Friday, May 31, 2019

پھول، تتلیاں اور لائبریری ایکسپریس اردو

کتابیں، پھول، خوشبو اور محبت ساتھ رکھتا ہوں
جہاں جاؤں میں اپنی ہر ضرورت ساتھ رکھتا ہوں

پھولوں اور تتلیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، مگر کہتے ہیں کہ استاد پھولوں کی طرح اور بچے تتلیوں کی مانند ہوتے ہیں اور جب انہیں نشانہ بنایا جانے لگے تو سمجھ جائیں کہ اب تتلیوں سے کسی کو پیار نہیں رہا۔ پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ کو قتل کردیا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب آپ کو باغ تباہ کرنا ہو تو اس میں گندگی کے ڈھیر لگا دیجیے۔ گندگی پھیلے گی تو پھول غائب ہوجائیں گے اور جب پھول نہیں کھلیں گے تو تتلیاں تو دور، وہاں انسان بھی آنا چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح جب کسی معاشرے کو تباہ کرنا ہو تو سب سے پہلے اس سے استاد چھین لو، معاشرہ خودبخود ختم ہوجائے گا۔

پاکستانی معاشرے میں دہشت گردی کے عفریت کا پہلا نشانہ معصوم لوگ تھے، ان کے دل کی پیاس نہ بجھی تو انہوں نے اسکولوں کو تباہ کرنا شروع کردیا۔ تعلیم کے یہ دریچے بند ہونا شروع ہوئے تو اس روشنی سے ہماری نئی نسل محروم ہوگئی۔ ہمارے معاشرے میں تباہی کا پہلا پتھر پھینک دیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ جب دریچے بند ہوجائیں تو اندھیرے کسی ڈراؤنے خواب کی طرح آسیب بن کر خیالات پر چھا جاتے ہیں۔ اندھیرا، وحشت اور بربریت کے ایسے دریچوں کا کھولتا ہے جن کا پہلا قدم تو ہوتا ہے مگر آخری نہیں؛ اور یوں معاشرے میں آگے بڑھنے کی جستجو ماند پڑنے لگتی ہے، معاشرہ خود کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتا ہے یا ردعمل میں دوسروں کی جانیں لینا شروع کردیتا ہے۔ یوں معاشرے کی بنیادی اکائی میں رہنے والے لوگوں کے پاس واحد حل نقل مکانی رہ جاتی ہے۔ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ویران راہوں کے راہی ہوجاتے ہیں اور اپنی جنت خود بنانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا پھر سوات میں یہی ہوا، قبائلی علاقے کے وہ لوگ جو بربریت کی راہوں پر چلے، انہوں نے سوات جیسی پرامن وادی کا دامن خون سے بھر دیا، قہقہے سسکیوں اور خوشیاں آہوں میں بدل گئیں۔

آپ کو معلوم ہے کہ وہ قبائلی علاقے جہاں فوج اور پولیس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، جہاں لوگ ہتھیاروں کو زیور سمجھتے تھے اور اس سے زندگیوں کو اندھیر نہیں کرتے تھے بلکہ ایک عورت کی مالا کی طرح روایتاً کندھے پر سجاتے تھے۔ مگر پھر کیا ہوا، انہی پرامن لوگوں نے اس زیور کے زور پر معصوم ہاتھوں سے قلم چھین کر بم پکڑا دیئے، معلم کے بجائے خود کش بمبار استاد، اسکولوں کے بجائے جہادی ٹریننگ کیمپ اور لائبریریوں کی جگہ جہادی ریڈیو اسٹیشنز بنا لیے اور یوں چہار سو بربریت کے ایسے ہولناک واقعات دیکھنے میں آئے کہ آہوں اور سسکیوں کی آوازیں گلے میں پھنس کر رہ گئیں۔ نہ کوئی امید دلانے والا تھا اور نہ کوئی راہ دکھانے والا۔ دنیا پر رحمت اللعالمین بنا کر بھیجے جانے والے نبیﷺ کی امت کے رکھوالے خون کے پیاسے ہوئے تو سب کچھ بھلا دیا۔

وہ یہ بھی بھول گئے کہ فتح مکہ کے دن جب سب لوگوں کو بارگاہ نبویﷺ میں پیش کیا گیا تو چھوٹے موٹے جرائم والوں کو معاف کردیا گیا۔ آزادی کے ساتھ ساتھ زیادہ تر کو اسلام کی نعمت ملی تو پڑھے لکھوں کو حکم دیا گیا کہ ہمارے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرو، یہی تمہارا خراج ہے اور یہی تمہاری سزا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ قیدیوں سے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے والوں نے بغداد میں سب سے بڑی لائبریری بنائی، دنیا کی تمام کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جن علوم کو آج جدید سائنس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، ان کے بنیادی اصول مسلمانوں نے وضع کیے جو آج کولمبیا، آکسفورڈ، کیمبرج، ایم آئی ٹی اور دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔

انگریزوں نے انہی ترجموں سے اس ترقی کی بنیاد رکھی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں، تحقیق کو اپنا اوڑنا بچھونا بنایا جس کے بعد جدید علوم ان کی باندیاں ہیں۔ مگر اس کےلیے کتابوں کے ذخیرے یعنی لائبریریوں کی بنیاد بھی مسلمانوں نے رکھی۔ بڑی بڑی لائبریریاں بنائیں اور اس کے بعد سائنس اور اسلام کا چولی دامن کا وہ ساتھ شروع ہوا جو 500 سالہ حکومت میں نت نئی ایجادات اور تحقیقات کا موجب بنا۔ لیکن چولی دامن کے اسی ساتھ کو فراق میں بدلنے میں غیروں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔

اندلس کے شہر قرطبہ میں مدینۃ الزہرہ میں دوسرے خلیفہ الحکم ثانی ابن عبدالرحمان کی ذاتی لائبریری میں کم و بیش 6 لاکھ کتابیں تھیں، اس لائبریری کی فہرست یا کیٹلاگ 44 جلدوں پر مشتمل تھی۔ مگراس عظیم خزانے کو 976 عیسوی میں المنصور ابن ابی عامر نے جلا ڈالا۔ 1029 عیسوی میں سلطان محمود غزنوی نے ’’رے‘‘ کی لائبریری یہ کہہ کر نذرِ آتش کردی کہ یہاں متضاد شر انگیز کتابیں ہیں۔ نیشا پور کی لائبریری کو ترکوں نے 1154 میں، نالندہ یونیورسٹی لائبریری کو بختیار خلجی نے 1193 میں جلا کر اپنے سینوں کی آگ ٹھنڈی کی۔

جب دوسری قوموں نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی وہی ترکیب استعمال کی اور قسطنطنیہ کی امپیریل لائبریری کو صلیبیوں نے 1204 میں جلا کر راکھ کر دیا۔ بغداد کی سب سے بڑی لائبریری دارالحکمۃ (ہاؤس آف وزڈم) کو ہلاکو خان کی فوج نے جلادیا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ کتابیں بہت بڑی تعداد میں ہیں تو اس نے 80 فیصد سے زائد کتابوں کو دریائے دجلہ میں بہادیا۔ تاریخی حوالہ جات سے پتا چلتا ہے کہ ان کتابوں کی سیاہی سے دجلہ کا پانی تین دن تک سیاہ رہا تھا۔

1492 میں اسپین میں ازابیلا اور فریڈرک کی سربراہی میں جب مسلمانوں کا قتل عام ہوا تو سات سال بعد مسلمانوں کی نشانیوں کو ختم کرنے کا اختتام غرناطہ کی سب سے بڑی لائبریری کو جلا کر مسلمانوں کے تعلیمی زوال پر آخری ضرب لگائی جس کی ابتدا المنصور نے دسویں صدی عیسوی میں کی تھی۔ اس کے بعد سے آج تک مسلمان تعلیم کی دوڑ میں سب سے پیچھے ہیں۔ نہ کوئی خوارزمی پیدا ہوا اور نہ ہی کوئی ابن سینا۔ یہ ہے ہماری وہ تلخ اور بھیانک تاریخ جس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج اسلامی معاشرے میں الخوارزمی کے بجائے شدت پسند جنم لے رہے ہیں، ابن سینا جیسے محقیقین کے بجائے غلام ابن غلام پیدا ہو رہے ہیں، اور انسانیت سے محبت کرنے والوں کے بجائے انتہا پسند۔ ہمیں اپنے معاشرے میں لائبریریاں بنانی ہوں گی، لوگوں میں پڑھنے کا شوق پیدا کرنا ہوگا۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جب تک کتابیں محفوظ نہیں ہوں گی، تب تک علم کی روشنی نہیں پھیلے گی؛ اور جب علم کی روشنی نہیں پھیلے گی تو ہر سو جہالت اور ظلمت کا دور دورہ ہوگا، تکفیر کے فتوے ہوں گے یا اپنی اپنی شریعت کے نعرے۔

رہا اساتذہ کا مقام، تو حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا، اس نے مجھے اپنا غلام بنالیا۔ مگر یہاں استاد کی حیثیت ایک نوکر، ایک چاکر سے زیادہ نہیں؛ چاہے وہ اسکول ٹیچر ہو یا پھر مدرسے کا معلم۔ یہ آج اسلامی معاشرے کا سب سے پسا ہوا طبقہ ہے اور اوپر سے غیر محفوظ بھی۔ یقین کیجیے کہ جب تک کتابیں، لائبریریاں، اسکول اور یونیورسٹیاں محفوظ نہیں ہوں گی، اس وقت تک یہ قوم ترقی کے میدان میں بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔

مجھے خدشہ ہے کہ کہیں ہم اور ہماری قوم بھی کتابوں کی اس راکھ میں غرق نہ ہوجائیں کیونکہ ہمیں نہ ہی تتلیوں سے پیار ہے اور نہ پھولوں سے؛ اور لائبریریوں کا حال یہ ہے کہ آخری بار لائبریری کب گئے، یاد نہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post پھول، تتلیاں اور لائبریری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2EK6b6C
via IFTTT

No comments:

Post a Comment