Thursday, May 2, 2019

پب جی (PUBG) کے سائے تلے ایکسپریس اردو

’’کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب، پڑھو گے لکھو گے تو بنو گے نواب،‘‘ یہ گزرے زمانے کی بات ہے۔ بزرگ کہتے تھے کہ پڑھو لکھو اور نواب بن جاؤ، آج کا دور کہتا ہے کہ کھیلو کودو اور نواب بن جاؤ۔ اب یہ کھیل کسی بھی قسم کا ہوسکتا ہے۔ آپ پی ایس ایل کا ایک سیزن کھیل لیجیے، لکشمی دیوی آپ کے آگے سجدہ ریز ہوجائے گی۔ ایک سیزن کا لاکھوں روپیہ، اب بھلا کون ڈگریوں کےلیے برسوں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی خاک چھانے؟ گیند بلا خریدو اور نواب بننے کےلیے تیار ہوجاؤ! آپ کا کسی فٹبال لیگ سے معاہدہ سے ہوجائے تو عزت، شہرت اور دولت آپ کا پیچھا کرتے ہوئے نظر آئیں گی۔ آپ پروفیشنل باکسر ہیں، باسکٹ بال پلیئر ہیں یا پھر ایک چھڑی کی مدد سے رنگی برنگی گیندوں کو مختلف سوراخوں میں ڈالنے والے کھیل اسنوکر کے کھلاڑی ہیں۔ یہ تمام کھیل آپ کو اتنا کچھ ضرور دے جاتے ہیں کہ آپ سمیت آپ کی ایک نسل آسانی کے ساتھ گھر بیٹھ کر کھاسکتی ہے۔ کرکٹ اور فٹبال کے کچھ کھلاڑی ایسے ہیں جن کی دولت کا کوئی شمار ہی نہیں۔

شہرت ملنے کے ساتھ آپ کو مختلف ایڈورٹائزنگ کمپنیاں مختلف برانڈز کی تشہیر کےلیے بھی استعمال کرنا شروع کردیتی ہیں اور اس کےلیے بھاری معاوضہ ادا کیا جاتا ہے؛ اور پھر صورت حال یہ ہوتی ہے کہ آپ کی انگلیاں گھی میں اور سر کڑاھی میں ہوتا ہے۔ یہ ان کھیلوں کی بات ہے جن میں ذہنی اور جسمانی مشقت بھی بہت کرنا ہوتی ہے؛ ایک طویل جدوجہد کے بعد آپ کوئی مقام حاصل کرتے ہیں۔

اب زمانہ بڑا ہی جدید ہوگیا ہے۔ یہ ڈیجیٹائزڈ دنیا ہے جس نے ہم سے بہت کچھ چھین لیا ہے۔ اسمارٹ فون نے ہمیں کتاب سے لے کر اخبار تک سے دور کردیا ہے۔ کسی آرام دہ کرسی یا اپنے بستر پر لیٹ کر کوئی کتاب یا اخبار پڑھنے کا لطف شاید ہمارے بعد آنے والی نسلیں نہ جانیں۔ سب کچھ آپ کی انگلیوں میں سمٹ کر آگیا ہے۔ چار دوستوں کے ساتھ فرشی نشست میں لوڈو کھیلنے کا مزہ بھی آن لائن لوڈو نے غارت کردیا ہے۔ پٹھوگرم، برف پانی، پکڑم پکڑائی، کھوکھو جیسے روایتی کھیل ناپید ہوگئے ہیں اور اب ان کی جگہ لے لی ہے مختلف اقسام کے لاتعداد آن لائن گیمز نے جو آپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ آن لائن گیمز بنانے والوں نے ایسے ایسے گیمز تخلیق کردیئے ہیں کہ نوجوان نسل ان کی شیدائی ہی نہیں بلکہ ان کے نشے کا شکار ہوچکی ہے۔

کچھ عرصہ قبل ’’بلیو وہیل‘‘ نامی گیم کا بڑا چرچا تھا۔ اس آن لائن گیم نے دنیا بھر میں نجانے کتنے نوجوانوں کی زندگی لے لی۔ والدین بھی ایک خوف کے عالم میں رہنے لگے تھے کہ کہیں ان کے بچے تو یہ گیم کھیلنے میں مصروف نہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ گیمز بنانے والے چاہتے کیا ہیں؟ اس طرح کے گیمز تخلیق کرکے نوجوان نسل کو کس طرف لے جایا جارہا ہے؟

ابھی اس بلیو وہیل کے آسیب سے نکلے ہی تھے کہ تخلیق کاروں نے ’’پب جی‘‘ کے نام سے ایک نیا شاہکار تخلیق کردیا۔

’’پب جی‘‘ اس وقت دنیا کا سب سے مقبول آن لائن گیم ہے۔ بیک لاکھوں افراد دنیا بھر میں اسے کھیلنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اس گیم کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گیم کو آپ یوٹیوب اور فیس بک پر لائیو نشر بھی کرسکتے ہیں۔ اس لیے جب لاکھوں افراد اس گیم کو کھیل رہے ہوتے ہیں تو اتنے ہی تماشائی اسے سوشل میڈیا کے ذریعے دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں۔

اس گیم میں 100 کھلاڑی ہوتے ہیں جو اپنے مشن کو مکمل کرنے کےلیے لوٹ مار کرکے اسلحہ اور دیگر اشیاء حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کےلیے ایک جزیرے میں یہ ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آخر میں جو کھلاڑی بچ جاتا ہے، وہ اس گیم کا فاتح کہلاتا ہے۔

’’پب جی‘‘ نے دنیا میں اپنے سائے اس طرح پھیلا لیے ہیں کہ شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوگا جہاں کے نوجوانوں کو اس میں دلچسپی نہیں ہوگی۔ گزشتہ سال ’’پب جی‘‘ کا ایک عالمی مقابلہ بھی منعقد ہوا تھا جس میں جیتنے والے کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے کے انعامات سے نوازا گیا۔ اس مقابلے کے بعد ’’پب جی‘‘ کھیلنے والوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ لڑکوں سے زیادہ یہ گیم لڑکیوں میں پسند کیا جاتا ہے۔ اب مہندی لگانے اور چوڑیاں پہننے والی لڑکیاں گیمز کے اندر لوگوں کو ٹھکانے لگاتے پھریں گی تو پھر آپ خود سوچیے کل کی یہ مائیں آنے والی نسلوں کو کیا تربیت دیں گی؟ ’’پب جی‘‘ نے نوجوانوں کو اپنے سحر میں اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ بھارت میں ایک بچے نے اس بات پر خودکشی کرلی کہ اس کے والدین نے اسے گیم کھیلنے سے منع کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھارت میں اس گیم پر پابندی کےلیے مہم چلائی جارہی ہے جبکہ دیگر کئی ممالک بھی ’’پب جی‘‘ کو ممنوع قرار دینے کےلیے سوچ بچار کررہے ہیں۔

کھیلوں کی سرگرمیوں کو معاشرے کےلیے انتہائی مثبت سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کسی ملک کے نوجوان ’’پب جی، بلیو وہیل، تین پتی‘‘ اور ان جیسے دیگر آن لائن گیمز میں اپنا وقت برباد کرنے لگیں تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔ کسی گیم کو اپنے اوپر اس طرح حاوی کرلینا کہ آپ کو اس کے علاوہ کچھ اور نظر ہی نہ آئے، آپ کو نفسیاتی مسائل سے دوچار کرسکتا ہے۔

نوجوان نسل کو اس طرح کے کھیلوں میں حصہ لینا چاہیے جن سے ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما ہوسکے۔ اس طرح آن لائن گیمز ان کی ذہنی صلاحیتوں کو محدود کررہے ہیں اور اس طرح کے گیمز ذہن کو متشدد بنانے میں بھی مددگار ہیں۔ کہتے ہیں کہ سانحہ کرائسٹ چرچ میں ملوث دہشت گرد نے بھی ’’پب جی‘‘ گیم کی طرز پر مسجد میں لوگوں کا قتل عام کیا اور اسے فیس بک پر لائیو بھی دکھایا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے ذمہ دار حلقے اس حوالے سے نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔ بصورت دیگر ’’پب جی‘‘ کی دہشت کے سائے تلے پروان چڑھنے والی یہ نسل ہمیں اندھیرے غاروں میں دھکیل سکتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post پب جی (PUBG) کے سائے تلے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2DUDnrN
via IFTTT

No comments:

Post a Comment