Saturday, January 30, 2021

گھٹتا بڑھتاچاند،آپ کی نیند پر اثر انداز ہوسکتا ہے ایکسپریس اردو

سیاٹل، امریکہ: سائنس نے گھٹتے بڑھتے چاند اور انسانی نیند پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور اس ضمن میں لاکھوں افراد کا سروے کیا ہے۔

ایک نئے تحقیقی مقالے سے معلوم ہوا ہے کہ ہماری نیند کا دورانیہ چاند کے ساڑھے 29 دن کے اتارچڑھاؤ کا اثرلیتا ہے۔ ایک بات معلوم ہوا ہے کہ پورے چاند سے قبل کے دو تین روز پہلے لوگ دیرمیں سوتے ہیں اور ان کی نیند کا دورانیہ بھی مختصر ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خواہ لوگ دیہات میں رہیں یا پھر شہروں کے باسی ہوں یا ارجنٹینا کے نیم خواندہ قبائلی ہی کیوں نہ ہوں، چاند ہر ایک کی نیند پر اثرانداز ہوتا ہے۔ خواہ کسی علاقے میں بجلی ہو یا نہیں، تب بھی چاند کے آثار نیند کو متاثر کرتےہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ ہماری اندرونی جسمانی گھڑی (سرکارڈیئن ردم) کا تعلق چاند کے اتار چڑھاؤ سے ہوسکتا ہے۔  یونیورسٹی آف واشنگٹن میں حیاتیات کے پروفیسر ہوراشیو ڈی لا اگلیشیا کہتے ہیں کہ بجلی سے محروم تاریک علاقوں میں یہ اثر بہت زیادہ دیکھا گیا ہے۔ لیکن جدید ترقی یافتہ شہروں میں بھی چاند کا یہ اثر دیکھا گیا ہے۔ ان میں جامعہ واشنگٹن کے طلباوطالبات بھی شامل ہیں۔

اس ضمن میں ارجنٹینا میں رات کو روشنی سے محروم 98 قبائلیوں کی کلائی پر نیند کے مانیٹر پہنائے گئے ۔ دوسری جگہ کم روشنی والے علاقے کے لوگوں کا انتخاب کیا اور اس کے بعد تیسرے گروہ کا انتخاب کیا گیا جو سیاٹل شہر کے رہائشی تھے۔

ماہرین نے دیکھا کہ چاند کے اتار چڑھاؤ والے پورے قمری مہینے میں شرکا کی نیند میں 46 سے 58 منٹ کا فرق واقع ہوا۔ اسی طرح بستر پر جانے کے وقت میں نصف گھنٹے کا فرق دیکھا گیا۔ لیکن پورے چاند سے تین سے پانچ روز قبل تھے تقریباً تمام شرکا نے سب سے کم نیند لی۔

لیکن جب 98 قبائلیوں اور سیاٹل شہر کے 464 افراد کا ڈیٹا ملایا گیا تو حیرت انگیز طور پر یکساں تھا یعنی ان کی نیند میں کمی بیشی کا دورانیہ یکساں اور پورے چاند سے قبل کچھ راتوں کی خوابی تبدیلی بہت حد تک ایک جیسی تھی۔

اگرچہ نیند اور چاند کے ادوار پر خاصی بحث ہوچکی ہے لیکن واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ اس کے ٹھوس ثبوت پیش کردیئے ہیں۔

The post گھٹتا بڑھتاچاند،آپ کی نیند پر اثر انداز ہوسکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36qY7FN
via IFTTT

No comments:

Post a Comment