTTT

No comments:

Post a Comment