Thursday, May 30, 2019

سرکلر ریلوے غریبوں کی خوشحالی یا بربادی؟ ایکسپریس اردو

کسی بھی ملک یا شہر کی ترقی اس کے ذرائع نقل وحمل کی ترقی سے مشروط ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے اس جانب توجہ دیتے ہوئے مٹی، ریت اور پتھر کی سڑکوں کو 1851 میں بندر روڈ کے علاقے سے پختہ کرنے کا آغاز کیا اور پھر ان پر گاڑیاں چلائیں، تاکہ لوگوں کو سفری سہولت مہیا ہوسکے۔ لوگوں کو مزید سہولتیں مہیا کرنے کے لیے 1861 میں کراچی چھاؤنی اسٹیشن (جسے آج کینٹ اسٹیشن کہا جاتا ہے) سے کراچی تا کوٹری تک ٹرین چلانے کا آغاز کیا۔ جبکہ اندرون شہر لوگوں کو سفری سہولیات بہم پہنچانے کے لیے 1885 سے ٹرام چلائی گئیں۔

جب پاکستان بن گیا تو ایوب خان کے دور حکومت میں سرکلر ٹرین چلانے کا آغاز کیا گیا۔ جس کے تحت کراچی سٹی پلیٹ فارم نمبر 5، 6 کراچی پورٹریٹ، وزیر مینشن، لیاری، سائٹ کورنگی، ناظم آباد، لیاقت آباد، گیلانی، اردو کالج، ڈرگ روڈ، لانڈھی، ملیر میں قائم لگ بھگ 24 اسٹیشنوں سے لاکھوں لوگ صرف 25 پیسے میں 43.2 کلومیٹر تک کا سفر طے کیا کرتے تھے، جسے 1999 میں خسارے کا بہانہ بناکر اچانک بند کردیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری آفس میں دو رکنی بینچ نے ایک بار پھر اس سرکلر ریلوے کو بحال کرنے کا حکم دے ڈالا۔ مگر اس حکم نامے میں ماضی میں عدالت سے ہی ہونے والے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی کہ 15 روز کے اندر سرکلر ٹرین کے ٹریکس اور اسٹیشنوں سے تجاوزات کا خاتمہ کرکے ایک ماہ کے اندر سرکلر ٹرین کو بھی بحال کیا جائے۔ واضح رہے کہ سرکلر ٹرین کی راہ میں رکاوٹ اور تجاوزات پختہ گھروں، دکانوں کی صورت میں موجود ہیں۔

شاید پاکستان ریلوے پہلے سے ہی اس حکم کی منتظر تھی، لہٰذا اس نے بنا سوچے سمجھے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں فوری طور پر، اردو سائنس کالج کے عقب میں واقع وہ ٹریکس، جو کہ کراچی یونیورسٹی تک جاتے تھے، بغیر کسی نوٹس کے بھاری مشینری اور پولیس کی بھاری نفری اور شہری انتظامیہ کے ساتھ مل کر تجاوزات پر دھاوا بول دیا۔ اور وہ مکین جو عرصہ دراز سے یہاں آباد تھے اور انہوں نے اپنی تمام جمع پونجی سے گھر تعمیر کیے تھے، ان کی تعمیرات کو مسمار کر ڈالا۔ جس کے بعد روزے دار خواتین اور بچے بے گھر ہوکر سخت دھوپ میں کھلے آسمان تلے آگئے۔ ہر طرف آہ و بکا مچی ہوئی تھی مگر ان کی سننے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ سیکڑوں کی تعداد میں بنے کچے پکے گھروندے مسمار ہوگئے اور لوگوں کے پاس اس اقدام کے خلاف سینہ کوبی کے سوا کچھ بھی نہ بچا۔ آئندہ تجاوزات قائم نہ کرنے اور جھگیاں قائم کرنے سے روکنے کےلیے پولیس کی موبائل بھی ان پر مسلط کردی گئی۔

سیاسی جماعتیں جن کا شیوہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا موقع آئے اور وہ اپنی سیاسی دکانداری چمکائیں، مگر اس اقدام پر کسی نے بھی آواز بلند کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ جس سے ریلوے حکام اور شہری انتظامیہ کے حوصلے بلند ہوگئے اور انہوں نے عدالتی حکم کی بجاآوری کےلیے دوسرے اور تیسرے دن گیلانی اسٹیشن سے غریب آباد، جہاں پہلے ہی فرنیچر مارکیٹ کو مسمار کیا جاچکا تھا، دوبارہ آپریشن کرتے ہوئے سیکڑوں کی تعداد میں تجاوزات کے نام پر گھروں کو اجاڑ دیا اور یہ آپریشن جو کہ مسلسل 13 روز سے جاری ہے، موسیٰ کالونی سمیت تمام غریب بستیوں پر بلڈوزر چلا دیئے گئے۔

دنیا بھر میں جب ریلوے کا نظام آیا تو اس کے قوانین بھی بنے اور اسی قانون کے تحت ریلوے ٹریکس اور آبادی کے درمیان 100 فٹ کا فاصلہ مقرر کیا گیا اور اسی عالمی قانون کے تحت برصغیر میں 1861 میں کراچی سے کوٹری تک ٹرین چلائی گئی تو اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جاتا رہا۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں اس عالمی قانون کی پابندی برقرار رکھی گئی، مگر جب 14 اگست 1947 کو ملک وجود میں آیا تو کچھ عرصے بعد ہی ریلوے کی کرپٹ انتظامیہ نے اس قانون کی پاسداری چھوڑ دی۔ جس کے باعث آبادیاں ریلوے ٹریکس پر چڑھ دوڑیں اور ریلوے ٹریکس اور آبادی کے درمیان فاصلے کم ہوگئے۔ اس سلسلے میں کراچی میں بھی اس قانون کی مکمل طور پر پاسداری نہیں کی جاسکی۔ جس کے بعد ٹریکس اور آبادی کے درمیان فاصلہ ختم ہوکر رہ گیا۔

جب کراچی سرکلر ٹرین کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم جاری کیا گیا تو ریلوے نے اس حوالے سے ریلوے اسٹیشن اور ٹریکس (جو کہ 43.2 کلومیٹر پر محیط ہے) کا سروے کیا۔ جس کے مطابق 37 مقامات پر ریلوے ٹریکس اور آبادی میں مقرر کردہ قانون، جو کہ 100 فٹ تھا، ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ کوکا کولا کمپنی اور ٹریکس کے درمیان کا فاصلہ 100 فٹ کے بجائے صرف 20 فٹ رہ گیا ہے، ہنڈا موٹرز ٹریکس سے 5 فٹ، گودام 20، سیمنس کمپنی 15، سندباد پلے لینڈ 35، مہک گارڈن 60، نیشنل بینک اسٹیٹ لائف 60، سٹی ہائی اسکول 30، سپر پلازہ 60، ونڈر ٹاور 40، پروگریسیو پلازہ 60، بیومنٹ 60، پاک کیمیکل 25، آرمی سپلائی ڈپو 60، عظمیٰ اپارٹمنٹ 60، الحبیب پرائیڈ 60، عوامی مرکز 43، نیشنل موٹرز 30 اور منیلا شاپنگ سینٹر پر 40 فٹ فاصلہ رہ گیا ہے۔

ان 37 مقامات میں سے تمام عمارتیں، فیکٹریاں عالمی قوانین کے برخلاف ریلوے ٹریکس سے انتہائی نزدیک ہوچکی ہیں، مگر اس کے باوجود پاکستان ریلوے کی جانب سے ان ملٹی نیشنل اداروں اور پلازوں کے خلاف اب تک کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی اور صرف غریب آبادیوں کو تختۂ مشق بنایا گیا۔

جہاں تک آپریشن اور غریبوں کو بے گھر کرکے سرکلر ریلوے چلانے کی بات ہے، تو بھی شہر بھر میں سرکلر ریلوے کی مکمل بحالی ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ بیشتر ٹریکس کے نزدیک بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں قائم ہیں۔ جبکہ کئی جگہوں، جن میں میٹرک بورڈ آفس کے قریب گرین لائن کے پل کو گزارا گیا ہے۔ اب یا تو اس جگہ کو پھر سے بحال کرنے کےلیے گرین لائن کے منصوبے کو ختم کرنا پڑے گا یا پھر سرکلر ریلوے کو گزارنے کےلیے انڈر پاس بنانا پڑے گا۔ جس کے لیے اربوں کے اخراجات صرف ہوں گے، جس کے امکانات کم ہیں۔ مگر اس کے باوجود ریلوے حکام اس بات کے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں کہ وہ سرکلر ٹرین کو جلد بحال کردیں گے۔

اسی قسم کے بلند بانگ دعوے ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد بھی کررہے ہیں۔ یہ وہی وفاقی وزیر ریلوے ہیں جنہوں نے چند ماہ قبل کراچی تا دھابیجی ایک ٹرین دھابیجی ایکسپریس کے نام سے شروع کی تھی، جو کہ چند ہی ماہ میں فیل ہوگئی تھی اور بالآخر اسے بند کرنا پڑگیا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا بھی یہ ہے کہ سرکلر ریلوے کی بحالی کوئی آسان کام نہیں ہے۔

اگر کچھ دیر کے لیے اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ پاکستان ریلوے اس سرکلر ٹرین کو چلانے میں کامیاب ہوجاتی ہے، تو کیا اس کے پاس ماضی کی طرح اتنے وسائل ہیں کہ وہ ہر ایک گھنٹے بعد سرکلر ٹرین چلاسکے؟

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سرکلر ٹرین چلانے کی ذمے داری سندھ حکومت پر ڈال رہے ہیں اورصوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سرکلر ٹرین چلانے کے لیے وفاق کو ذمے دار قرار دے رہے ہیں۔ ان حالات میں جب وفاق اور سندھ ابھی تک اس بات کا فیصلہ ہی نہیں کرپائے کہ سرکلر ٹرین کون سی حکومت آپریٹ کرے گی تو پھر سرکلر کی بحالی پر کون یقین کرسکتا ہے؟

یہ خبر بھی پڑھئے: سندھ حکومت کا بھی کراچی سرکلر ریلوے چلانے سے انکار

ماضی میں بھی یہ غریب بستیاں قائم تھیں اور ان کے درمیان سے ناصرف ملک کے اندر جانے والی ٹرینیں بلکہ سرکلر ٹرینیں بھی چلا کرتی تھیں، جس میں کبھی کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ لہٰذا سرکلر ٹرین چلانے کی آڑ لے کر غریبوں کو ان کے گھروں سے بے دخل ہونے سے روکا جائے۔ اگر ریلوے ٹریکس اور آبادی کے درمیان فاصلے کی بات کی جائے تو اس سلسلے میں عالمی قانون کے مطابق اس کا فاصلہ کم از کم 100 فٹ ہے، لہٰذا صرف ان غریبوں کی رہائش ہی نہیں بلکہ سرمایہ داروں کی کوٹھیوں، فلیٹوں اور ملٹی نیشنل کمپنیز کو بھی مسمار کیا جائے، ورنہ یہ غریبوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی۔

بلاشبہ سرکلر ٹرین کا منصوبہ محنت کشوں کو سفری سہولت مہیا کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے ناصرف عوام کو سستی سواری ملے گی بلکہ سڑکوں سے ٹریفک کا اژدہام ختم ہوگا۔ غریبوں کو نقصان پہنچائے بغیر اس منصوبے پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post سرکلر ریلوے غریبوں کی خوشحالی یا بربادی؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2XhUXO2
via IFTTT

No comments:

Post a Comment